<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 20:19:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 20:19:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ذہنی امراض اور ٹینشن میں کمی کا منفرد طریقہ، ’ساؤنڈ باتھ‘</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30372561/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا بھر میں مختلف ذہنی عارضوں کے لیے کچھ منفرد طریقہ علاج استعمال کیے جاتے ہیں جن میں اروما تھراپی، یوگا کی مشقیں، مراقبہ اور ساؤنڈ باتھ شامل ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساؤنڈ باتھ ایک ایسا طریقہ ہے جس میں انسان کو آرام دہ حالت میں لٹا کر مختلف آوازیں سنائی جاتی ہیں جو تناؤ کو دور کرنے، توانائی بڑھانے اور نیند کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی پبلک ہیلتھ ریسرچ سائیکالوجسٹ تمارا گولڈسبی کے مطابق ساؤنڈ باتھ میں پانی کی آواز شامل نہیں ہوتی تاہم اس میں گھنگھرو، گھنٹیوں اور مختلف دھات کے پیالوں کی آوازیں شامل ہوتی ہیں، جو تناؤ کو دور کرنے اور درد کو بھی کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مقصد کے لیے ایک تحقیق بھی کی گئی جس میں ایک شخص کو آرام دہ حالت میں الٹا لٹا کر اس کے آگے دھات کا ایک بڑا پیالہ رکھا گیا، ایک پیالہ اس کی پیٹھ پر، ایک پیالہ کمر کے نچلے حصے پر جبکہ ایک پیالہ پنڈلیوں پر رکھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام پیالوں کا سائز مختلف تھا اور انہیں  لکڑی کی ڈنڈی سے بجایا گیا تاکہ وہ شخص اس آواز کو اپنے اندر محسوس کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/02/2422124919e2969.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کے نتائج حیران کن تھے، محققین کے مطابق ساؤنڈ باتھ منفی مزاج کی حالتوں میں تناؤ، اضطراب، افسردگی اور غصے کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے، جبکہ یہ روحانیت میں اضافہ کے ساتھ جسمانی درد میں کمی کا باعث بنتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ تناؤ اور اضطراب پورے جسمانی نظام متاثر کر سکتا ہے، جس سے سوزش، درد، بے چینی، غصہ، بے سکونی، پیٹ کی خرابی اور نیند کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے کے لیے اسے کم کرنا بہت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق محض 15 منٹ کے ساؤنڈ باتھ نے کورٹیسول میں کمی کی جو کہ تناؤ کا ہارمون ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساؤنڈ باتھ علاج کا دورانیہ 30 سے 90 منٹ پر مشتمل ہوتا ہے، یہ انفرادی سطح پر یا گروپ میں بھی میں کیا جا سکتا ہے تاہم اسے گھر پر انجام دینا ممکن نہیں ہے یہ کسی ماہر کی موجودگی میں ہی کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/02/24221329322e60d.jpg'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساؤنڈ باتھ میں موسیقی کے لیے جو  آلات زیادہ عام ہیں وہ دھاتی یا کرسٹل کوارٹز کے مرکب سے تیار پیالے ہوتے ہیں جو ایک بہت ہی منفرد قسم کی آواز پیدا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صرف ایک پریکٹس ہے، ایک بہت پرانی پریکٹس، جو تناؤ میں کمی کا باعث بنتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا بھر میں مختلف ذہنی عارضوں کے لیے کچھ منفرد طریقہ علاج استعمال کیے جاتے ہیں جن میں اروما تھراپی، یوگا کی مشقیں، مراقبہ اور ساؤنڈ باتھ شامل ہیں۔</strong></p>
<p>ساؤنڈ باتھ ایک ایسا طریقہ ہے جس میں انسان کو آرام دہ حالت میں لٹا کر مختلف آوازیں سنائی جاتی ہیں جو تناؤ کو دور کرنے، توانائی بڑھانے اور نیند کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔</p>
<p>یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی پبلک ہیلتھ ریسرچ سائیکالوجسٹ تمارا گولڈسبی کے مطابق ساؤنڈ باتھ میں پانی کی آواز شامل نہیں ہوتی تاہم اس میں گھنگھرو، گھنٹیوں اور مختلف دھات کے پیالوں کی آوازیں شامل ہوتی ہیں، جو تناؤ کو دور کرنے اور درد کو بھی کم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔</p>
<p>اس مقصد کے لیے ایک تحقیق بھی کی گئی جس میں ایک شخص کو آرام دہ حالت میں الٹا لٹا کر اس کے آگے دھات کا ایک بڑا پیالہ رکھا گیا، ایک پیالہ اس کی پیٹھ پر، ایک پیالہ کمر کے نچلے حصے پر جبکہ ایک پیالہ پنڈلیوں پر رکھا گیا۔</p>
<p>ان تمام پیالوں کا سائز مختلف تھا اور انہیں  لکڑی کی ڈنڈی سے بجایا گیا تاکہ وہ شخص اس آواز کو اپنے اندر محسوس کر سکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/02/2422124919e2969.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>تحقیق کے نتائج حیران کن تھے، محققین کے مطابق ساؤنڈ باتھ منفی مزاج کی حالتوں میں تناؤ، اضطراب، افسردگی اور غصے کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے، جبکہ یہ روحانیت میں اضافہ کے ساتھ جسمانی درد میں کمی کا باعث بنتا ہے۔</p>
<p>یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ تناؤ اور اضطراب پورے جسمانی نظام متاثر کر سکتا ہے، جس سے سوزش، درد، بے چینی، غصہ، بے سکونی، پیٹ کی خرابی اور نیند کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے کے لیے اسے کم کرنا بہت ضروری ہے۔</p>
<p>ماضی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق محض 15 منٹ کے ساؤنڈ باتھ نے کورٹیسول میں کمی کی جو کہ تناؤ کا ہارمون ہے۔</p>
<p>ساؤنڈ باتھ علاج کا دورانیہ 30 سے 90 منٹ پر مشتمل ہوتا ہے، یہ انفرادی سطح پر یا گروپ میں بھی میں کیا جا سکتا ہے تاہم اسے گھر پر انجام دینا ممکن نہیں ہے یہ کسی ماہر کی موجودگی میں ہی کیا جاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/02/24221329322e60d.jpg'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ساؤنڈ باتھ میں موسیقی کے لیے جو  آلات زیادہ عام ہیں وہ دھاتی یا کرسٹل کوارٹز کے مرکب سے تیار پیالے ہوتے ہیں جو ایک بہت ہی منفرد قسم کی آواز پیدا کرتے ہیں۔</p>
<p>یہ صرف ایک پریکٹس ہے، ایک بہت پرانی پریکٹس، جو تناؤ میں کمی کا باعث بنتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30372561</guid>
      <pubDate>Sat, 24 Feb 2024 22:14:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/02/24221202ffb3bf3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/02/24221202ffb3bf3.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
