<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 17:43:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 17:43:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین یورپ تجارتی جنگ، معاملہ الیکٹرک کاروں سے شراب تک جا پہنچا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30364359/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;الیکٹرک کاروں کے حوالے سے چین اور یورپ کے درمیان جاری کشیدگی نے شدت اختیار کرلی ہے۔ معاملہ الیکٹرک کاروں سے ہوتا ہوا اب شراب تک آ پہنچا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کی بیشتر حکومتوں نے چین کی سستی الیکٹرک کاروں کی درآمد روکنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔ ایک طرف ٹیرف بڑھایا جارہا ہے اور دوسری طرف چین میں الیکٹرک کاریں بنانے والے اداروں کو سبسڈی دیے جانے کی اطلاعات پر یورپ میں بھی ایسے اداروں کے لیے رعایتوں کے بارے میں غور کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صورتِ حال کی نزاکت بھانپتے ہوئے چین نے بھی جوابی کارروائیاں شروع کرنے کی بھرپور تیاری کرلی ہے۔ پہلے قدم کے طور پر شراب کی درآمد محدود کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی حکومت نے یورپی یونین سے برانڈی اور شراب کی دیگر اقسام کی درآمد محدود کرنے اور شراب سازی کی ملکی صنعت کو فروغ دینے کے لیے نئی حکمتِ عملی تیار کی ہے۔ جنوری تا نومبر 2023 کے دوران چین نے یورپی یونین سے تقریباً ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کی برانڈی درآمد کی جبکہ اِسی مدت کے دوران یورپی یونین کے ممالک نے چین سے 12 ارب 70 کروڑ ڈالر کی الیکٹرک کاریں درآمد کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/157004"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور یورپ کو چینی معیشت کے غیر معمولی فروغ کی زد میں آنے سے بچانے کے لیے ٹیرف بڑھانے کی پالیسی اختیار کی تھی جس کے تحت چین پر ٹیرف کی مد میں کم و بیش 60 ارب ڈالر کا بوجھ ڈالا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیرف اس قدر بڑھائے جانے پر چینی حکومت خاصی جزبز ہوئی اور اس کے نتیجے میں بھرپور تجارتی جنگ چھڑنے کے حالات پیدا ہوگئے تاہم بعد میں فریقین نے چند معاملات بات چیت کے ذریعے طے کیے تاکہ مخاصمت کا ماحول ختم ہو اور کسی بھی فریق کو زیادہ نقصان کا سامنا نہ ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>الیکٹرک کاروں کے حوالے سے چین اور یورپ کے درمیان جاری کشیدگی نے شدت اختیار کرلی ہے۔ معاملہ الیکٹرک کاروں سے ہوتا ہوا اب شراب تک آ پہنچا ہے۔</strong></p>
<p>یورپی یونین کی بیشتر حکومتوں نے چین کی سستی الیکٹرک کاروں کی درآمد روکنے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے ہیں۔ ایک طرف ٹیرف بڑھایا جارہا ہے اور دوسری طرف چین میں الیکٹرک کاریں بنانے والے اداروں کو سبسڈی دیے جانے کی اطلاعات پر یورپ میں بھی ایسے اداروں کے لیے رعایتوں کے بارے میں غور کیا جارہا ہے۔</p>
<p>صورتِ حال کی نزاکت بھانپتے ہوئے چین نے بھی جوابی کارروائیاں شروع کرنے کی بھرپور تیاری کرلی ہے۔ پہلے قدم کے طور پر شراب کی درآمد محدود کرنے کی حکمتِ عملی اختیار کی جارہی ہے۔</p>
<p>چینی حکومت نے یورپی یونین سے برانڈی اور شراب کی دیگر اقسام کی درآمد محدود کرنے اور شراب سازی کی ملکی صنعت کو فروغ دینے کے لیے نئی حکمتِ عملی تیار کی ہے۔ جنوری تا نومبر 2023 کے دوران چین نے یورپی یونین سے تقریباً ایک ارب 60 کروڑ ڈالر کی برانڈی درآمد کی جبکہ اِسی مدت کے دوران یورپی یونین کے ممالک نے چین سے 12 ارب 70 کروڑ ڈالر کی الیکٹرک کاریں درآمد کیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/157004"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور یورپ کو چینی معیشت کے غیر معمولی فروغ کی زد میں آنے سے بچانے کے لیے ٹیرف بڑھانے کی پالیسی اختیار کی تھی جس کے تحت چین پر ٹیرف کی مد میں کم و بیش 60 ارب ڈالر کا بوجھ ڈالا گیا تھا۔</p>
<p>ٹیرف اس قدر بڑھائے جانے پر چینی حکومت خاصی جزبز ہوئی اور اس کے نتیجے میں بھرپور تجارتی جنگ چھڑنے کے حالات پیدا ہوگئے تاہم بعد میں فریقین نے چند معاملات بات چیت کے ذریعے طے کیے تاکہ مخاصمت کا ماحول ختم ہو اور کسی بھی فریق کو زیادہ نقصان کا سامنا نہ ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30364359</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Jan 2024 08:26:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/01/06082020bd68ed6.webp?r=082600" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/01/06082020bd68ed6.webp?r=082600"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
