<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 03:13:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 03:13:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نگراں حکومت نے پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر کیلئے خصوصی ٹربیونل قائم کر دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30364164/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نگراں وفاقی حکومت نے پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر سے متعلق قانونی مسائل کو تیزی سے حل کرنے کے لیے خصوصی ٹربیونل یعنی ٹیلی کمیونیکیشن اپیلٹ ٹربیونل قائم کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر ایک ویڈیو پیغام میں نگراں انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے وزیر ڈاکٹر عمر سیف نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ٹیلی کمیونیکیشن اپیلٹ ٹریبونل قائم کیا گیا ہے جس کا گزٹ نوٹیفیکیشن کردیا گیا ہے، ٹربیونل کے قیام کے لیے ٹیلی کام ایکٹ میں ترامیم کی منظوری صدر مملکت نے دے دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/MoitOfficial/status/1742828649537998884"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر عمر سیف کے مطابق پارلیمنٹ کی عدم موجودگی میں صدارتی آرڈیننس کے تحت ٹیلی کام ٹریبونل کام کرے گا، ان کا کہنا تھا کہ ٹریبونل کا قیام ٹیلی کام سیکٹر کا دیرینہ مطالبہ تھا اس اقدام سے انڈسٹری کو بڑا ریلیف ملے گا اور التوا کا شکار متعدد کیسز فوری نمٹائے جاسکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نگراں وزیر آئی ٹی نے مزید کہا کہ وزارت قانون آرڈیننس کے مطابق ٹریبونل کے چیئرپرسن و اراکین کی نامزدگی کرے گی، ٹریبونل کا چیئرپرسن صرف ہائیکورٹ کے جج یا 15 سال کے تجربہ کے حامل وکیل کو بنایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ٹریبونل میں 2 ارکان ٹیکنوکریٹس ہوں گے، جن کی تعداد میں وقت کے لحاظ سے کمی یا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30352366"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرعمر سیف نے کہا کہ پی ٹی اے کے فیصلے کے خلاف ٹیلی کام آپریٹرز کی منظور شدہ اپیلوں پرٹیلی کام ٹریبونل 90 روز میں فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اس سے قبل پی ٹی اے اور ٹیلی کام آپریٹرز میں کسی بھی قسم کے آپریشنل یا سروسز تنازعہ پر کوئی بھی فریق ہائی کورٹ سے رجوع کیا کرتا تھا جس سے معاملات غیر ضروری طوالت کا شکار ہوجاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیلی کام ٹریبونل کا قیام ایسے معاملات و تنازعات کو فوری طور پر خوش اسلوبی سے نمٹانے میں بڑی معاونت فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نگراں وفاقی حکومت نے پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر سے متعلق قانونی مسائل کو تیزی سے حل کرنے کے لیے خصوصی ٹربیونل یعنی ٹیلی کمیونیکیشن اپیلٹ ٹربیونل قائم کردیا۔</strong></p>
<p>جمعرات کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر ایک ویڈیو پیغام میں نگراں انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کے وزیر ڈاکٹر عمر سیف نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ٹیلی کمیونیکیشن اپیلٹ ٹریبونل قائم کیا گیا ہے جس کا گزٹ نوٹیفیکیشن کردیا گیا ہے، ٹربیونل کے قیام کے لیے ٹیلی کام ایکٹ میں ترامیم کی منظوری صدر مملکت نے دے دی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/MoitOfficial/status/1742828649537998884"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈاکٹر عمر سیف کے مطابق پارلیمنٹ کی عدم موجودگی میں صدارتی آرڈیننس کے تحت ٹیلی کام ٹریبونل کام کرے گا، ان کا کہنا تھا کہ ٹریبونل کا قیام ٹیلی کام سیکٹر کا دیرینہ مطالبہ تھا اس اقدام سے انڈسٹری کو بڑا ریلیف ملے گا اور التوا کا شکار متعدد کیسز فوری نمٹائے جاسکیں گے۔</p>
<p>نگراں وزیر آئی ٹی نے مزید کہا کہ وزارت قانون آرڈیننس کے مطابق ٹریبونل کے چیئرپرسن و اراکین کی نامزدگی کرے گی، ٹریبونل کا چیئرپرسن صرف ہائیکورٹ کے جج یا 15 سال کے تجربہ کے حامل وکیل کو بنایا جاسکتا ہے۔ اسی طرح ٹریبونل میں 2 ارکان ٹیکنوکریٹس ہوں گے، جن کی تعداد میں وقت کے لحاظ سے کمی یا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30352366"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ڈاکٹرعمر سیف نے کہا کہ پی ٹی اے کے فیصلے کے خلاف ٹیلی کام آپریٹرز کی منظور شدہ اپیلوں پرٹیلی کام ٹریبونل 90 روز میں فیصلہ کرنے کا پابند ہوگا۔</p>
<p>واضح رہے کہ اس سے قبل پی ٹی اے اور ٹیلی کام آپریٹرز میں کسی بھی قسم کے آپریشنل یا سروسز تنازعہ پر کوئی بھی فریق ہائی کورٹ سے رجوع کیا کرتا تھا جس سے معاملات غیر ضروری طوالت کا شکار ہوجاتے تھے۔</p>
<p>ٹیلی کام ٹریبونل کا قیام ایسے معاملات و تنازعات کو فوری طور پر خوش اسلوبی سے نمٹانے میں بڑی معاونت فراہم کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30364164</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Jan 2024 20:01:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/01/041959071786bc3.jpg?r=195934" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/01/041959071786bc3.jpg?r=195934"/>
        <media:title>فوٹو۔۔۔۔۔۔۔ اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
