<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 08:22:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 08:22:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی پلان سی کی سرگوشیاں تیز، مخصوص نشستیں بھی لینے کا منصوبہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30366008/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پی ٹی آئی کے امیدوار بلے اور بلے باز کے انتخابات نشانات سے محروم ہوئے تو پارٹی نے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا جس کے تحت پارٹی سے تعلق رکھنے والے آزاد امیدواروں سے متعلق معلومات ایک جگہ جمع کی جائیں گی۔ اس پلان سی کے حوالے سے سرگوشیاں تیز ہوگئی ہیں اور مخصوص نشستیں حاصل کرنے کی حکمت عملی پر بھی بات ہو رہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پلان سی مکمل طور پر سوشل میڈیا کی حد تک ہے اور پارٹی کے کسی بڑے سیاسی رہنما کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی ٹی آئی نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر اتوار کے روز بتایا تھا کہ کیسے پارٹی سے تعلق رکھنے والے &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30365731"&gt;تمام آزاد امیدواروں کی تفصیلات ایک ویب پورٹل پر مہیا&lt;/a&gt; کی جائیں گی جہاں کوئی بھی ووٹر اپنے حلقے سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کو تلاش کر سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پارٹی امیدواروں کو سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے باوجود وہ انفرادی طور پر ہی منتخب ہونے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پی ٹی آئی اسمبلیوں کی مخصوص نشستوں سے محروم ہی رہے گی جو صرف سیاسی جماعتوں کو ان کے کامیاب امیدواروں کی تعداد کے تناسب سے ملتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہذا پی ٹی آئی کے حلقوں میں اب پلان سی کے ایک اگلے مرحلے کی بات کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30365629"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مرحلے میں پی ٹی ائی کے امیدوار الیکشن جیتنے کے بعد کسی دوسری جماعت میں شامل ہو جائیں گے۔ چونکہ اس سیاسی جماعت کے اراکین کی تعداد بڑھ جائے گی تو اسے مخصوص نشستوں میں حصہ بھی زیادہ ملے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سیاسی جماعت پی ٹی آئی حامیوں کے مطابق مجلس وحدت المسلمین ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجلس وحدت المسلمین کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے علامہ راجا ناصر عباس کی قیادت میں پی ٹی آئی کے بیرسٹر گوہر سے تقریباً ایک ماہ قبل ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کی تصاویر اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پلان سی کے حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ مجلس وحدت المسلمین کے بجائے پی ٹی آئی کے منتخب اراکین جے یو آئی شیرانی گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں تاہم اس حوالے سے دعوے اس وقت دم توڑ گئے جب شیر افضل مروت نے بتایا کہ رؤف حسن نے شیرانی گروپ کے ساتھ اتحاد ختم کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض حلقوں میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار بالآخر پیپلز پارٹی میں شامل ہو جائیں گے اور اس کے نتیجے میں نواز شریف کے وزیراعظم بننے کا منصوبہ ادھورا رہ جائے گا۔ تاہم عمران خان نے حالیہ دنوں جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کے امکان کو مسترد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30365606"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جماعت میں شمولیت کے حوالے سے پی ٹی آئی امیدواروں کے پاس ایک آپشن جماعت اسلامی بھی ہے جس کے رہنما گاہے بگاہے اس سے ہمدردی ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ تازہ ترین واقعے میں جماعت اسلامی کے حافظ نعیم نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے انٹرپارٹی انتخابات کی بھی کڑی جانچ کی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل پلان بی کے تحت پی ٹی آئی نے تحریک انصاف نظریاتی سے معاہدہ کیا تھا کہ دونوں جماعتیں مل کر الیکشن لڑیں گی۔&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30365646/"&gt;معاہدے کی شرائط&lt;/a&gt; کے تحت تمام امور پر عمران خان کا کنٹرول ہونا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پی ٹی آئی کے امیدوار بلے اور بلے باز کے انتخابات نشانات سے محروم ہوئے تو پارٹی نے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا جس کے تحت پارٹی سے تعلق رکھنے والے آزاد امیدواروں سے متعلق معلومات ایک جگہ جمع کی جائیں گی۔ اس پلان سی کے حوالے سے سرگوشیاں تیز ہوگئی ہیں اور مخصوص نشستیں حاصل کرنے کی حکمت عملی پر بھی بات ہو رہی ہے۔</strong></p>
<p>تاہم پلان سی مکمل طور پر سوشل میڈیا کی حد تک ہے اور پارٹی کے کسی بڑے سیاسی رہنما کی جانب سے اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔</p>
<p>پی ٹی آئی نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر اتوار کے روز بتایا تھا کہ کیسے پارٹی سے تعلق رکھنے والے <a href="https://www.aaj.tv/news/30365731">تمام آزاد امیدواروں کی تفصیلات ایک ویب پورٹل پر مہیا</a> کی جائیں گی جہاں کوئی بھی ووٹر اپنے حلقے سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کو تلاش کر سکے گا۔</p>
<p>تاہم پارٹی امیدواروں کو سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے باوجود وہ انفرادی طور پر ہی منتخب ہونے ہیں۔ اس کے نتیجے میں پی ٹی آئی اسمبلیوں کی مخصوص نشستوں سے محروم ہی رہے گی جو صرف سیاسی جماعتوں کو ان کے کامیاب امیدواروں کی تعداد کے تناسب سے ملتی ہیں۔</p>
<p>لہذا پی ٹی آئی کے حلقوں میں اب پلان سی کے ایک اگلے مرحلے کی بات کی جا رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30365629"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس مرحلے میں پی ٹی ائی کے امیدوار الیکشن جیتنے کے بعد کسی دوسری جماعت میں شامل ہو جائیں گے۔ چونکہ اس سیاسی جماعت کے اراکین کی تعداد بڑھ جائے گی تو اسے مخصوص نشستوں میں حصہ بھی زیادہ ملے گا۔</p>
<p>یہ سیاسی جماعت پی ٹی آئی حامیوں کے مطابق مجلس وحدت المسلمین ہو سکتی ہے۔</p>
<p>مجلس وحدت المسلمین کے ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے علامہ راجا ناصر عباس کی قیادت میں پی ٹی آئی کے بیرسٹر گوہر سے تقریباً ایک ماہ قبل ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کی تصاویر اب سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔</p>
<p>پلان سی کے حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ مجلس وحدت المسلمین کے بجائے پی ٹی آئی کے منتخب اراکین جے یو آئی شیرانی گروپ میں شامل ہو سکتے ہیں تاہم اس حوالے سے دعوے اس وقت دم توڑ گئے جب شیر افضل مروت نے بتایا کہ رؤف حسن نے شیرانی گروپ کے ساتھ اتحاد ختم کردیا ہے۔</p>
<p>بعض حلقوں میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی کے آزاد امیدوار بالآخر پیپلز پارٹی میں شامل ہو جائیں گے اور اس کے نتیجے میں نواز شریف کے وزیراعظم بننے کا منصوبہ ادھورا رہ جائے گا۔ تاہم عمران خان نے حالیہ دنوں جیل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کے امکان کو مسترد کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30365606"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دوسری جماعت میں شمولیت کے حوالے سے پی ٹی آئی امیدواروں کے پاس ایک آپشن جماعت اسلامی بھی ہے جس کے رہنما گاہے بگاہے اس سے ہمدردی ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ تازہ ترین واقعے میں جماعت اسلامی کے حافظ نعیم نے الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے انٹرپارٹی انتخابات کی بھی کڑی جانچ کی جائے۔</p>
<p>اس سے قبل پلان بی کے تحت پی ٹی آئی نے تحریک انصاف نظریاتی سے معاہدہ کیا تھا کہ دونوں جماعتیں مل کر الیکشن لڑیں گی۔<a href="https://www.aaj.tv/news/30365646/">معاہدے کی شرائط</a> کے تحت تمام امور پر عمران خان کا کنٹرول ہونا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30366008</guid>
      <pubDate>Tue, 16 Jan 2024 13:16:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/01/1613145905c0f66.webp?r=131536" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/01/1613145905c0f66.webp?r=131536"/>
        <media:title>عمران خان اور گوہر خان۔ فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
