<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Health</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 19:37:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 11 Apr 2026 19:37:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجلی اور گیس مہنگی کرنے کے بجائے سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30374361/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ماہرین صحت اور تمباکو کی حوصلہ شکنی کرنے والوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ سگریٹ پر ٹیکسز کو عالمی ادارہ صحت کی ہدایات سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو سگریٹ نوشی کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں سگریٹ پر کم ٹیکس ہونے کی وجہ سے یہ خطے میں سب سے سستی پاکستان میں ہی فروخت ہوتی ہیں، جس سے نہ صرف ہر سال تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں اور صحت سے متعلق حکومتی بجٹ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دنوں غیر سرکاری تنظیم  کمپین فار ٹوبیکو فری کڈز (سی ٹی ایف کے) پاکستان  کے کنٹری ہیڈ ملک عمران احمد بھی کہہ چکے ہیں کہ صحت کی لاگت کے بوجھ اور معاشی بحران کو کم کرنے کے لیے &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30373653"&gt;تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کرنے کی ضرورت&lt;/a&gt; ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/120401"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی جانب سے تمباکو نوشی کے حوالے سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی 86 فیصد افراد 35 سے 64 سال کی عمر کے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمباکو نوشی سے ہونے والی اموات اور بیماری کی کل لاگت اس ملک کے جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے جو صحت کی دیکھ بھال پر اپنی جی ڈی پی کا ایک فیصد سے بھی کم خرچ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمباکو نوشی کا شکار افراد کے معالج ڈاکٹر مالک حیدر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ان کے زیادہ تر مریض غریب اورمزدوری کرنے والے ہیں جو  کم عمری میں ہی سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں اور 30 سال کو عبور کرنے تک بیمار پڑ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/112992"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مطالعے میں ’سگریٹ سستے کیوں ہیں‘ کے سوال پر روشنی ڈالتے ہوئے تحقیق  کی گئی ہے کہ ایسا ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے مقرر کردہ رہنما اصولوں کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکس کے دو درجوں پر شرح کو زیادہ اضافے کے ساتھ بڑھایا جانا چاہیے تاکہ ان کے درمیان فرق کم سے کم ہو، اس سے تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2021-22 میں سگریٹ پر ٹیکس سے حاصل ہونے والی کل آمدنی 150 ارب روپے تھی، لہٰذا تمباکو نوشی سے معاشرے پر عائد معاشی اور صحت کی لاگت تمباکو کی صنعت سے جمع ہونے والے مجموعی ٹیکس سے 3.65 گنا زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30373653"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح تمباکو نوشی سے منسوب براہ راست لاگت صحت کے کل اخراجات کا 8.3 فیصد ہے جو کہ نمایاں طور پر زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمباکو نوشی کی کل اقتصادی لاگت پبلک سیکٹر کے صحت کے اخراجات (وفاقی اور صوبائی دونوں) کے تقریباً برابر (1.03 گنا) ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تمباکو مخالف سماجی کارکنوں نے بجلی اور گیس جیسی سہولیات کے بجائے سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ماہرین صحت اور تمباکو کی حوصلہ شکنی کرنے والوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ سگریٹ پر ٹیکسز کو عالمی ادارہ صحت کی ہدایات سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ نوجوانوں کو سگریٹ نوشی کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے۔</strong></p>
<p>پاکستان میں سگریٹ پر کم ٹیکس ہونے کی وجہ سے یہ خطے میں سب سے سستی پاکستان میں ہی فروخت ہوتی ہیں، جس سے نہ صرف ہر سال تمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں اور صحت سے متعلق حکومتی بجٹ میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔</p>
<p>گزشتہ دنوں غیر سرکاری تنظیم  کمپین فار ٹوبیکو فری کڈز (سی ٹی ایف کے) پاکستان  کے کنٹری ہیڈ ملک عمران احمد بھی کہہ چکے ہیں کہ صحت کی لاگت کے بوجھ اور معاشی بحران کو کم کرنے کے لیے <a href="https://www.aaj.tv/news/30373653">تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کی شرح میں 30 فیصد اضافہ کرنے کی ضرورت</a> ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/120401"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی جانب سے تمباکو نوشی کے حوالے سے جاری کی گئی ایک رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ تمباکو نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی 86 فیصد افراد 35 سے 64 سال کی عمر کے ہوتے ہیں۔</p>
<p>تمباکو نوشی سے ہونے والی اموات اور بیماری کی کل لاگت اس ملک کے جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے جو صحت کی دیکھ بھال پر اپنی جی ڈی پی کا ایک فیصد سے بھی کم خرچ کرتا ہے۔</p>
<p>تمباکو نوشی کا شکار افراد کے معالج ڈاکٹر مالک حیدر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ان کے زیادہ تر مریض غریب اورمزدوری کرنے والے ہیں جو  کم عمری میں ہی سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں اور 30 سال کو عبور کرنے تک بیمار پڑ جاتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/112992"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مطالعے میں ’سگریٹ سستے کیوں ہیں‘ کے سوال پر روشنی ڈالتے ہوئے تحقیق  کی گئی ہے کہ ایسا ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے مقرر کردہ رہنما اصولوں کو نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہوا ہے۔</p>
<p>ٹیکس کے دو درجوں پر شرح کو زیادہ اضافے کے ساتھ بڑھایا جانا چاہیے تاکہ ان کے درمیان فرق کم سے کم ہو، اس سے تمباکو نوشی سے متعلق بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>مذکورہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2021-22 میں سگریٹ پر ٹیکس سے حاصل ہونے والی کل آمدنی 150 ارب روپے تھی، لہٰذا تمباکو نوشی سے معاشرے پر عائد معاشی اور صحت کی لاگت تمباکو کی صنعت سے جمع ہونے والے مجموعی ٹیکس سے 3.65 گنا زیادہ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30373653"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسی طرح تمباکو نوشی سے منسوب براہ راست لاگت صحت کے کل اخراجات کا 8.3 فیصد ہے جو کہ نمایاں طور پر زیادہ ہے۔</p>
<p>تمباکو نوشی کی کل اقتصادی لاگت پبلک سیکٹر کے صحت کے اخراجات (وفاقی اور صوبائی دونوں) کے تقریباً برابر (1.03 گنا) ہے۔</p>
<p>تمباکو مخالف سماجی کارکنوں نے بجلی اور گیس جیسی سہولیات کے بجائے سگریٹ پر ٹیکس بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30374361</guid>
      <pubDate>Tue, 05 Mar 2024 20:26:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/03/05201858aace5f4.jpg?r=202412" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/03/05201858aace5f4.jpg?r=202412"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
