<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 00:33:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 00:33:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مائیکروسافٹ نے گیمنگ کے شعبے سے 1900 ملازمین برطرف کردیئے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30367532/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فارغ کیے جانے والے ملازمین کا تعلق ایکس باکس اور بلزرڈ گیمنگ ڈویژن سے ہے۔ ان میں متعدد سینیر ایگزیکٹیوز بھی شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ برس ہزاروں ملازمین کو فارغ کرنے کے مائیکروسوفٹ نے نئی چھانٹیوں کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روزنامہ انڈیا ٹوڈے نے ایک رپورٹ میں کہا کہ لگتا ہے چھانٹیوں کا موسم پلٹ آیا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کے شعبے کے بہت سے کلیدی ادارے بڑی تعداد میں ملازمین کو فارغ کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکروسوفٹ نے گیمنگ ڈویژن میں اپنی ورک فورس میں کم و بیش 8 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ چھانٹیاں اِسی فیصلے کے تحت کی گئی ہیں۔ ادارہ اندرونی ساخت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متعارف کرا رہا ہے۔ اس ڈویژن میں سرِدست 22 ہزار ملازمین ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکروسوفٹ گیمنگ ڈویژن نے چھانٹی کے عمل کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے اس ناگزیر بھی قرار دیا ہے۔ تلوار بڑوں پر بھی گری ہے۔ بلزرڈ کے صدر مائیک بیارا بھی رخصت ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30361944"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یبارا نے مائیکروسوفٹ کے لیے کم وبیش 20 سال کام کیا ہے اور بلزرڈ کی ترقی میں ان کا غیر معمولی قائدانہ کردار رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکروسوفٹ گیم کونٹینت اینڈ اسٹوڈیوز کے صدر میٹ بوتی نے کہا ہے کہ بلزرڈ کے نئے صدر کا تقرر اگلے ہفتے ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فارغ کیے جانے والے ملازمین کا تعلق ایکس باکس اور بلزرڈ گیمنگ ڈویژن سے ہے۔ ان میں متعدد سینیر ایگزیکٹیوز بھی شامل ہیں۔</strong></p>
<p>گزشتہ برس ہزاروں ملازمین کو فارغ کرنے کے مائیکروسوفٹ نے نئی چھانٹیوں کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>روزنامہ انڈیا ٹوڈے نے ایک رپورٹ میں کہا کہ لگتا ہے چھانٹیوں کا موسم پلٹ آیا ہے کیونکہ ٹیکنالوجی کے شعبے کے بہت سے کلیدی ادارے بڑی تعداد میں ملازمین کو فارغ کر رہے ہیں۔</p>
<p>مائیکروسوفٹ نے گیمنگ ڈویژن میں اپنی ورک فورس میں کم و بیش 8 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ چھانٹیاں اِسی فیصلے کے تحت کی گئی ہیں۔ ادارہ اندرونی ساخت میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متعارف کرا رہا ہے۔ اس ڈویژن میں سرِدست 22 ہزار ملازمین ہیں۔</p>
<p>مائیکروسوفٹ گیمنگ ڈویژن نے چھانٹی کے عمل کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے اس ناگزیر بھی قرار دیا ہے۔ تلوار بڑوں پر بھی گری ہے۔ بلزرڈ کے صدر مائیک بیارا بھی رخصت ہوگئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30361944"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یبارا نے مائیکروسوفٹ کے لیے کم وبیش 20 سال کام کیا ہے اور بلزرڈ کی ترقی میں ان کا غیر معمولی قائدانہ کردار رہا ہے۔</p>
<p>مائیکروسوفٹ گیم کونٹینت اینڈ اسٹوڈیوز کے صدر میٹ بوتی نے کہا ہے کہ بلزرڈ کے نئے صدر کا تقرر اگلے ہفتے ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30367532</guid>
      <pubDate>Fri, 26 Jan 2024 11:13:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/01/261112408ced5ed.webp?r=111324" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/01/261112408ced5ed.webp?r=111324"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
