<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 17:09:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 17:09:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>این اے 55، پی پی 11 نتائج کیخلاف درخواستیں قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30371959/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 55 اور پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 11 راولپنڈی کے الیکشن نتائج کے خلاف درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پرفیصلہ محفوظ کرلیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ میں این اے 55 اور پی پی 11 راولپنڈی سے راجہ محمد بشارت اور چوہدری محمد نذیر نے الیکشن نتائج کے خلاف درخواستیں دائر کیں، چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواستوں پر سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزاروں کی طرف سے سردار عبدالرازق خان ایڈووکیٹ نے عدالت میں پیش ہوکر مؤقف اختیار کیا کہ فارم 45 کے مطابق راجہ بشارت نے ایک لاکھ سات ووٹ حاصل کیے، مدمقابل ملک ابرار نے صرف49000 ووٹ حاصل کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وکیل درخواست گزاروں نےدلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریٹرننگ افسر نے فارم 47 میں راجہ بشارت کی 53000 کی لیڈ کو شکست میں تبدیل کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30371930"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سردار عبدالرازق خان نے پی پی 11راولپنڈی سے چوہدری نذیر کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چودھری نذیر10,000 کی لیڈ سے جیت گئے تھے مگر آر او نے انہیں ہرا دیا،اب الیکشن ٹریبونل بن چکے ہیں کیا اب ہائیکورٹ یا الیکشن کمیشن فیصلے کر سکتے ہیں؟، چیف جسٹس آئین پاکستان اور الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کا اپنا اختیار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درخواست گزاروں کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن انتخابی عذرداریاں ٹریبونل کو بھیج کر اپنی آئینی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار نہیں کرسکتا، قانون کے مطابق 60 دن تک الیکشن کمیشن امیدواروں کی شکایات کا ازالہ کرنے کا پابند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعدازاں عدالت عالیہ نے دلائل سننے کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="مزید-پڑھیں" href="#مزید-پڑھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;مزید پڑھیں&lt;/h2&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30371950/"&gt;کتنے حلقوں میں دھاندلی ہوئی؟ پی ٹی آئی کے دعوؤں پر سوالیہ نشان
برقرار&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30371942/"&gt;سیاسی جماعتوں سے انتخابی نشانات واپس لینے سے متعلق تمام درخواستیں
یکجا کرنے کی ہدایت&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد ہائیکورٹ نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 55 اور پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 11 راولپنڈی کے الیکشن نتائج کے خلاف درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پرفیصلہ محفوظ کرلیا۔</strong></p>
<p>اسلام آباد ہائیکورٹ میں این اے 55 اور پی پی 11 راولپنڈی سے راجہ محمد بشارت اور چوہدری محمد نذیر نے الیکشن نتائج کے خلاف درخواستیں دائر کیں، چیف جسٹس عامر فاروق نے درخواستوں پر سماعت کی۔</p>
<p>درخواست گزاروں کی طرف سے سردار عبدالرازق خان ایڈووکیٹ نے عدالت میں پیش ہوکر مؤقف اختیار کیا کہ فارم 45 کے مطابق راجہ بشارت نے ایک لاکھ سات ووٹ حاصل کیے، مدمقابل ملک ابرار نے صرف49000 ووٹ حاصل کیے۔</p>
<p>وکیل درخواست گزاروں نےدلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریٹرننگ افسر نے فارم 47 میں راجہ بشارت کی 53000 کی لیڈ کو شکست میں تبدیل کردیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30371930"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سردار عبدالرازق خان نے پی پی 11راولپنڈی سے چوہدری نذیر کی درخواست پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چودھری نذیر10,000 کی لیڈ سے جیت گئے تھے مگر آر او نے انہیں ہرا دیا،اب الیکشن ٹریبونل بن چکے ہیں کیا اب ہائیکورٹ یا الیکشن کمیشن فیصلے کر سکتے ہیں؟، چیف جسٹس آئین پاکستان اور الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن کمیشن کا اپنا اختیار ہے۔</p>
<p>درخواست گزاروں کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن انتخابی عذرداریاں ٹریبونل کو بھیج کر اپنی آئینی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار نہیں کرسکتا، قانون کے مطابق 60 دن تک الیکشن کمیشن امیدواروں کی شکایات کا ازالہ کرنے کا پابند ہے۔</p>
<p>بعدازاں عدالت عالیہ نے دلائل سننے کے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔</p>
<h2><a id="مزید-پڑھیں" href="#مزید-پڑھیں" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>مزید پڑھیں</h2>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30371950/">کتنے حلقوں میں دھاندلی ہوئی؟ پی ٹی آئی کے دعوؤں پر سوالیہ نشان
برقرار</a></p>
<p><a href="https://www.aaj.tv/news/30371942/">سیاسی جماعتوں سے انتخابی نشانات واپس لینے سے متعلق تمام درخواستیں
یکجا کرنے کی ہدایت</a></p>
</blockquote>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30371959</guid>
      <pubDate>Wed, 21 Feb 2024 14:52:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (آصف نوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/02/21144624a87518a.jpg?r=144700" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/02/21144624a87518a.jpg?r=144700"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
