<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 08:15:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 08:15:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زمین کس طور 2013 سے خود کو ’قیامت‘ کیلئے تیار کر رہی ہے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30370416/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک بہت بڑی خلائی چٹان زمین کی طرف آرہی ہے۔ زمین سے اس کے تصادم کی صورت میں زمین کو غیر معمولی جانی و مالی نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس میں چیلیابنسک نامی شہابِ ثاقب کو تباہ ہوئے ایک عشرہ گزر چکا ہے۔ چیلیابنسک کے پھٹنے سے ڈیڑھ ہزار افراد زخمی ہوئے تھے اور خاصا مالی نقصان ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب خلائی بسیط سے آنے والے ایک اور بڑے شہابِ ثاقب کا سامنا کرنے کے لیے زمین خود کو اچھی طرح تیار کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;13 اپریل 2029 کو Apophis زمین کے بہت قریب سے گزرے گا۔ ایک بڑے شہابِ ثاقب کو بہت قریب سے دیکھنے اور اس کا اچھی طرح جائزہ لینے کا یہ ایک اچھا موقع ہے۔ یوروپین اسپیس ایجنسی اس ٹاکرے کے حوالے سے مشن تیار کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30347479"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروس ولس کی معروف مووی ’آرماگیڈن‘ میں ایک بہت بڑی خلائی چٹان کو زمین کی طرف آتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ فٹبال گراؤنڈ سے بھی بڑی اس چٹان کو زمین کے نزدیک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کرنے کی خاطر ایک مشن بھیجا جاتا ہے۔ اس مشن کے ارکان چٹان کو زمین سے بہت دور خلا میں تباہ کردیتے ہیں۔ ایپوفِس کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی سوچا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سلسلے میں دی انٹرنیشنل ایسٹیرائڈ وارننگ نیٹ ورک اور دی اسپیس مشن پلاننگ ایڈوائزری گروپ کی تشکیل کے لیے تکنیکی پیچیدگیاں دور کی جارہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی پڑھیں :&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30246639/"&gt;320 ملین کلومیٹر دور سیارچے سے نمونے لانے والا جہاز مشکل میں&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30350828/"&gt;ناسا کا خلائی جہاز پراسرار اور نایاب دھاتوں سے بنے سیارچے کی تلاش میں روانہ&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلا میں ٹوٹے ہوئے ستاروں کے ٹکڑے بھٹکتے پھرتے ہیں۔ ایسی خلائی چٹانوں کو زمین سے بہت دور، خلائے بسیط ہی میں شناخت کرکے زمین سے ان کے تصادم کے امکان کا جائزہ لے کر مشن ترتیب دیے جاتے ہیں تاکہ زمین کو قیامت خیز نقصان سے بچایا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک بہت بڑی خلائی چٹان زمین کی طرف آرہی ہے۔ زمین سے اس کے تصادم کی صورت میں زمین کو غیر معمولی جانی و مالی نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے۔</strong></p>
<p>روس میں چیلیابنسک نامی شہابِ ثاقب کو تباہ ہوئے ایک عشرہ گزر چکا ہے۔ چیلیابنسک کے پھٹنے سے ڈیڑھ ہزار افراد زخمی ہوئے تھے اور خاصا مالی نقصان ہوا تھا۔</p>
<p>اب خلائی بسیط سے آنے والے ایک اور بڑے شہابِ ثاقب کا سامنا کرنے کے لیے زمین خود کو اچھی طرح تیار کر رہی ہے۔</p>
<p>13 اپریل 2029 کو Apophis زمین کے بہت قریب سے گزرے گا۔ ایک بڑے شہابِ ثاقب کو بہت قریب سے دیکھنے اور اس کا اچھی طرح جائزہ لینے کا یہ ایک اچھا موقع ہے۔ یوروپین اسپیس ایجنسی اس ٹاکرے کے حوالے سے مشن تیار کر رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30347479"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بروس ولس کی معروف مووی ’آرماگیڈن‘ میں ایک بہت بڑی خلائی چٹان کو زمین کی طرف آتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ فٹبال گراؤنڈ سے بھی بڑی اس چٹان کو زمین کے نزدیک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کرنے کی خاطر ایک مشن بھیجا جاتا ہے۔ اس مشن کے ارکان چٹان کو زمین سے بہت دور خلا میں تباہ کردیتے ہیں۔ ایپوفِس کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی سوچا جارہا ہے۔</p>
<p>اس سلسلے میں دی انٹرنیشنل ایسٹیرائڈ وارننگ نیٹ ورک اور دی اسپیس مشن پلاننگ ایڈوائزری گروپ کی تشکیل کے لیے تکنیکی پیچیدگیاں دور کی جارہی ہیں۔</p>
<p>یہ بھی پڑھیں :</p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30246639/">320 ملین کلومیٹر دور سیارچے سے نمونے لانے والا جہاز مشکل میں</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30350828/">ناسا کا خلائی جہاز پراسرار اور نایاب دھاتوں سے بنے سیارچے کی تلاش میں روانہ</a></p>
<p>خلا میں ٹوٹے ہوئے ستاروں کے ٹکڑے بھٹکتے پھرتے ہیں۔ ایسی خلائی چٹانوں کو زمین سے بہت دور، خلائے بسیط ہی میں شناخت کرکے زمین سے ان کے تصادم کے امکان کا جائزہ لے کر مشن ترتیب دیے جاتے ہیں تاکہ زمین کو قیامت خیز نقصان سے بچایا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30370416</guid>
      <pubDate>Mon, 12 Feb 2024 13:46:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/02/1213395563a8cf0.webp?r=134631" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/02/1213395563a8cf0.webp?r=134631"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
