<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:33:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:33:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی سپریم کورٹ میں کیس ہار گئی، بلے کا نشان واپس لے لیا گیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30365665/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ آف پاکستان نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انٹرا پارٹی انتخابات اور بلے کے انتخابی نشان سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر دوسرے  روز سماعت ہو ئی جو شام 7 بجے کے بعد بھی جاری رہی، جس کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محفوظ فیصلہ جو ساڑھے 9 بجے سنایا جانا تھا تاہم اس میں تاخیر ہوگئی اور رات سوا 11 بجے کے بعد کیس کا محفوظ فیصلہ سنادیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بینچ میں شامل تھیں، فیصلہ متفقہ طور پر سنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت عظمیٰ نے پی ٹی آئی کو بلے کا نشان بحال کرنے کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کی اپیل کو منظور کرلیا، فیصلے کے تحت پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لے لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/C8VJtarmDoI?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے تحریک انصاف کی درخواست مسترد کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے ہر رکن کے برابر حقوق ہیں، سیاسی جماعتیں انٹراپارٹی الیکشن کرانے کی پابند ہیں، پاکستان جمہوری نظام کے تحت وجود میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30365565"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="چیف-جسٹس-نے-فیصلہ-پڑھ-کر-سنایا" href="#چیف-جسٹس-نے-فیصلہ-پڑھ-کر-سنایا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;چیف جسٹس نے فیصلہ پڑھ کر سنایا&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کیس کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو انٹراپارٹی انتخابات کرانےکا نوٹس 2021  میں کیا، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو جون 2022  تک انتخابات کرانے کا وقت دیا،  الیکشن کمیشن نے 20 دن میں انتخابات کرانے کا کہا، بصورت دیگر انتخابی نشان لینے کا بتایا گیا، پی ٹی آئی کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ 5 رکنی بینچ بنا جو زیر التوا ہے، پی ٹی آئی نے دوبارہ انتخابات کرا کر بھی لاہور ہائی کورٹ میں اپنی درخواست واپس نہیں لی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کا کہنا ہےکہ  پشاور ہائیکورٹ نے 22 دسمبر تک پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی الیکشن   پر فیصلہ کرنے کو کہا، الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر کو کہا پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات درست نہیں کرائے، الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات درست نہ کرانے پر انتخابی نشان پی ٹی آئی سے لیا، لاہور ہائی کورٹ کے سنگل جج نے 3 جنوری کو فیصلہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا کہ  پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی نے درخواست دائر کرتے ہوئے نہیں بتایا کہ ایسی ہی درخواست لاہور  ہائیکورٹ میں 5  رکنی بینچ کے سامنے زیر التوا ہے، ایک معاملہ ایک ہائیکورٹ میں زیر التوا ہو تو  دوسری ہائی کورٹ میں نہیں چیلنج ہوسکتا،  پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن  پر امتیازی سلوک کا الزام لگایا، عدالتی استفسار پر بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے 13جماعتوں کے انتخابی نشان لیے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی نے انتخابات نہیں کرائے، پی ٹی آئی کے14 اراکین کی درخواست یہ کہہ کر ہائیکورٹ نے مسترد کی کہ وہ ممبران ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30365575"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="پاکستان-جمہوریت-سے-وجود-میں-آیا-آمریت-نہیں-چل-سکتی-سپریم-کورٹ" href="#پاکستان-جمہوریت-سے-وجود-میں-آیا-آمریت-نہیں-چل-سکتی-سپریم-کورٹ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;پاکستان جمہوریت سے وجود میں آیا، آمریت نہیں چل سکتی، سپریم کورٹ&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان جمہوریت سے  وجود میں آیا، پاکستان میں آمریت نہیں چل سکتی، ثابت نہیں ہوتا کہ پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی انتخابات کرائے، پاکستان میں سیاسی  جماعتوں کو  انٹراپارٹی انتخابات کرانا ہوتے ہیں، پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کو نہیں بتایا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کہاں کرا رہے ہیں،  پشاور ہائیکورٹ کا الیکشن ایکٹ کے سیکشن 215 کو  برا کہنا ان کے سامنے درخواست سے تجاوز  تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی کے رہنما &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30365671/"&gt;بیرسٹر گوہر نے اپنے ردعمل&lt;/a&gt; میں کہا کہ پارٹی کے امیدوار آزاد لڑیں گے جب کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ فیصلہ ایسے وقت پر آیا جب انتخابی نشانات الاٹ کرنے کا کام مکمل ہو چکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/C8VJtarmDoI?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ آف پاکستان نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے بلے کا انتخابی نشان واپس لے لیا۔</strong></p>
<p>سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انٹرا پارٹی انتخابات اور بلے کے انتخابی نشان سے متعلق پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف الیکشن کمیشن کی اپیل پر دوسرے  روز سماعت ہو ئی جو شام 7 بجے کے بعد بھی جاری رہی، جس کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔</p>
<p>محفوظ فیصلہ جو ساڑھے 9 بجے سنایا جانا تھا تاہم اس میں تاخیر ہوگئی اور رات سوا 11 بجے کے بعد کیس کا محفوظ فیصلہ سنادیا گیا۔</p>
<p>کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کی، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بینچ میں شامل تھیں، فیصلہ متفقہ طور پر سنایا گیا۔</p>
<p>عدالت عظمیٰ نے پی ٹی آئی کو بلے کا نشان بحال کرنے کا پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کی اپیل کو منظور کرلیا، فیصلے کے تحت پی ٹی آئی سے بلے کا نشان واپس لے لیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/C8VJtarmDoI?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے تحریک انصاف کی درخواست مسترد کردی۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کے ہر رکن کے برابر حقوق ہیں، سیاسی جماعتیں انٹراپارٹی الیکشن کرانے کی پابند ہیں، پاکستان جمہوری نظام کے تحت وجود میں آیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30365565"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<h2><a id="چیف-جسٹس-نے-فیصلہ-پڑھ-کر-سنایا" href="#چیف-جسٹس-نے-فیصلہ-پڑھ-کر-سنایا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>چیف جسٹس نے فیصلہ پڑھ کر سنایا</h2>
<p>چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کیس کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔</p>
<p>سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو انٹراپارٹی انتخابات کرانےکا نوٹس 2021  میں کیا، الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو جون 2022  تک انتخابات کرانے کا وقت دیا،  الیکشن کمیشن نے 20 دن میں انتخابات کرانے کا کہا، بصورت دیگر انتخابی نشان لینے کا بتایا گیا، پی ٹی آئی کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ 5 رکنی بینچ بنا جو زیر التوا ہے، پی ٹی آئی نے دوبارہ انتخابات کرا کر بھی لاہور ہائی کورٹ میں اپنی درخواست واپس نہیں لی۔</p>
<p>سپریم کورٹ کا کہنا ہےکہ  پشاور ہائیکورٹ نے 22 دسمبر تک پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی الیکشن   پر فیصلہ کرنے کو کہا، الیکشن کمیشن نے 22 دسمبر کو کہا پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی انتخابات درست نہیں کرائے، الیکشن کمیشن نے انٹراپارٹی انتخابات درست نہ کرانے پر انتخابی نشان پی ٹی آئی سے لیا، لاہور ہائی کورٹ کے سنگل جج نے 3 جنوری کو فیصلہ دیا۔</p>
<p>فیصلے میں کہا گیا کہ  پشاور ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی نے درخواست دائر کرتے ہوئے نہیں بتایا کہ ایسی ہی درخواست لاہور  ہائیکورٹ میں 5  رکنی بینچ کے سامنے زیر التوا ہے، ایک معاملہ ایک ہائیکورٹ میں زیر التوا ہو تو  دوسری ہائی کورٹ میں نہیں چیلنج ہوسکتا،  پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن  پر امتیازی سلوک کا الزام لگایا، عدالتی استفسار پر بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن نے 13جماعتوں کے انتخابی نشان لیے، الیکشن کمیشن نے کہا کہ پی ٹی آئی نے انتخابات نہیں کرائے، پی ٹی آئی کے14 اراکین کی درخواست یہ کہہ کر ہائیکورٹ نے مسترد کی کہ وہ ممبران ہی نہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30365575"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<h2><a id="پاکستان-جمہوریت-سے-وجود-میں-آیا-آمریت-نہیں-چل-سکتی-سپریم-کورٹ" href="#پاکستان-جمہوریت-سے-وجود-میں-آیا-آمریت-نہیں-چل-سکتی-سپریم-کورٹ" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>پاکستان جمہوریت سے وجود میں آیا، آمریت نہیں چل سکتی، سپریم کورٹ</h2>
<p>فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان جمہوریت سے  وجود میں آیا، پاکستان میں آمریت نہیں چل سکتی، ثابت نہیں ہوتا کہ پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی انتخابات کرائے، پاکستان میں سیاسی  جماعتوں کو  انٹراپارٹی انتخابات کرانا ہوتے ہیں، پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کو نہیں بتایا کہ انٹرا پارٹی انتخابات کہاں کرا رہے ہیں،  پشاور ہائیکورٹ کا الیکشن ایکٹ کے سیکشن 215 کو  برا کہنا ان کے سامنے درخواست سے تجاوز  تھا۔</p>
<p>پی ٹی آئی کے رہنما <a href="https://www.aaj.tv/news/30365671/">بیرسٹر گوہر نے اپنے ردعمل</a> میں کہا کہ پارٹی کے امیدوار آزاد لڑیں گے جب کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل کی جائے گی۔</p>
<p>تاہم یہ فیصلہ ایسے وقت پر آیا جب انتخابی نشانات الاٹ کرنے کا کام مکمل ہو چکا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/C8VJtarmDoI?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30365665</guid>
      <pubDate>Sun, 14 Jan 2024 00:12:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/01/132319132f63680.jpg?r=231920" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/01/132319132f63680.jpg?r=231920"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
