<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 00:17:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 00:17:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت نے مستعفی ججز کیخلاف کارروائی نہ ہونے کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کردی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30367111/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے مستعفی ججز کے خلاف کارروائی نہ کیے جانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے ریٹائرڈ یا مستعفی ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی روکے جانے کے سپریم کورٹ کے عافیہ شہر بانو کیس کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپیل میں جوڈیشل کونسل اور رجسٹرار سپریم کورٹ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا، جس میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ اصول طے کرے کسی جج کے مستعفی ہونے کے باوجود کونسل کارروائی جاری رکھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں کہا گیا کہ سابق جج اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے عافیہ شہر بانو ضیا کیس کا فیصلہ دیا تھا جس میں قرار دیا گیا تھا کہ کوئی جج مستعفی ہو جائے یا ریٹائرڈ ہو جائے تو کونسل کارروائی نہیں کرسکتی، 27 جون 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30365090"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں مزی کہا گیا کہ وفاقی حکومت مرکزی کیس میں درخواست گزار نہیں تھی،  سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ اگر عدالت کے فیصلے سے کوئی فریق متاثر ہو تو وہ اپیل دائر کرنے کا حق رکھتا ہے،  جج کی پینشن اور مرات وفاقی حکومت نے جاری کرنا ہوتی ہیں اس لیے وفاقی حکومت اپیل دائر کر سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے مستعفی ججز کے خلاف کارروائی نہ کیے جانے کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کردی۔</strong></p>
<p>حکومت نے ریٹائرڈ یا مستعفی ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی روکے جانے کے سپریم کورٹ کے عافیہ شہر بانو کیس کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی۔</p>
<p>اپیل میں جوڈیشل کونسل اور رجسٹرار سپریم کورٹ سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا، جس میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ اصول طے کرے کسی جج کے مستعفی ہونے کے باوجود کونسل کارروائی جاری رکھ سکتی ہے۔</p>
<p>درخواست میں کہا گیا کہ سابق جج اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے عافیہ شہر بانو ضیا کیس کا فیصلہ دیا تھا جس میں قرار دیا گیا تھا کہ کوئی جج مستعفی ہو جائے یا ریٹائرڈ ہو جائے تو کونسل کارروائی نہیں کرسکتی، 27 جون 2023 کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30365090"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>درخواست میں مزی کہا گیا کہ وفاقی حکومت مرکزی کیس میں درخواست گزار نہیں تھی،  سپریم کورٹ قرار دے چکی ہے کہ اگر عدالت کے فیصلے سے کوئی فریق متاثر ہو تو وہ اپیل دائر کرنے کا حق رکھتا ہے،  جج کی پینشن اور مرات وفاقی حکومت نے جاری کرنا ہوتی ہیں اس لیے وفاقی حکومت اپیل دائر کر سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30367111</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Jan 2024 22:02:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/01/23172517f388985.jpg?r=172541" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/01/23172517f388985.jpg?r=172541"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
