<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 18:10:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 18:10:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کمزور مینڈیٹ والی مخلوط حکومت کو نیا آئی ایم ایف معاہدہ کرنے میں دشواری ہوگی، موڈیز</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30373004/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کے حوالے سے اپنے تازہ ترین جائزے میں کہا ہے کہ پاکستان میں الیکشن کے بعد قائم ہونے والی اتحادی حکومت کا مینڈیٹ اتنا مضبوط نہیں ہوگا کہ وہ آئی ایم ایف سے نئے معاہدے کیلئے مشکل اصلاحات کر سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موڈیز نے اپنے جائزے میں یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے نیا قرض نہ ملاتو اس کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موڈیز نے اپنے جائزے میں پاکستان کی ریٹنگ Caa3 پر برقرار رکھی ہے۔ اگرچہ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر پاکستان کچھ اقدامات کر لے تو اس کی ریٹنگ بہتر ہوسکتی ہے جب کہ ایک اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30372966/"&gt;بلوم برگ نے بھی پاکستان کی معیشت کے بارے میں مثبت رائے&lt;/a&gt; ظاہر کی ہے لیکن موڈیز کی جانب سے مجموعی طور پر ایک مشکل منظر نامہ پیش کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو جون میں رواں مالی سال ختم ہونے سے پہلے 6 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی ادائیگی اپریل میں متوقع ہے جب پاکستان کے ڈالر بانڈ میچور ہوں گے اور سرمایہ کاروں کو ایک بڑی رقم ادا کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریل میں ہی پاکستان کا موجودہ آئی ایم ایف پروگرام ختم ہو رہا ہے جو تین ارب ڈالر کا اسٹینڈ بائی اریجنجمنٹ ہے۔ اس کی آخری قسط میں پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موڈیز نے اپنے جائزے میں کہا ہے کہ جون 2024 تک اپنی بیرونی ادائیگیوں کے چیلنجز سے نمٹنے میں کامیاب رہے گا لیکن اس کے بعد بڑی بیرونی فنانسنگ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کوئی امید نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30372238"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موڈیز کے مطابق اسی لیے موجودہ پروگرام کے بعد بھی پاکستان کو آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر چلنا ہوگا اور اس کے نتیجے میں پاکستان کو دوسرے پارٹنرز سے رقوم کے حصول میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریٹنگ ایجنسی نے کہاکہ اگر پاکستان فوری طور پر اور سماجی دباؤ بڑھنے سے پہلے یہ کرنے میں کامیاب رہا تو اس کا ڈیفالٹ کا خطرہ کم ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم موڈیز کے مطابق اگر آئی ایم ایف اور دوسرے پارٹنرز سے نیا قرض حاصل کرنے میں تاخیر ہوئی تو ڈیفالٹ کے خطرات بڑھ جائیں گے۔ ’سوشل پریشر اور گورننس میں کمزوریوں کے سبب بھی آئی ایم ایف کے تقاضے پورے کرنے کے چینجلز بڑھ سکتے ہیں۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موڈیز کا کہنا تھا کہ اگرچہ الیکشن کے بعد ن لیگ اور پیپلز پارٹی حکومت بنانے والی ہے لیکن اس حوالے سے بہت زیادہ ابہام پایا جاتا ہے کہ نئی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ ایک نئے پروگرام کے لیے مذاکرات کرنے میں کتنی آمادہ اور کتنی اہل ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”آئندہ مخلوط حکومت کا انتخابی مینڈیٹ نئے آئی ایم ایف پروگرام کے لیے درکار مشکل اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے خاطرخواہ مضبوط نہیں ہوگا۔ جب تک کسی نئے پروگرام پر اتفاق نہیں ہو جاتا، پاکستان کی دیگر دو طرفہ اور کثیر جہتی شراکت داروں سے قرضے حاصل کرنے کی صلاحیت شدید طور پر محدود رہے گی۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے پاکستان کے حوالے سے اپنے تازہ ترین جائزے میں کہا ہے کہ پاکستان میں الیکشن کے بعد قائم ہونے والی اتحادی حکومت کا مینڈیٹ اتنا مضبوط نہیں ہوگا کہ وہ آئی ایم ایف سے نئے معاہدے کیلئے مشکل اصلاحات کر سکے۔</strong></p>
<p>موڈیز نے اپنے جائزے میں یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کو آئی ایم ایف سے نیا قرض نہ ملاتو اس کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔</p>
<p>موڈیز نے اپنے جائزے میں پاکستان کی ریٹنگ Caa3 پر برقرار رکھی ہے۔ اگرچہ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر پاکستان کچھ اقدامات کر لے تو اس کی ریٹنگ بہتر ہوسکتی ہے جب کہ ایک اور بین الاقوامی مالیاتی ادارے <a href="https://www.aaj.tv/news/30372966/">بلوم برگ نے بھی پاکستان کی معیشت کے بارے میں مثبت رائے</a> ظاہر کی ہے لیکن موڈیز کی جانب سے مجموعی طور پر ایک مشکل منظر نامہ پیش کیا گیا ہے۔</p>
<p>پاکستان کو جون میں رواں مالی سال ختم ہونے سے پہلے 6 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔ ان میں سے ایک بڑی ادائیگی اپریل میں متوقع ہے جب پاکستان کے ڈالر بانڈ میچور ہوں گے اور سرمایہ کاروں کو ایک بڑی رقم ادا کی جائے گی۔</p>
<p>اپریل میں ہی پاکستان کا موجودہ آئی ایم ایف پروگرام ختم ہو رہا ہے جو تین ارب ڈالر کا اسٹینڈ بائی اریجنجمنٹ ہے۔ اس کی آخری قسط میں پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر ملنے کی توقع ہے۔</p>
<p>موڈیز نے اپنے جائزے میں کہا ہے کہ جون 2024 تک اپنی بیرونی ادائیگیوں کے چیلنجز سے نمٹنے میں کامیاب رہے گا لیکن اس کے بعد بڑی بیرونی فنانسنگ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کوئی امید نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30372238"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>موڈیز کے مطابق اسی لیے موجودہ پروگرام کے بعد بھی پاکستان کو آئی ایم ایف کے ساتھ مل کر چلنا ہوگا اور اس کے نتیجے میں پاکستان کو دوسرے پارٹنرز سے رقوم کے حصول میں مدد ملے گی۔</p>
<p>ریٹنگ ایجنسی نے کہاکہ اگر پاکستان فوری طور پر اور سماجی دباؤ بڑھنے سے پہلے یہ کرنے میں کامیاب رہا تو اس کا ڈیفالٹ کا خطرہ کم ہو جائے گا۔</p>
<p>تاہم موڈیز کے مطابق اگر آئی ایم ایف اور دوسرے پارٹنرز سے نیا قرض حاصل کرنے میں تاخیر ہوئی تو ڈیفالٹ کے خطرات بڑھ جائیں گے۔ ’سوشل پریشر اور گورننس میں کمزوریوں کے سبب بھی آئی ایم ایف کے تقاضے پورے کرنے کے چینجلز بڑھ سکتے ہیں۔‘</p>
<p>موڈیز کا کہنا تھا کہ اگرچہ الیکشن کے بعد ن لیگ اور پیپلز پارٹی حکومت بنانے والی ہے لیکن اس حوالے سے بہت زیادہ ابہام پایا جاتا ہے کہ نئی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ ایک نئے پروگرام کے لیے مذاکرات کرنے میں کتنی آمادہ اور کتنی اہل ہوگی۔</p>
<p>”آئندہ مخلوط حکومت کا انتخابی مینڈیٹ نئے آئی ایم ایف پروگرام کے لیے درکار مشکل اصلاحات کو آگے بڑھانے کے لیے خاطرخواہ مضبوط نہیں ہوگا۔ جب تک کسی نئے پروگرام پر اتفاق نہیں ہو جاتا، پاکستان کی دیگر دو طرفہ اور کثیر جہتی شراکت داروں سے قرضے حاصل کرنے کی صلاحیت شدید طور پر محدود رہے گی۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30373004</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Feb 2024 16:51:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/02/271643222f7f53f.png?r=164335" type="image/png" medium="image" height="481" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/02/271643222f7f53f.png?r=164335"/>
        <media:title>نیویارک میں موڈیز ہیڈکوارٹرز کا بیرونی منظر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
