<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 12:24:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 12:24:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مقتدرہ کے دو بڑوں کے نیچے والے نواز کی واپسی نہیں چاہتے تھے، سہیل وڑائچ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30371102/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سینئر تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے دعویٰ کیا ہے کہ مقتدرہ کے دو بڑوں کے نیچے والے چاہتے تھے کہ نواز شریف واپس آئیں لیکن ان کے نیچے والے اس حکمت عملی سے متفق نہیں تھے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انتخابات کے نتائج کے حوالے سے سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ’الیکشن سے چند دن پہلے مقتدرہ اسے مضبوط حکومت دینے پر آمادہ تھی، معیشت کی ترقی کیلئے بنگلہ دیش ماڈل بنا کر مقتدرہ اور عدلیہ کی مکمل حمایت اسے دینا تھی مگر مقتدرہ کے منصوبے اور اندازے دونوں ناکام ہوئے، اصل وجہ مقتدرہ کایک جان نہ ہونا اور بار بار منصوبے بدلنا تھی کبھی آزاد امیدواروں کا میلہ لگانے کی منصوبہ بندی کی گئی تو کبھی ہنگ پارلیمنٹ کی، کبھی نون کوسب کچھ دینے کی بات کی جاتی اور کبھی کہا جاتا کہ دوائی زیادہ ڈل گئی تو نون کو روکیں گے کیسے ؟‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سہیل وڑائچ نے نواز شریف کے حوالے سے ’’وہ‘‘ روٹھ گیا ہے؟ کے عنوان سے کالم تحریر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کالم میں سہیل وڑائچ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مخصوص لوگوں کے گھیرے نے نواز شریف کو زمینی حقائق سے دوررکھا۔ ’اور جب نتائج سامنے آئے تو اسے محسوس ہوا ہو گا کہ جس نے بھی یہ سب کیا ہے اس کے ساتھ ہاتھ ہوگیا ہے۔ اس کا اقتدار سے پیچھے ہٹنا اس کےروٹھنے کی نشانی ہے جس سے نون کے ووٹر کا دل ضرور ٹوٹا ہوگا۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینئر تجزیہ کار نے لکھا، ’الیکشن سے چند دن پہلے مقتدرہ اسے مضبوط حکومت دینے پر آمادہ تھی، معیشت کی ترقی کیلئے بنگلہ دیش ماڈل بنا کر مقتدرہ اور عدلیہ کی مکمل حمایت اسے دینا تھی مگر مقتدرہ کے منصوبے اور اندازے دونوں ناکام ہوئے، اصل وجہ مقتدرہ کایک جان نہ ہونا اور بار بار منصوبے بدلنا تھی کبھی آزاد امیدواروں کا میلہ لگانے کی منصوبہ بندی کی گئی تو کبھی ہنگ پارلیمنٹ کی، کبھی نون کوسب کچھ دینے کی بات کی جاتی اور کبھی کہا جاتا کہ دوائی زیادہ ڈل گئی تو نون کو روکیں گے کیسے ؟کبھی کہا جاتا کہ وہ تو ماضی میں کبھی مقتدرہ سے لڑتا رہا ہے اس بار بھی لڑے گا اس لئے بندوبست پہلے سے کر لینا چاہئے۔مقتدرہ کے دو بڑے تو چاہتے تھے کہ وہ آئے اور مضبوط حکومت چلائے لیکن دو بڑوں کے نیچے والے اس حکمت عملی سے متفق نہیں تھے وہ چیک اینڈ بیلنس کے زیادہ حامی تھے۔ مقتدرہ کے بدلتے ہوئے فیصلوں نے اسے لازماً مایوس کیا ہو گا اسی لئے وہ روٹھ کے بیٹھ گیا ہے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://urdu.geo.tv/latest/355715-"&gt;کالم&lt;/a&gt; میں سہیل وڑائچ نے نواز شریف کے نئے ممکنہ کردار کے حوالے سے بھی بات کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سینئر تجزیہ نگار سہیل وڑائچ نے دعویٰ کیا ہے کہ مقتدرہ کے دو بڑوں کے نیچے والے چاہتے تھے کہ نواز شریف واپس آئیں لیکن ان کے نیچے والے اس حکمت عملی سے متفق نہیں تھے۔</strong></p>
<p>انتخابات کے نتائج کے حوالے سے سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ’الیکشن سے چند دن پہلے مقتدرہ اسے مضبوط حکومت دینے پر آمادہ تھی، معیشت کی ترقی کیلئے بنگلہ دیش ماڈل بنا کر مقتدرہ اور عدلیہ کی مکمل حمایت اسے دینا تھی مگر مقتدرہ کے منصوبے اور اندازے دونوں ناکام ہوئے، اصل وجہ مقتدرہ کایک جان نہ ہونا اور بار بار منصوبے بدلنا تھی کبھی آزاد امیدواروں کا میلہ لگانے کی منصوبہ بندی کی گئی تو کبھی ہنگ پارلیمنٹ کی، کبھی نون کوسب کچھ دینے کی بات کی جاتی اور کبھی کہا جاتا کہ دوائی زیادہ ڈل گئی تو نون کو روکیں گے کیسے ؟‘</p>
<p>سہیل وڑائچ نے نواز شریف کے حوالے سے ’’وہ‘‘ روٹھ گیا ہے؟ کے عنوان سے کالم تحریر کیا ہے۔</p>
<p>اس کالم میں سہیل وڑائچ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مخصوص لوگوں کے گھیرے نے نواز شریف کو زمینی حقائق سے دوررکھا۔ ’اور جب نتائج سامنے آئے تو اسے محسوس ہوا ہو گا کہ جس نے بھی یہ سب کیا ہے اس کے ساتھ ہاتھ ہوگیا ہے۔ اس کا اقتدار سے پیچھے ہٹنا اس کےروٹھنے کی نشانی ہے جس سے نون کے ووٹر کا دل ضرور ٹوٹا ہوگا۔‘</p>
<p>سینئر تجزیہ کار نے لکھا، ’الیکشن سے چند دن پہلے مقتدرہ اسے مضبوط حکومت دینے پر آمادہ تھی، معیشت کی ترقی کیلئے بنگلہ دیش ماڈل بنا کر مقتدرہ اور عدلیہ کی مکمل حمایت اسے دینا تھی مگر مقتدرہ کے منصوبے اور اندازے دونوں ناکام ہوئے، اصل وجہ مقتدرہ کایک جان نہ ہونا اور بار بار منصوبے بدلنا تھی کبھی آزاد امیدواروں کا میلہ لگانے کی منصوبہ بندی کی گئی تو کبھی ہنگ پارلیمنٹ کی، کبھی نون کوسب کچھ دینے کی بات کی جاتی اور کبھی کہا جاتا کہ دوائی زیادہ ڈل گئی تو نون کو روکیں گے کیسے ؟کبھی کہا جاتا کہ وہ تو ماضی میں کبھی مقتدرہ سے لڑتا رہا ہے اس بار بھی لڑے گا اس لئے بندوبست پہلے سے کر لینا چاہئے۔مقتدرہ کے دو بڑے تو چاہتے تھے کہ وہ آئے اور مضبوط حکومت چلائے لیکن دو بڑوں کے نیچے والے اس حکمت عملی سے متفق نہیں تھے وہ چیک اینڈ بیلنس کے زیادہ حامی تھے۔ مقتدرہ کے بدلتے ہوئے فیصلوں نے اسے لازماً مایوس کیا ہو گا اسی لئے وہ روٹھ کے بیٹھ گیا ہے۔‘</p>
<p>اپنے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://urdu.geo.tv/latest/355715-">کالم</a> میں سہیل وڑائچ نے نواز شریف کے نئے ممکنہ کردار کے حوالے سے بھی بات کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30371102</guid>
      <pubDate>Fri, 16 Feb 2024 13:51:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/02/161305525b4a56e.jpg?r=130610" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/02/161305525b4a56e.jpg?r=130610"/>
        <media:title>فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
