<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 11:12:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 11 Apr 2026 11:12:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دنیا کا خاتمہ کتنا نزدیک؟ قیامت کی گھڑی سیٹ کردی گئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30367276/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سائنس دانوں نے ڈومز ڈے کلاک (قیامت کی گھڑی)  منگل 23 جنوری 2024 کو اپ ڈیٹ کردی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کھڑی دراصل ماہرین کا دنیا کے خاتمے سے متعلق اندازہ ہےجسے گذشتہ سال آدھی رات ہونے میں 90 سیکنڈز کم پر سیٹ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ پر اسرائیل کی بمباری، یوکرین پر روس کی لشکر کشی اور روس کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے خدشے کی بنیاد پر سائنس دانوں نے ڈومز ڈے گھڑی کو حسبِ روایت آدھی رات کے نزدیک رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلیٹن آف دی ایٹمک سائنٹسٹس کے مطابق دنیا وہاں کھڑی ہے جہاں سے مکمل خاتمے کی منزل زیادہ دور نہیں  ان کا کہنا ہے کہ جب منٹ کا کانٹا آدھی رات سے 90 سیکنڈ کی دوسری پر پہنچے گا تو اسے دنیا کا خاتمہ تصورکیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30314132"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک زمانے سے سائنس فطری علوم و فنون میں پیش رفت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں، ماحول کو پہنچنے والے نقصان اور فکر و نظر میں پیدا ہونے والی گراوٹ کی بنیاد پر ڈومز ڈے گھڑی کی سیٹنگ کا تعین کرتے آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلیٹن کے صدر اور سی ای او رچل برونسن کا کہنا ہے کہ ایک طرف سیاسی اضطراب کے نتیجے میں عسکریت پسندی بڑھ رہی ہے، مسلح تصادم میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف قدرتی ماحول میں رونما ہونے والی منفی تبدیلیاں معاملات کو مزید خطرناک بنارہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈومز ڈے کلاک 1947 سے چلایا جارہا ہے جس کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو ہر طرح کے گراوٹ سے خبردار کرنا اور ایسے اقدامات کی تحریک دینا ہے جن سے دنیا بھر میں قدرتی ماحول کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سائنس دانوں نے ڈومز ڈے کلاک (قیامت کی گھڑی)  منگل 23 جنوری 2024 کو اپ ڈیٹ کردی۔</strong></p>
<p>یہ کھڑی دراصل ماہرین کا دنیا کے خاتمے سے متعلق اندازہ ہےجسے گذشتہ سال آدھی رات ہونے میں 90 سیکنڈز کم پر سیٹ کیا گیا تھا۔</p>
<p>غزہ پر اسرائیل کی بمباری، یوکرین پر روس کی لشکر کشی اور روس کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے خدشے کی بنیاد پر سائنس دانوں نے ڈومز ڈے گھڑی کو حسبِ روایت آدھی رات کے نزدیک رکھا ہے۔</p>
<p>بلیٹن آف دی ایٹمک سائنٹسٹس کے مطابق دنیا وہاں کھڑی ہے جہاں سے مکمل خاتمے کی منزل زیادہ دور نہیں  ان کا کہنا ہے کہ جب منٹ کا کانٹا آدھی رات سے 90 سیکنڈ کی دوسری پر پہنچے گا تو اسے دنیا کا خاتمہ تصورکیا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30314132"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک زمانے سے سائنس فطری علوم و فنون میں پیش رفت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی پیچیدگیوں، ماحول کو پہنچنے والے نقصان اور فکر و نظر میں پیدا ہونے والی گراوٹ کی بنیاد پر ڈومز ڈے گھڑی کی سیٹنگ کا تعین کرتے آئے ہیں۔</p>
<p>بلیٹن کے صدر اور سی ای او رچل برونسن کا کہنا ہے کہ ایک طرف سیاسی اضطراب کے نتیجے میں عسکریت پسندی بڑھ رہی ہے، مسلح تصادم میں اضافہ ہو رہا ہے اور دوسری طرف قدرتی ماحول میں رونما ہونے والی منفی تبدیلیاں معاملات کو مزید خطرناک بنارہی ہیں۔</p>
<p>ڈومز ڈے کلاک 1947 سے چلایا جارہا ہے جس کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو ہر طرح کے گراوٹ سے خبردار کرنا اور ایسے اقدامات کی تحریک دینا ہے جن سے دنیا بھر میں قدرتی ماحول کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30367276</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jan 2024 15:47:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/01/24151543775566d.webp?r=151712" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/01/24151543775566d.webp?r=151712"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
