<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 05:18:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 05:18:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی صدر کے بیٹے کے خلاف تحقیقات کرنے والا صحافی برطرف، سامان ضبط</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30372433/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا کے معروف میڈیا آؤٹ لیٹ سی بی ایس نیوز نے بظاہر صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے حوالے سے ایک خبر پر تحقیق کی پاداش میں ایک صحافی کو برطرف کرکے اس کا سامان ضبط کرلیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی بی ایس نیوز نے (جس کا پیرنٹ ادارہ پیراماؤنٹ گلوبل ہے) کیتھرین ہیرج سمیت مجموعی طور پر 20 ملازمین کو فارغ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارہ کئی سال سے ملازمین کو فارغ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تاہم کیتھرین کے معاملے میں ادارے نے جو روش اختیار کی ہے اس نے دیگر ملازمین کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیتھرین ہیرج آئین کی پہلی ترمیم سے متعلق ایک ایسی اسٹوری پر کام کر رہی تھی جس میں صدر بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ اس کے لیپ ٹاپ کمپیوٹر کے حوالے سے تحقیقات جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30332914"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیتھرین کے چیمبر میں موجودہ تمام اہم فائلز ادارے نے اپنی تحویل میں لے لی ہیں۔ نیو یارک پوسٹ کو معلوم ہوا ہے کہ ہنٹر بائیڈن سے متعلق سارا مواد بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی بی ایس نیوز نے کیتھرین ہیرج کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس پر ملازمین مضطرب ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیتھرین کا سامان تحویل میں لینے کا ادارے کو قانونی طور پر کوئی اختیار نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا کے معروف میڈیا آؤٹ لیٹ سی بی ایس نیوز نے بظاہر صدر جو بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن کے حوالے سے ایک خبر پر تحقیق کی پاداش میں ایک صحافی کو برطرف کرکے اس کا سامان ضبط کرلیا ہے۔</strong></p>
<p>سی بی ایس نیوز نے (جس کا پیرنٹ ادارہ پیراماؤنٹ گلوبل ہے) کیتھرین ہیرج سمیت مجموعی طور پر 20 ملازمین کو فارغ کیا ہے۔</p>
<p>ادارہ کئی سال سے ملازمین کو فارغ کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تاہم کیتھرین کے معاملے میں ادارے نے جو روش اختیار کی ہے اس نے دیگر ملازمین کو شدید تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔</p>
<p>کیتھرین ہیرج آئین کی پہلی ترمیم سے متعلق ایک ایسی اسٹوری پر کام کر رہی تھی جس میں صدر بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ اس کے لیپ ٹاپ کمپیوٹر کے حوالے سے تحقیقات جاری ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30332914"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کیتھرین کے چیمبر میں موجودہ تمام اہم فائلز ادارے نے اپنی تحویل میں لے لی ہیں۔ نیو یارک پوسٹ کو معلوم ہوا ہے کہ ہنٹر بائیڈن سے متعلق سارا مواد بھی تحویل میں لے لیا گیا ہے۔</p>
<p>سی بی ایس نیوز نے کیتھرین ہیرج کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس پر ملازمین مضطرب ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیتھرین کا سامان تحویل میں لینے کا ادارے کو قانونی طور پر کوئی اختیار نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30372433</guid>
      <pubDate>Sat, 24 Feb 2024 10:00:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/02/24091724aba5c90.webp?r=092004" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/02/24091724aba5c90.webp?r=092004"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
