<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:33:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:33:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت نے جدید ڈرون طیارہ بنانے کاسب سے بڑا منصوبہ بند کردیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30365910/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت نے جدید ڈرون طیارہ بنانے کا سب سے بڑا  منصوبہ بند کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی جانب سے آپریشنل فوجی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکامی کے بعد اسٹریٹجک جاسوسی اور نگرانی کے لیے جدید ترین ڈرون طیارہ (یو اے وی) تیار کرنے کے اپنے سب سے بڑے منصوبے کو  بند کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ  فروری 2011 میں 1650 کروڑ روپے کی ابتدائی لاگت سے پہلی بار اس پروجیکٹ کی منظوری دی گئی تھی، تاہم اعلیٰ حکومتی ذرائع نے اس پروجیکٹ کو  بند کرنے کی تصدیق کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈین میڈیا کا کہنا ہے کہ پروجیکٹ کو بند کرنے سے جدید دور کی جنگ کے اس اہم میدان میں مقامی صلاحیتوں کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی آر ڈی او کے تاپس پروجیکٹ کے لئے ابتدائی ڈیڈ لائن اگست 2016 تھی، لیکن کئی تکنیکی مسائل اور لاگت میں اضافے کی وجہ سے منصوبہ طول پکڑتا گیا اور بالآخر اسے بند کرنا پڑ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30314313"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا کہ ’تپس مقررہ اونچائی پر پرواز کرنے اور آپریشنل کے لحاظ سے ضروری پی ایس کیو آر کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔ یہ 28,000 فٹ کی اونچائی پر صرف 18 گھنٹے کی پرواز ہی کرنے کے قابل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/258905"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی حکومتی ذرائع کے مطابق  درمیانی اونچائی پر چلنے والا ریموٹ پائلٹ طیارہ 30 ہزار فٹ کی بلندی پر کم از کم 24 گھنٹے تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈی آر ڈی او اب اس طرح کے یو اے وی کو دوبارہ ڈیزائن کرنے اور دوبارہ تیار کرنے پر غور کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈین میڈیا کے مطابق تپس پروجیکٹ کے بند ہونے سے کچھ تنازعات پیدا ہوئے ہیں، کچھ حلقوں کا دعویٰ ہے کہ مقامی کوششوں کو ناکام بنانے کے اس اقدام کے پیچھے ذاتی مفادات کا ہاتھ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت نے جدید ڈرون طیارہ بنانے کا سب سے بڑا  منصوبہ بند کردیا ہے۔</strong></p>
<p>بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی جانب سے آپریشنل فوجی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکامی کے بعد اسٹریٹجک جاسوسی اور نگرانی کے لیے جدید ترین ڈرون طیارہ (یو اے وی) تیار کرنے کے اپنے سب سے بڑے منصوبے کو  بند کیا۔</p>
<p>بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ  فروری 2011 میں 1650 کروڑ روپے کی ابتدائی لاگت سے پہلی بار اس پروجیکٹ کی منظوری دی گئی تھی، تاہم اعلیٰ حکومتی ذرائع نے اس پروجیکٹ کو  بند کرنے کی تصدیق کردی ہے۔</p>
<p>انڈین میڈیا کا کہنا ہے کہ پروجیکٹ کو بند کرنے سے جدید دور کی جنگ کے اس اہم میدان میں مقامی صلاحیتوں کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔</p>
<p>ڈی آر ڈی او کے تاپس پروجیکٹ کے لئے ابتدائی ڈیڈ لائن اگست 2016 تھی، لیکن کئی تکنیکی مسائل اور لاگت میں اضافے کی وجہ سے منصوبہ طول پکڑتا گیا اور بالآخر اسے بند کرنا پڑ گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30314313"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارتی میڈیا نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے مزید بتایا کہ ’تپس مقررہ اونچائی پر پرواز کرنے اور آپریشنل کے لحاظ سے ضروری پی ایس کیو آر کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔ یہ 28,000 فٹ کی اونچائی پر صرف 18 گھنٹے کی پرواز ہی کرنے کے قابل تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/258905"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارتی حکومتی ذرائع کے مطابق  درمیانی اونچائی پر چلنے والا ریموٹ پائلٹ طیارہ 30 ہزار فٹ کی بلندی پر کم از کم 24 گھنٹے تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ڈی آر ڈی او اب اس طرح کے یو اے وی کو دوبارہ ڈیزائن کرنے اور دوبارہ تیار کرنے پر غور کرے گا۔</p>
<p>انڈین میڈیا کے مطابق تپس پروجیکٹ کے بند ہونے سے کچھ تنازعات پیدا ہوئے ہیں، کچھ حلقوں کا دعویٰ ہے کہ مقامی کوششوں کو ناکام بنانے کے اس اقدام کے پیچھے ذاتی مفادات کا ہاتھ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30365910</guid>
      <pubDate>Mon, 15 Jan 2024 19:30:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/01/15192131c2620f6.png?r=192804" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/01/15192131c2620f6.png?r=192804"/>
        <media:title>فوٹو ۔۔۔ ٹائمز آف انڈیا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
