<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 20:16:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 20:16:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی انتخابی نشان اور پارٹی الیکشن کیس: ’الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیرقانونی ہے‘</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30365575/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پشاور ہائیکورٹ نے  پاکستان تحریک انصاف  انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کیس کا وجوہات کے ساتھ مختصر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;9 اور10 جنوری کی کارروائی اور وجوہات کے ساتھ 26 صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ جسٹس ارشد علی نے تحریر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ عدالت نے خود کو 2 سوالات تک محدود رکھا، پہلا سوال یہ ہے کہ کیا پشاور ہائیکورٹ میں کیس قابل سماعت ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی انتخابات پر فیصلہ کا اختیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں پہلے سوال کا جواب تحریر کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات خیبرپختونخوا میں ہوئے اور الیکشن کمیشن صوبے میں بھی ہے جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کیساتھ ساتھ پشاور ہائیکورٹ کے پاس بھی کیس سننے کا اختیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30365406"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے سوال کے جواب میں لکھا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 209 کے مطابق الیکشن کمیشن کے پاس اختیار نہیں اور اسی حوالے سے سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کو حوالہ بھی دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے کے خلاصے میں لکھا گیا ہے کہ سیاسی جماعت بنانا پاکستان کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور سیاسی جماعتوں کو سازگار ماحول بھی فراہم کیا جانا چاہیئے جبکہ انتخابی نشان کے تحت الیکشن لڑنے کا حق بھی حاصل ہے اور انتخابی نشان کے آئینی حق سے انکار نہیں کیا جا سکتا اس لیے الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیرقانونی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30365480/"&gt;پی ٹی آئی کو بلے کا نشان نہ ملا تو دنیا الیکشن تسلیم نہیں کرے گی، بیرسٹر گوہر&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پشاور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرکے 3 نکاتی مختصر فیصلہ دیا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیرقانونی ہے، پی ٹی آئی کا سرٹیفیکیٹ ویب سائٹ پر جاری کیا جائے اور پی ٹی آئی انتخابی نشان کی بھی حقدار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کے مطابق فیصلے کی مزید تفصیلی وجوہات اور وضاحت بعد میں دی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پشاور ہائیکورٹ نے  پاکستان تحریک انصاف  انٹرا پارٹی انتخابات اور انتخابی نشان کیس کا وجوہات کے ساتھ مختصر تحریری فیصلہ جاری کردیا۔</strong></p>
<p>9 اور10 جنوری کی کارروائی اور وجوہات کے ساتھ 26 صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ جسٹس ارشد علی نے تحریر کیا۔</p>
<p>فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ عدالت نے خود کو 2 سوالات تک محدود رکھا، پہلا سوال یہ ہے کہ کیا پشاور ہائیکورٹ میں کیس قابل سماعت ہے اور دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا الیکشن کمیشن کے پاس انٹرا پارٹی انتخابات پر فیصلہ کا اختیار ہے۔</p>
<p>فیصلے میں پہلے سوال کا جواب تحریر کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات خیبرپختونخوا میں ہوئے اور الیکشن کمیشن صوبے میں بھی ہے جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کی روشنی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کیساتھ ساتھ پشاور ہائیکورٹ کے پاس بھی کیس سننے کا اختیار ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30365406"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دوسرے سوال کے جواب میں لکھا گیا ہے کہ الیکشن ایکٹ کا سیکشن 209 کے مطابق الیکشن کمیشن کے پاس اختیار نہیں اور اسی حوالے سے سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کو حوالہ بھی دیا گیا ہے۔</p>
<p>فیصلے کے خلاصے میں لکھا گیا ہے کہ سیاسی جماعت بنانا پاکستان کے ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور سیاسی جماعتوں کو سازگار ماحول بھی فراہم کیا جانا چاہیئے جبکہ انتخابی نشان کے تحت الیکشن لڑنے کا حق بھی حاصل ہے اور انتخابی نشان کے آئینی حق سے انکار نہیں کیا جا سکتا اس لیے الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیرقانونی ہے۔</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30365480/">پی ٹی آئی کو بلے کا نشان نہ ملا تو دنیا الیکشن تسلیم نہیں کرے گی، بیرسٹر گوہر</a></p>
<p>پشاور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ پی ٹی آئی کی درخواست منظور کرکے 3 نکاتی مختصر فیصلہ دیا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ غیرقانونی ہے، پی ٹی آئی کا سرٹیفیکیٹ ویب سائٹ پر جاری کیا جائے اور پی ٹی آئی انتخابی نشان کی بھی حقدار ہے۔</p>
<p>عدالت کے مطابق فیصلے کی مزید تفصیلی وجوہات اور وضاحت بعد میں دی جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30365575</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Jan 2024 11:24:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (کامران علی)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/01/131122335d563d0.png?r=112245" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/01/131122335d563d0.png?r=112245"/>
        <media:title>فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
