<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 13:31:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 13:31:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی میں خواتین امیدواروں کو ٹکٹ دینے میں مذہبی سیاسی جماعتیں ناکام</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30367511/</link>
      <description>&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/0MfczT7EUvM?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عام انتخابات میں جنرل نشستوں پر پانچ فیصد ٹکٹس خواتین امیدواروں کو دینے کی شرط نے سیاسی جماعتوں کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیاسی جماعتیں خواتین کے حقوق کی دعوے دار تو ہیں لیکن  8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے کراچی میں  خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے کوئی پیشرفت نظر نہیں آتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جماعت اسلامی اور تحریک لبیک نے کسی خاتون کو ٹکٹ جاری نہیں کیاہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جماعت اسلامی کا شعبہ خواتین خاصا فعال مانا جاتا ہے لیکن کسی خاتون امیدوار کو انتخابی میدان میں نہیں اتارا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے یوآئی نے ایک خاتون امیدوار کو ٹکٹ جاری کیا ہے مگر وہ اپنی انتخابی مہم شروع نہیں کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پیپلزپارٹی، ن لیگ اور جے یوآئی کی جانب سے خواتین کو ایسے حلقوں پر امیدوار بنایا گیا ہے جہاں ان کی جیت کے امکانات کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم کیوایم نے کی جانب سے 3 خواتین کو ٹکٹس جاری کیے گئے جن میں این اے 229 سے فوزیہ حمید، اور این اے 232 سے آسیہ اسحاق نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیپلزپارٹی نے 5 خواتین کو ٹکٹ جاری کیے ہیں جن میں شاہدہ رحمانی اور شمیم ممتاز اپنے حلقوں میں ووٹرز سے رابطے بڑھانے میں خاصی سرگرم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسلم لیگ نے کراچی میں خواتین کو سب سے زیادہ 9 ٹکٹس جاری کیے مگر اس کے لیے ایسے  حلقوں کا انتخاب کیا جہاں پارٹی کا کوئی خاص اثرورسوخ نظر نہیں آتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/0MfczT7EUvM?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p><strong>عام انتخابات میں جنرل نشستوں پر پانچ فیصد ٹکٹس خواتین امیدواروں کو دینے کی شرط نے سیاسی جماعتوں کو الجھن میں ڈال دیا ہے۔</strong></p>
<p>سیاسی جماعتیں خواتین کے حقوق کی دعوے دار تو ہیں لیکن  8 فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے کراچی میں  خواتین کی نمائندگی کے حوالے سے کوئی پیشرفت نظر نہیں آتی۔</p>
<p>جماعت اسلامی اور تحریک لبیک نے کسی خاتون کو ٹکٹ جاری نہیں کیاہے۔</p>
<p>جماعت اسلامی کا شعبہ خواتین خاصا فعال مانا جاتا ہے لیکن کسی خاتون امیدوار کو انتخابی میدان میں نہیں اتارا گیا۔</p>
<p>جے یوآئی نے ایک خاتون امیدوار کو ٹکٹ جاری کیا ہے مگر وہ اپنی انتخابی مہم شروع نہیں کر سکیں۔</p>
<p>دوسری جانب پیپلزپارٹی، ن لیگ اور جے یوآئی کی جانب سے خواتین کو ایسے حلقوں پر امیدوار بنایا گیا ہے جہاں ان کی جیت کے امکانات کم ہیں۔</p>
<p>ایم کیوایم نے کی جانب سے 3 خواتین کو ٹکٹس جاری کیے گئے جن میں این اے 229 سے فوزیہ حمید، اور این اے 232 سے آسیہ اسحاق نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیا گیا ہے۔</p>
<p>پیپلزپارٹی نے 5 خواتین کو ٹکٹ جاری کیے ہیں جن میں شاہدہ رحمانی اور شمیم ممتاز اپنے حلقوں میں ووٹرز سے رابطے بڑھانے میں خاصی سرگرم ہیں۔</p>
<p>مسلم لیگ نے کراچی میں خواتین کو سب سے زیادہ 9 ٹکٹس جاری کیے مگر اس کے لیے ایسے  حلقوں کا انتخاب کیا جہاں پارٹی کا کوئی خاص اثرورسوخ نظر نہیں آتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30367511</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Jan 2024 09:24:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/01/260916510f51941.png?r=091710" type="image/png" medium="image" height="504" width="798">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/01/260916510f51941.png?r=091710"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
