<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 13:51:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 13:51:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بٹر چکن کس نے ایجاد کی ؟ پاکستانی خاندان کے مقدمے کا فیصلہ بھارتی عدالت کرے گی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30367333/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بٹر چکن کا شمار بھارت کے مشہور ترین پکوانوں میں ہوتا ہے تاہم یہ ڈش کس کی ایجاد ہے اس کے لئے دو فریق عدالت پہنچ گئے۔ ایک فریق نے دعویٰ کیا کہ  یہ ڈش اس وقت ایجاد کی گئی تھی جب ان کے آباؤ اجداد پاکستان میں تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ مقدمہ دہلی کے مشہور ریسٹورنٹ برانڈ موتی محل کے خاندان کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ریسٹورنٹ کا دعویٰ ہے کہ  آنجہانی امریکی صدر رچرڈ نکسن اور بھارتی پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو ا ن کے مہمانوں میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ  ریسٹورنٹ کے بانی کندن لال گجرال نے 1930 کی دہائی میں جب پشاور میں ریسٹورنٹ کھولا تھا تو اس وقت پہلی بار یہ ڈش بنائی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت میں دائر درخواست2752 صفحات پر مشتمل تھی۔ جس میں  حریف ہوٹلوں کی چین دریا گنج کے خلاف کیس دائر  کرتے ہوئے  الزام لگایا گیا  کہ اس نے اس ڈش کے ساتھ  دال مکھنی کی ایجاد کا بھی جھوٹا دعویٰ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30367061"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موتی محل کے خاندان نے اپنے حریف کیخلاف  دو لاکھ 40,000 ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کرتے ہوئے یہ الزام بھی لگایا کہ  دریا گنج نے موتی محل کی ویب سائٹ اور اس کے ریسٹورنٹ کی نقل کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موتی محل کے منیجنگ ڈائریکٹر منیش گجرال نے کہا، کہ آپ کسی کی وراثت نہیں چھین سکتے،  یہ ڈش اس وقت ایجاد کی گئی تھی جب ہمارے آباؤ اجداد پاکستان میں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30366480"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2019 میں قائم ریسٹونٹ ”دریا گنج“ نے جوابی دلیل میں  کہا کہ ان کے مرحوم خاندان کے رکن کندن لال جگی نے 1947 میں گجرال کے ساتھ مل کر دہلی کا ریسٹورنٹ کھولا تھا، اور یہ ڈش وہیں ایجاد ہوئی تھی۔ اس سے انہیں بھی یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ ڈش کی تخلیق کا دعویٰ کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریا گنج نے روئٹرز کے ساتھ 1949 میں رجسٹرڈ پارٹنرشپ کی ہاتھ سے لکھی گئی دستاویز شیئر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیس کی پہلی سماعت پچھلے ہفتے دہلی ہائی کورٹ نے کی تھی اور اگلی سماعت مئی میں شیڈول ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بٹر چکن کا شمار بھارت کے مشہور ترین پکوانوں میں ہوتا ہے تاہم یہ ڈش کس کی ایجاد ہے اس کے لئے دو فریق عدالت پہنچ گئے۔ ایک فریق نے دعویٰ کیا کہ  یہ ڈش اس وقت ایجاد کی گئی تھی جب ان کے آباؤ اجداد پاکستان میں تھے۔</strong></p>
<p>خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ مقدمہ دہلی کے مشہور ریسٹورنٹ برانڈ موتی محل کے خاندان کی جانب سے دائر کیا گیا تھا۔</p>
<p>اس ریسٹورنٹ کا دعویٰ ہے کہ  آنجہانی امریکی صدر رچرڈ نکسن اور بھارتی پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو ا ن کے مہمانوں میں شامل ہیں۔</p>
<p>درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ  ریسٹورنٹ کے بانی کندن لال گجرال نے 1930 کی دہائی میں جب پشاور میں ریسٹورنٹ کھولا تھا تو اس وقت پہلی بار یہ ڈش بنائی تھی۔</p>
<p>عدالت میں دائر درخواست2752 صفحات پر مشتمل تھی۔ جس میں  حریف ہوٹلوں کی چین دریا گنج کے خلاف کیس دائر  کرتے ہوئے  الزام لگایا گیا  کہ اس نے اس ڈش کے ساتھ  دال مکھنی کی ایجاد کا بھی جھوٹا دعویٰ کیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30367061"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>موتی محل کے خاندان نے اپنے حریف کیخلاف  دو لاکھ 40,000 ڈالر ہرجانے کا دعویٰ دائر کرتے ہوئے یہ الزام بھی لگایا کہ  دریا گنج نے موتی محل کی ویب سائٹ اور اس کے ریسٹورنٹ کی نقل کی ہے۔</p>
<p>موتی محل کے منیجنگ ڈائریکٹر منیش گجرال نے کہا، کہ آپ کسی کی وراثت نہیں چھین سکتے،  یہ ڈش اس وقت ایجاد کی گئی تھی جب ہمارے آباؤ اجداد پاکستان میں تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30366480"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>2019 میں قائم ریسٹونٹ ”دریا گنج“ نے جوابی دلیل میں  کہا کہ ان کے مرحوم خاندان کے رکن کندن لال جگی نے 1947 میں گجرال کے ساتھ مل کر دہلی کا ریسٹورنٹ کھولا تھا، اور یہ ڈش وہیں ایجاد ہوئی تھی۔ اس سے انہیں بھی یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ ڈش کی تخلیق کا دعویٰ کر سکیں۔</p>
<p>دریا گنج نے روئٹرز کے ساتھ 1949 میں رجسٹرڈ پارٹنرشپ کی ہاتھ سے لکھی گئی دستاویز شیئر کی۔</p>
<p>کیس کی پہلی سماعت پچھلے ہفتے دہلی ہائی کورٹ نے کی تھی اور اگلی سماعت مئی میں شیڈول ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30367333</guid>
      <pubDate>Wed, 24 Jan 2024 23:38:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رویئٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/01/24225001fe9a33d.webp?r=230252" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/01/24225001fe9a33d.webp?r=230252"/>
        <media:title>دریا گنج ریسٹورنٹ کے سی ای او امیت بگا بٹر چکن ڈش اور دال مکھنی دکھا رہے ہیں۔ فوٹو۔۔ روئٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
