<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 20 May 2026 15:16:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 20 May 2026 15:16:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فری لانسرز کی دیرینہ مانگ پوری، پے پال کے حوالے سے بڑی خوشخبری آگئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30364448/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نگراں حکومت نے فری لانسرز کی دیرینہ مانگ پوری کرتے ہوئے بین الاقوامی گیٹ وے ”پے پال“ کے ذریعے ترسیلات زر کی ترسیل قابل عمل بنانے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان نیوز کے مطابق، نگران وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن ڈاکٹر عمر سیف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی وزارت پاکستان کو ایک ”ٹیک ڈیسٹینیشن“ بنانے کے لیے پے پال کے ذریعے ترسیلات زر کو چینلائز کرنے سمیت اگلے ہفتے کئی ڈیجیٹل اقدامات شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹرعمر سیف نے کہا کہ پے پال پاکستان نہیں آ رہا، لیکن ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت ترسیلات زر کو تیسرے فریق (تھرڈ پارٹی) کے ذریعے پے پال سے چینلائز کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں باقاعدہ افتتاحی تقریب 11 جنوری کو مقرر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30352398"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے آئی ٹی اور ٹیلی کام سیکٹر کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کی باضابطہ برآمدات فی الحال 2.6 بلین ڈالر ہیں، لیکن اصل اعداد و شمار 5 بلین ڈالر کے لگ بھگ ہیں کیونکہ انڈسٹری کی مالیات کا بڑا حصہ ملک سے باہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ملک سے باہر موجود ان مالیات سے انڈسٹری غیر ملکی کلائنٹس کے ساتھ رکھے گئے اپنے بین الاقوامی ملازمین کی تنخواہیں ادا کرتی ہے اور گوگل، ایمیزون، لنکڈ ان وغیرہ جیسے پلیٹ فارمز پر کلاؤڈ ہوسٹنگ، مارکیٹنگ اور سیلز کے ماہانہ اخراجات اٹھائے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30301600"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ایس آئی ایف سی اور اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر ایک بڑی مداخلتی پالیسی پر کام کیا، جس سے آئی ٹی  کمپنیوں کو &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30352061"&gt;اپنی برآمدی آمدنی کا 50 فیصد پاکستان میں رکھنے&lt;/a&gt; اور اس رقم سے اپنے بین الاقوامی اخراجات بغیر کسی پابندی کے پورے کرنے کی اجازت دی گئی ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ آئی ٹی کمپنیاں اپنے ڈالر واپس گھر لانے لگی ہیں، اور ہماری ایکسپورٹ ریونیو میں ایک ماہ میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نگراں حکومت نے فری لانسرز کی دیرینہ مانگ پوری کرتے ہوئے بین الاقوامی گیٹ وے ”پے پال“ کے ذریعے ترسیلات زر کی ترسیل قابل عمل بنانے کا اعلان کیا ہے۔</strong></p>
<p>ڈان نیوز کے مطابق، نگران وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن ڈاکٹر عمر سیف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی وزارت پاکستان کو ایک ”ٹیک ڈیسٹینیشن“ بنانے کے لیے پے پال کے ذریعے ترسیلات زر کو چینلائز کرنے سمیت اگلے ہفتے کئی ڈیجیٹل اقدامات شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔</p>
<p>ڈاکٹرعمر سیف نے کہا کہ پے پال پاکستان نہیں آ رہا، لیکن ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت ترسیلات زر کو تیسرے فریق (تھرڈ پارٹی) کے ذریعے پے پال سے چینلائز کیا جائے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں باقاعدہ افتتاحی تقریب 11 جنوری کو مقرر ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30352398"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وفاقی وزیر نے آئی ٹی اور ٹیلی کام سیکٹر کی برآمدات کو بڑھانے کے لیے حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کی باضابطہ برآمدات فی الحال 2.6 بلین ڈالر ہیں، لیکن اصل اعداد و شمار 5 بلین ڈالر کے لگ بھگ ہیں کیونکہ انڈسٹری کی مالیات کا بڑا حصہ ملک سے باہر ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ملک سے باہر موجود ان مالیات سے انڈسٹری غیر ملکی کلائنٹس کے ساتھ رکھے گئے اپنے بین الاقوامی ملازمین کی تنخواہیں ادا کرتی ہے اور گوگل، ایمیزون، لنکڈ ان وغیرہ جیسے پلیٹ فارمز پر کلاؤڈ ہوسٹنگ، مارکیٹنگ اور سیلز کے ماہانہ اخراجات اٹھائے جاتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30301600"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وفاقی وزیر برائے ٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ایس آئی ایف سی اور اسٹیٹ بینک کے ساتھ مل کر ایک بڑی مداخلتی پالیسی پر کام کیا، جس سے آئی ٹی  کمپنیوں کو <a href="https://www.aaj.tv/news/30352061">اپنی برآمدی آمدنی کا 50 فیصد پاکستان میں رکھنے</a> اور اس رقم سے اپنے بین الاقوامی اخراجات بغیر کسی پابندی کے پورے کرنے کی اجازت دی گئی ہے‘۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ آئی ٹی کمپنیاں اپنے ڈالر واپس گھر لانے لگی ہیں، اور ہماری ایکسپورٹ ریونیو میں ایک ماہ میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30364448</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Jan 2024 15:00:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/01/06173532cdd0ba8.png" type="image/png" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/01/06173532cdd0ba8.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/01/06144002e3ffbfc.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/01/06144002e3ffbfc.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
