<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 02:49:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 02:49:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حوثی ملیشیا کے حملے، چین کی ہمت جواب دے گئی؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30367753/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غزہ پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں یمن کی ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے بحیرہ احمر میں اسرائیل اور اسے تعلق رکھنے والے مال بردار جہازوں پر حملے تیز کردیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثی ملیشیا نے امریکا اور برطانیہ کے جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ اس حوالے سے بحیرہ احمر میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ غیرمحفوظ جہاز رانی کے باعث اب بہت سے ممالک اور کمپنیوں نے اپنے جہازوں کو متبادل راستوں سے گزارنا شروع کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل سے کسی بھی طرح کا تعلق رکھنے والے جہازوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ صاف کہہ چکے ہیں کہ کسی اور ملک کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس کے باوجود چین نے معاملات کی سنگینی کے پیش نظر ایران سے رابطہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کا کہنا ہے کہ چین نے ایران سے رابطہ کرکے کہا ہے کہ وہ حوثیوں کو تجارتی جہازوں پر حملے روکنے کا کہے کیونکہ اس کے نتیجے میں عالمی تجارت شدید تاثر ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30365569"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی حکام نے ایرانی قیادت سے کہا ہے کہ حوثیوں کے حملے سے عالمی تجارت کو پہنچنے والے نقصان سے چین بھی بڑے پیمانے پر متاثر ہو رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو دوسرے بہت سے ملکوں کے ساتھ ساتھ ایران کے مفادات بھی متاثر ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غزہ پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں یمن کی ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے بحیرہ احمر میں اسرائیل اور اسے تعلق رکھنے والے مال بردار جہازوں پر حملے تیز کردیے ہیں۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے۔</strong></p>
<p>حوثی ملیشیا نے امریکا اور برطانیہ کے جہازوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔ اس حوالے سے بحیرہ احمر میں شدید کشیدگی پائی جاتی ہے۔ غیرمحفوظ جہاز رانی کے باعث اب بہت سے ممالک اور کمپنیوں نے اپنے جہازوں کو متبادل راستوں سے گزارنا شروع کردیا ہے۔</p>
<p>حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل سے کسی بھی طرح کا تعلق رکھنے والے جہازوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ صاف کہہ چکے ہیں کہ کسی اور ملک کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اس کے باوجود چین نے معاملات کی سنگینی کے پیش نظر ایران سے رابطہ کیا ہے۔</p>
<p>جرمن نشریاتی ادارے ڈوئچے ویلے کا کہنا ہے کہ چین نے ایران سے رابطہ کرکے کہا ہے کہ وہ حوثیوں کو تجارتی جہازوں پر حملے روکنے کا کہے کیونکہ اس کے نتیجے میں عالمی تجارت شدید تاثر ہو رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30365569"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>چینی حکام نے ایرانی قیادت سے کہا ہے کہ حوثیوں کے حملے سے عالمی تجارت کو پہنچنے والے نقصان سے چین بھی بڑے پیمانے پر متاثر ہو رہا ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو دوسرے بہت سے ملکوں کے ساتھ ساتھ ایران کے مفادات بھی متاثر ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30367753</guid>
      <pubDate>Sat, 27 Jan 2024 15:29:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/01/271525519ca31db.webp?r=152943" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/01/271525519ca31db.webp?r=152943"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
