<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 23:18:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 23:18:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ٹی آئی کا سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے پر سپریم کورٹ جانے کا اعلان</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30374138/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بیرسٹر علی ظفر [سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کے فیصلے][1] کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کا اعلان کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن کے فیصلے پر سینیٹ میں تقریرکرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر علی ظفر نےکہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو ایک منٹ بھی اس عہدے پر نہیں رہنا چاہیے، اس فیصلے کے بعد صدارتی اور  سینیٹ کے الیکشن ہمیں منظور نہیں ہوں گے، الیکشن کمیشن کے فیصلےکو چیلنج کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرسٹر علی ظفر نےکہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی تھی کہ وزارت عظمیٰ کے الیکشن سے پہلے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ کرے، آرٹیکل 51 کے مطابق جتنی سیٹیں جیتی ہوں اس کے مطابق مخصوص نشستیں ملیں گی، آئین کے مطابق اگر آزاد امیدوار کسی جماعت میں شامل ہوں تو اس جماعت کو مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش تھی کہ انتخابی نشان لے کر ہمارے ووٹرز کو کنفیوز کریں لیکن یہ ناکام رہے، الیکشن کمیشن نے ہمیں 23 مخصوص نشستیں دینا تھیں، آج الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ یہ نشستیں ہمیں نہیں دے رہے، شاید الیکشن کمیشن نے یہ مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کا دینےکا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30374134"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ فیصلے کے بعد ظاہر ہوگیا کہ الیکشن کمیشن اپنے فرائض کی خلاف ورزی کر رہا ہے، مطالبہ کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن مستعفی ہو، آج کے فیصلے کے بعد یہ الیکشن کمیشن ایک منٹ بھی عہدوں نہیں رہ سکتا، مخصوص نشستوں سے متعلق جب تک عدلیہ کا حتمی فیصلہ نہیں آتا اس وقت تک سینیٹ اور صدارتی الیکشن نہیں ہوسکتا، مطالبہ کرتے ہیں کہ صدارتی اور سینیٹ کا الیکشن ملتوی کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے پر  ردعمل دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شعیب  شاہین کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف عدالت جائیں گے، مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین  اور  قانون کے خلاف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی نہ نیت درست ہے اور نہ فیصلہ درست ہے، امید ہےکہ ہائی کورٹ سے  ریلیف ملےگا، سپریم کورٹ جانےکا بھی حق رکھتے ہیں،  مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین اور قانون کے خلاف ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما بیرسٹر علی ظفر [سنی اتحاد کونسل کو مخصوص نشستیں نہ دینے کے فیصلے][1] کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کا اعلان کردیا۔</strong></p>
<p>الیکشن کمیشن کے فیصلے پر سینیٹ میں تقریرکرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر علی ظفر نےکہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو ایک منٹ بھی اس عہدے پر نہیں رہنا چاہیے، اس فیصلے کے بعد صدارتی اور  سینیٹ کے الیکشن ہمیں منظور نہیں ہوں گے، الیکشن کمیشن کے فیصلےکو چیلنج کریں گے۔</p>
<p>بیرسٹر علی ظفر نےکہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی تھی کہ وزارت عظمیٰ کے الیکشن سے پہلے مخصوص نشستوں سے متعلق فیصلہ کرے، آرٹیکل 51 کے مطابق جتنی سیٹیں جیتی ہوں اس کے مطابق مخصوص نشستیں ملیں گی، آئین کے مطابق اگر آزاد امیدوار کسی جماعت میں شامل ہوں تو اس جماعت کو مخصوص نشستیں ملنی چاہئیں۔</p>
<p>بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش تھی کہ انتخابی نشان لے کر ہمارے ووٹرز کو کنفیوز کریں لیکن یہ ناکام رہے، الیکشن کمیشن نے ہمیں 23 مخصوص نشستیں دینا تھیں، آج الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ یہ نشستیں ہمیں نہیں دے رہے، شاید الیکشن کمیشن نے یہ مخصوص نشستیں دیگر جماعتوں کا دینےکا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30374134"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ فیصلے کے بعد ظاہر ہوگیا کہ الیکشن کمیشن اپنے فرائض کی خلاف ورزی کر رہا ہے، مطالبہ کرتے ہیں کہ الیکشن کمیشن مستعفی ہو، آج کے فیصلے کے بعد یہ الیکشن کمیشن ایک منٹ بھی عہدوں نہیں رہ سکتا، مخصوص نشستوں سے متعلق جب تک عدلیہ کا حتمی فیصلہ نہیں آتا اس وقت تک سینیٹ اور صدارتی الیکشن نہیں ہوسکتا، مطالبہ کرتے ہیں کہ صدارتی اور سینیٹ کا الیکشن ملتوی کیا جائے۔</p>
<p>فیصلے پر  ردعمل دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شعیب  شاہین کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف عدالت جائیں گے، مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین  اور  قانون کے خلاف ہے۔</p>
<p>شعیب شاہین کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی نہ نیت درست ہے اور نہ فیصلہ درست ہے، امید ہےکہ ہائی کورٹ سے  ریلیف ملےگا، سپریم کورٹ جانےکا بھی حق رکھتے ہیں،  مخصوص نشستوں سے متعلق الیکشن کمیشن کا فیصلہ آئین اور قانون کے خلاف ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30374138</guid>
      <pubDate>Mon, 04 Mar 2024 18:32:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/03/0418041523db867.jpg?r=180458" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/03/0418041523db867.jpg?r=180458"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
