<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 07:51:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 07:51:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی چینل پر لیگی اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی لڑائی، میزبان مزے لیتے رہے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30371089/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں امن و امان کی خراب صورتحال ہو یا پھر سیاست میں گرما گرمی، بھارتی میڈیا پاکستان پر بے جا تقنید کرنے سے باز نہیں آتا ہے، ایسا ہی کچھ پاکستان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہوا ہے، جس میں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے رہنما بھارتی چینل پر آمنے سامنے آ گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر بھارتی نیوز چینل کی ایک ویڈیو نے اُس وقت سب کی توجہ حاصل کی جب پاکستان تحریک انصاف کی سابق رہنما عظمیٰ کاردار اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بھارتی چینل پر لڑتے دکھائی دیے اور بھارتی میزبان خاموش ہو کر دونوں کو لڑتے تکتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوں معلوم ہو رہا تھا گویا بھارتی میزبان ارناب گوسوامی جان بوجھ کر دونوں پارٹی رہنماؤں کو لڑوا رہا تھا، پروگرام میں دیگر مہمان بھی موجود تھے تاہم عظمیٰ کاردار اور صمد فارق کے درمیان بیچ بچاؤ کرانے والا کوئی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحث و مباثحے کے دوران صمد فاروق کا کہنا تھا کہ سارے مزے لے لیے ہیں آپ نے اور پھر آپ عدم اعتماد میں بک گئیں، آپ نے اپنے آپ کو بیچ دیا، آپ یہاں ایک پرائس ٹیگ کے ساتھ آئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ASY53/status/1758187647397167135?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس پر عظمیٰ کاردار کا کہنا تھا کہ میرے اوپر کمنٹ مت کریں، مجھ پر پرسنل کمنٹ نہ کریں، میں یہاں ایک ایشو ڈسکس کرنے آئی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30315342"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ دونوں رہنما اپنے اپنے مؤقف کی ترجمانی کر رہے تھے تاہم بھارتی میڈیا کے لیے ریٹنگ کا ایک ذریعہ ضرور بن گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں امن و امان کی خراب صورتحال ہو یا پھر سیاست میں گرما گرمی، بھارتی میڈیا پاکستان پر بے جا تقنید کرنے سے باز نہیں آتا ہے، ایسا ہی کچھ پاکستان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہوا ہے، جس میں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے رہنما بھارتی چینل پر آمنے سامنے آ گئے۔</strong></p>
<p>سوشل میڈیا پر بھارتی نیوز چینل کی ایک ویڈیو نے اُس وقت سب کی توجہ حاصل کی جب پاکستان تحریک انصاف کی سابق رہنما عظمیٰ کاردار اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بھارتی چینل پر لڑتے دکھائی دیے اور بھارتی میزبان خاموش ہو کر دونوں کو لڑتے تکتا رہا۔</p>
<p>یوں معلوم ہو رہا تھا گویا بھارتی میزبان ارناب گوسوامی جان بوجھ کر دونوں پارٹی رہنماؤں کو لڑوا رہا تھا، پروگرام میں دیگر مہمان بھی موجود تھے تاہم عظمیٰ کاردار اور صمد فارق کے درمیان بیچ بچاؤ کرانے والا کوئی نہیں۔</p>
<p>بحث و مباثحے کے دوران صمد فاروق کا کہنا تھا کہ سارے مزے لے لیے ہیں آپ نے اور پھر آپ عدم اعتماد میں بک گئیں، آپ نے اپنے آپ کو بیچ دیا، آپ یہاں ایک پرائس ٹیگ کے ساتھ آئی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ASY53/status/1758187647397167135?s=20"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>جس پر عظمیٰ کاردار کا کہنا تھا کہ میرے اوپر کمنٹ مت کریں، مجھ پر پرسنل کمنٹ نہ کریں، میں یہاں ایک ایشو ڈسکس کرنے آئی ہوں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30315342"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اگرچہ دونوں رہنما اپنے اپنے مؤقف کی ترجمانی کر رہے تھے تاہم بھارتی میڈیا کے لیے ریٹنگ کا ایک ذریعہ ضرور بن گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30371089</guid>
      <pubDate>Fri, 16 Feb 2024 12:23:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/02/1612195713425be.png?r=122011" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/02/1612195713425be.png?r=122011"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
