<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 26 Jun 2026 05:49:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 26 Jun 2026 05:49:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیپرا اور اوگرا کے قوانین میں ترامیم کی تیاری</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30373089/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل پاور ریگیولیرٹری اتھارٹی (نیپرا) اور آئل اینڈ گیس ریگیولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے قوانین میں ترامیم کی تیاری کی جارہی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد دونوں اتھارٹیز کے معاملات میں بے جا حکومتی مداخلت کی گنجائش ختم کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نگراں وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ دونوں ریگیولیٹری اتھارٹیز کو زیادہ سے زیادہ خود مختار بنایا جائے گا تاکہ وہ شفاف اور غیر جانب دارانہ طریقے سے کام کرسکیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں اتھارٹیز کے جاری کردہ نرخ ناموں میں حکومتی مداخلت کی راہ مسدود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روزنامہ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ فیصلہ توانائی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں کیا گیا ہے جس کی توثیق نگراں وفاقی کابینہ نے کردی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;23 فروری 2024 کو توانائی سے متعلق کابینہ کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ پاور ڈویژن مارکیٹ ریفارمز کے حوالے سے سنگل بائر ماڈل کے بجائے کمپیٹیٹیو ٹریڈنگ بائیلیٹرل کونٹریکٹ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کے لیے کام کر رہی ہے۔ کابینہ ڈویژن نے 27 مارچ 2020 کو توانائی کی کابینہ کمیٹی کے سامنے سی ٹی بی سی ایم ماڈل اور روڈ میپ بھی پیش کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30346025"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے توانائی سے متعلق مارکیٹ ریفارمز میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا اور سی ٹی بی سی ایم کے نفاذ کی نگرانی پر بھی آمادگی ظاہر کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژین کو اس حوالے سے پیش رفت کے بارے میں ماہانہ بنیاد پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔ کابینہ ڈویژن نے جنوری 2024 میں اس حوالے سے تازہ ترین رپورٹ پیش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیش رفت رپورٹ کا پہلا حصہ سی ٹٰ بی سی ایم سے متعلق کلیدی اپ ڈیٹ پر مشتمل ہے جس میں نیپرا کے لیے فائنل ٹیسٹ رن رپورٹ کی کابینہ کمیٹی برائے توانائی کی منظوری بھی شامل ہے تاکہ اسے نگراں وفاقی کابینہ کی منظوری دلائی جاسکے۔ رپورٹ کا دوسرا حصہ پاکستان میں بجلی کے تھوک نرخوں کے حوالے سے پاور سیکٹر کی تیاری سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کا تیسرا حصہ سی ٹی بی سی ایم ٹیسٹ رن مرحلے سے متعلق تیاریوں کے بارے میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30372458"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحث و تمحیص کے دوران یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ سی ٹی بی سی ایم کے حوالے سے زیادہ تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اچھا خاصا وقت گزر چکا ہے۔ یہ طے کیا گیا کہ پی پی آئی بی کو اس حوالے سے تمام ضروری کام مارچ 2024 تک مکمل کرلینا چاہیے اور نیپرا کو بھی اپنے حصے کا کام جون 2024 تک مکمل کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی طے کیا گیا کہ نیپرا اور اوگرا کے قوانین میں ضروری ترامیم کی جائیں تاکہ نرخ ناموں کے تعین اور اجرا میں حکومتی مداخلت روکی جاسکے۔ اس حوالے سے شکایات کے ازالے لیے ٹربیونلز کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے پاور اینڈ پٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ نیپرا اور اوگرا کے قوانین میں ضروری ترامیم کی تیاری کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل پاور ریگیولیرٹری اتھارٹی (نیپرا) اور آئل اینڈ گیس ریگیولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے قوانین میں ترامیم کی تیاری کی جارہی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد دونوں اتھارٹیز کے معاملات میں بے جا حکومتی مداخلت کی گنجائش ختم کرنا ہے۔</strong></p>
<p>نگراں وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ دونوں ریگیولیٹری اتھارٹیز کو زیادہ سے زیادہ خود مختار بنایا جائے گا تاکہ وہ شفاف اور غیر جانب دارانہ طریقے سے کام کرسکیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں اتھارٹیز کے جاری کردہ نرخ ناموں میں حکومتی مداخلت کی راہ مسدود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔</p>
<p>روزنامہ بزنس ریکارڈر کے مطابق یہ فیصلہ توانائی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں کیا گیا ہے جس کی توثیق نگراں وفاقی کابینہ نے کردی ہے۔</p>
<p>23 فروری 2024 کو توانائی سے متعلق کابینہ کمیٹی کو بتایا گیا تھا کہ پاور ڈویژن مارکیٹ ریفارمز کے حوالے سے سنگل بائر ماڈل کے بجائے کمپیٹیٹیو ٹریڈنگ بائیلیٹرل کونٹریکٹ مارکیٹ (سی ٹی بی سی ایم) کے لیے کام کر رہی ہے۔ کابینہ ڈویژن نے 27 مارچ 2020 کو توانائی کی کابینہ کمیٹی کے سامنے سی ٹی بی سی ایم ماڈل اور روڈ میپ بھی پیش کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30346025"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے توانائی سے متعلق مارکیٹ ریفارمز میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا اور سی ٹی بی سی ایم کے نفاذ کی نگرانی پر بھی آمادگی ظاہر کی تھی۔</p>
<p>پاور ڈویژین کو اس حوالے سے پیش رفت کے بارے میں ماہانہ بنیاد پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی گئی تھی۔ کابینہ ڈویژن نے جنوری 2024 میں اس حوالے سے تازہ ترین رپورٹ پیش کی۔</p>
<p>اس پیش رفت رپورٹ کا پہلا حصہ سی ٹٰ بی سی ایم سے متعلق کلیدی اپ ڈیٹ پر مشتمل ہے جس میں نیپرا کے لیے فائنل ٹیسٹ رن رپورٹ کی کابینہ کمیٹی برائے توانائی کی منظوری بھی شامل ہے تاکہ اسے نگراں وفاقی کابینہ کی منظوری دلائی جاسکے۔ رپورٹ کا دوسرا حصہ پاکستان میں بجلی کے تھوک نرخوں کے حوالے سے پاور سیکٹر کی تیاری سے متعلق ہے۔</p>
<p>رپورٹ کا تیسرا حصہ سی ٹی بی سی ایم ٹیسٹ رن مرحلے سے متعلق تیاریوں کے بارے میں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30372458"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بحث و تمحیص کے دوران یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ سی ٹی بی سی ایم کے حوالے سے زیادہ تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اچھا خاصا وقت گزر چکا ہے۔ یہ طے کیا گیا کہ پی پی آئی بی کو اس حوالے سے تمام ضروری کام مارچ 2024 تک مکمل کرلینا چاہیے اور نیپرا کو بھی اپنے حصے کا کام جون 2024 تک مکمل کرنا چاہیے۔</p>
<p>یہ بھی طے کیا گیا کہ نیپرا اور اوگرا کے قوانین میں ضروری ترامیم کی جائیں تاکہ نرخ ناموں کے تعین اور اجرا میں حکومتی مداخلت روکی جاسکے۔ اس حوالے سے شکایات کے ازالے لیے ٹربیونلز کے قیام کا بھی فیصلہ کیا گیا۔</p>
<p>کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے پاور اینڈ پٹرولیم ڈویژن کو ہدایت کی کہ نیپرا اور اوگرا کے قوانین میں ضروری ترامیم کی تیاری کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30373089</guid>
      <pubDate>Wed, 28 Feb 2024 09:02:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/02/2809000839ce436.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/02/2809000839ce436.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
