<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 13:51:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 13:51:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جیو کوڈ کے ذریعے تمام ایکس پوسٹس کی لوکیشن کیسے معلوم کی جائے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30368590/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکسx (سابقہ ٹوئٹر) کے ذریعے دنیا بھرمیں ہر وقت لاکھوں افراد کچھ نہ کچھ لکھ کر بھیج رہے ہوتے ہیں۔ ان پیغامات (ٹویٹس) کو سمجھنا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا ان کے مواد کو سمجھنا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیش ٹیگ کے ذریعے کسی بھی ٹوئیٹ کو تھوڑی سی محنت سے تلاش کیا جاسکتا ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں افراد یہ جاننے کے بھی خواہش رہتے ہیں کہ جو بھی ٹویٹ انہوں نے پڑھی ہے اُس کی لوکیشن کیا تھی یعنی وہ کہاں سے بھیجی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”ٹوئٹرجیو کوڈ“ کے ذریعے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کوئی بھی ٹویٹ کہاں سے بھیجا گیا اور کہاں پڑھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوانسڈ فلٹر بروئے کار لاکر ہیش ٹیگ کے ذریعے کسی بھی ٹویٹ کی لوکیشن معلوم کرنا اب منٹوں کا کام ہے۔ یہ کمانڈ بہت مفید ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30321613"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسی ٹوئیٹ کی لوکیشن معلوم کرنے کے لیے چار مراحل طے کرنا لازم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرض کیجیے نیو یارک سے آسکر ایوارڈز کے ذکر والے ٹوئیٹس کیے گئے ہیں۔ جیو کوڈ اسٹرنگ کے لیے اہم قدم یہ ہے کہ آپ سب سے پہلے وہ لوکیشن (طول البلد اور ارض البلد) طے کریں جس میں آپ کو ٹوئیٹس تلاش کرنے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں گوگل میپ سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ اس کے لیے geocode.xcz بھی اہم ہے۔ فرض کیجیے ہم نیو یارک جانا چاہیں تو یہ کچھ اس طور ہوگا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرض البلد: 40.712776
طول البلد: -74.005974&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرے مرحلے میں آپ کو محیط معلوم کرنا ہے یعنی یہ کہ آپ مثلاً 10 کلو میٹر کے دائرے میں کیا ہوا ٹویٹ معلوم کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب آپ ایک سرچ اسٹرنگ ٹائپ کیجیے جسے ٹوئیٹ کا پتا لگانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ فارمیٹ میں یہ کچھ اس طور دکھائی دے گا۔
geocode:latitude,longitude,radius
geocode:40.712776,-74.005974,10&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب جیو کوڈ کو اپنے مطلوب کی ورڈ کے ساتھ پیسٹ کردیجیے۔ یہ اس طرح دکھائی دے گا۔
oscars geocode:40.712776,-74.005974,10km&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ذریعے آپ کو اپنی منتخب لوکیشن کی حدود میں پائے جانے والے ٹوئیٹس دکھائی دیں گے۔ ہوسکتا ہے آپ کو ٹوئیٹس دکھائی تو دیں تاہم آپ کی اُن تک رسائی ممکن نہ ہو۔ ایسا متعلقہ یوزر کی اپنی سیٹنگز کے باعث ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ اپنی سرچ کو بہتر بھی بناسکتے ہیں۔ اس کے لیے آپ ٹوئٹر جیو کوڈ کو دیگر سرچ آپریٹرز کے ذریعے بھی ملاکر استعمال کرسکتے ہیں۔ مثلاً آپ Oscars کے ساتھ تھرڈ پارٹی مثلاً انسٹا گرام پر تلاش کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو سوال یا یو آر ایل لکھنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30322048/"&gt;ٹوئٹر پر 15 اپریل کے بعد کیا کچھ ناممکن ہو جائے گا&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30341696/"&gt;اب کوئی کسی کو بلاک نہیں کر سکے گا، ٹوئٹر کا اہم فیچر ختم کرنے کا اعلان&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="چند-کارآمد-فلٹر" href="#چند-کارآمد-فلٹر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;چند کارآمد فلٹر&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;فلٹر میڈیا۔ یہ ان چیزوں کو تلاش کرے گا کسی بھی قسم کے میڈیا میں بتائی گئی ضرورت کے مطابق ہوں۔
فلٹر نیٹیو وڈیو۔ یہ کسی بھی مطلوب مواد کے ساتھ اپ لوڈ کی جانے والی وڈیو، ایمپلیفائی وڈیو، پیوڈیو، پیری اسکوپ یا وائن وغیرہ کو سرچ کرے گا۔
فلٹر لنکز۔ یہ متعلقہ مواد کوURLs کی لنکنگ کے ذریعے تلاش کرے گا۔
فلٹر امیج۔ یہ فلٹر ایسے بیان کردہ مواد کو تلاش کرے گا جس میں فوٹو (بشمول تھرڈ پارٹی مثلاً انسٹا گرام) بھی ہو۔
یو آرایل آسکرز۔ یہ ایسی انٹریزکو تلاش کرے گا جن میں ”آسکر“ شامل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ ان میں آسکر کی آفیشل ویب سائٹ کے یو آرایل بھی ہوسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں نیو یارک ٹائمز کے ایسے آرٹیکلز بھی ظاہر ہوسکتے ہیں جن میں آسکرز کا ذکر ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکسx (سابقہ ٹوئٹر) کے ذریعے دنیا بھرمیں ہر وقت لاکھوں افراد کچھ نہ کچھ لکھ کر بھیج رہے ہوتے ہیں۔ ان پیغامات (ٹویٹس) کو سمجھنا بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا ان کے مواد کو سمجھنا۔</strong></p>
<p>ہیش ٹیگ کے ذریعے کسی بھی ٹوئیٹ کو تھوڑی سی محنت سے تلاش کیا جاسکتا ہے۔ دنیا بھر میں لاکھوں افراد یہ جاننے کے بھی خواہش رہتے ہیں کہ جو بھی ٹویٹ انہوں نے پڑھی ہے اُس کی لوکیشن کیا تھی یعنی وہ کہاں سے بھیجی گئی تھی۔</p>
<p>”ٹوئٹرجیو کوڈ“ کے ذریعے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کوئی بھی ٹویٹ کہاں سے بھیجا گیا اور کہاں پڑھا گیا۔</p>
<p>ایڈوانسڈ فلٹر بروئے کار لاکر ہیش ٹیگ کے ذریعے کسی بھی ٹویٹ کی لوکیشن معلوم کرنا اب منٹوں کا کام ہے۔ یہ کمانڈ بہت مفید ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30321613"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کسی ٹوئیٹ کی لوکیشن معلوم کرنے کے لیے چار مراحل طے کرنا لازم ہے۔</p>
<p>فرض کیجیے نیو یارک سے آسکر ایوارڈز کے ذکر والے ٹوئیٹس کیے گئے ہیں۔ جیو کوڈ اسٹرنگ کے لیے اہم قدم یہ ہے کہ آپ سب سے پہلے وہ لوکیشن (طول البلد اور ارض البلد) طے کریں جس میں آپ کو ٹوئیٹس تلاش کرنے ہیں۔</p>
<p>اس سلسلے میں گوگل میپ سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ اس کے لیے geocode.xcz بھی اہم ہے۔ فرض کیجیے ہم نیو یارک جانا چاہیں تو یہ کچھ اس طور ہوگا:</p>
<p>عرض البلد: 40.712776
طول البلد: -74.005974</p>
<p>دوسرے مرحلے میں آپ کو محیط معلوم کرنا ہے یعنی یہ کہ آپ مثلاً 10 کلو میٹر کے دائرے میں کیا ہوا ٹویٹ معلوم کرنا ہے۔</p>
<p>اب آپ ایک سرچ اسٹرنگ ٹائپ کیجیے جسے ٹوئیٹ کا پتا لگانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ فارمیٹ میں یہ کچھ اس طور دکھائی دے گا۔
geocode:latitude,longitude,radius
geocode:40.712776,-74.005974,10</p>
<p>اب جیو کوڈ کو اپنے مطلوب کی ورڈ کے ساتھ پیسٹ کردیجیے۔ یہ اس طرح دکھائی دے گا۔
oscars geocode:40.712776,-74.005974,10km</p>
<p>اس کے ذریعے آپ کو اپنی منتخب لوکیشن کی حدود میں پائے جانے والے ٹوئیٹس دکھائی دیں گے۔ ہوسکتا ہے آپ کو ٹوئیٹس دکھائی تو دیں تاہم آپ کی اُن تک رسائی ممکن نہ ہو۔ ایسا متعلقہ یوزر کی اپنی سیٹنگز کے باعث ہوسکتا ہے۔</p>
<p>آپ اپنی سرچ کو بہتر بھی بناسکتے ہیں۔ اس کے لیے آپ ٹوئٹر جیو کوڈ کو دیگر سرچ آپریٹرز کے ذریعے بھی ملاکر استعمال کرسکتے ہیں۔ مثلاً آپ Oscars کے ساتھ تھرڈ پارٹی مثلاً انسٹا گرام پر تلاش کرسکتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو سوال یا یو آر ایل لکھنا ہوگا۔</p>
<p>یہ بھی پڑھیں:</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30322048/">ٹوئٹر پر 15 اپریل کے بعد کیا کچھ ناممکن ہو جائے گا</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30341696/">اب کوئی کسی کو بلاک نہیں کر سکے گا، ٹوئٹر کا اہم فیچر ختم کرنے کا اعلان</a></p>
<h2><a id="چند-کارآمد-فلٹر" href="#چند-کارآمد-فلٹر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>چند کارآمد فلٹر</h2>
<p>فلٹر میڈیا۔ یہ ان چیزوں کو تلاش کرے گا کسی بھی قسم کے میڈیا میں بتائی گئی ضرورت کے مطابق ہوں۔
فلٹر نیٹیو وڈیو۔ یہ کسی بھی مطلوب مواد کے ساتھ اپ لوڈ کی جانے والی وڈیو، ایمپلیفائی وڈیو، پیوڈیو، پیری اسکوپ یا وائن وغیرہ کو سرچ کرے گا۔
فلٹر لنکز۔ یہ متعلقہ مواد کوURLs کی لنکنگ کے ذریعے تلاش کرے گا۔
فلٹر امیج۔ یہ فلٹر ایسے بیان کردہ مواد کو تلاش کرے گا جس میں فوٹو (بشمول تھرڈ پارٹی مثلاً انسٹا گرام) بھی ہو۔
یو آرایل آسکرز۔ یہ ایسی انٹریزکو تلاش کرے گا جن میں ”آسکر“ شامل ہو۔</p>
<p>واضح رہے کہ ان میں آسکر کی آفیشل ویب سائٹ کے یو آرایل بھی ہوسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں نیو یارک ٹائمز کے ایسے آرٹیکلز بھی ظاہر ہوسکتے ہیں جن میں آسکرز کا ذکر ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30368590</guid>
      <pubDate>Thu, 01 Feb 2024 14:23:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/02/01135115e0ecb46.webp?r=140239" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/02/01135115e0ecb46.webp?r=140239"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
