<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 06:34:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 06:34:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیدیا، استعفے کے باوجود برطرفی کی سفارش صدر کو بھجوا دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30374770/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دے دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو برطرف کرنے کی سفارش اور اپنی رائے منظوری کیلئے صدر مملکت کو بھجوا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں سال 10 جنوری کو سپریم کورٹ کے جج &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30365090/"&gt;جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استعفا دے دیا تھا&lt;/a&gt;، تاہم، سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ یا مستعفی ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی جاری رکھنے یا نہ رکھنے پر سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30371992/"&gt;استعفا دینے سے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی نہیں رکے گی&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں بتایا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا 29 فروری اور یکم مارچ کو اجلاس ہوا، جس میں جسٹس مظاہر نقوی پر بطور جج سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ لگائے گئے الزامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں شریک ججز نے ان الزامات اور صفائی پیش نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق جسٹس مظاہر نقوی آرٹیکل پانچ کی خلاف ورزی کرکے مس کنڈکٹ کے مرتکب ٹھہرے۔ مذکورہ جج کے خلاف 6 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے پانچ پر معزز اراکین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں شوکاز نوٹس جاری کر کے 14 روز میں جواب جمع کرانے کی مہلت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے یہ بات آئی کہ مظاہر نقوی آئین کے آرٹیکل 209 (6) کے مرتکب ہوئے ہیں اور مجرم قرار دیے گئے لہذا صدر مملکت انہیں عہدے سے برطرف کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت زیرِسماعت تھی جس میں ان پر اثاثوں سے متعلق الزامات تھے، اس کے علاوہ ان کی ایک مبینہ آڈیو بھی سامنے آئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے سپریم جوڈیشل کونسل نے &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/30373568"&gt;جسٹس (ر) مظاہر نقوی کے خلاف شکایت پر کارروائی مکمل&lt;/a&gt; کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کونسل نے اپنے رول 5 میں ترمیم کی ہے، رول 5 میں ترمیم کے بعد الزامات پر وضاحت دینے کا حق ججز کو دے دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری اعلامیےکے مطابق سپریم کورٹ اور  ہائی کورٹ کے ججز  پر الزامات لگا کر  ان کی تشہیرکی گئی،کئی ججز نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات  پر تشویش کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے کے مطابق ججز کا مؤقف ہے کہ بےبنیاد الزامات پر جواب سے ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 5 کی خلاف ورزی ہوگی، کونسل مشاورت کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ بےبنیاد الزامات کا جواب  دینے سے شق 5 کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، ججز کی تشویش کے باعث ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 5 میں ترمیم کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دے دیا ہے۔</strong></p>
<p>سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو برطرف کرنے کی سفارش اور اپنی رائے منظوری کیلئے صدر مملکت کو بھجوا دی۔</p>
<p>رواں سال 10 جنوری کو سپریم کورٹ کے جج <a href="https://www.aaj.tv/news/30365090/">جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استعفا دے دیا تھا</a>، تاہم، سپریم کورٹ نے ریٹائرڈ یا مستعفی ججز کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی جاری رکھنے یا نہ رکھنے پر سے متعلق کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ <a href="https://www.aaj.tv/news/30371992/">استعفا دینے سے سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی نہیں رکے گی</a>۔</p>
<p>اعلامیے میں بتایا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کا 29 فروری اور یکم مارچ کو اجلاس ہوا، جس میں جسٹس مظاہر نقوی پر بطور جج سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ لگائے گئے الزامات کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں شریک ججز نے ان الزامات اور صفائی پیش نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق جسٹس مظاہر نقوی آرٹیکل پانچ کی خلاف ورزی کرکے مس کنڈکٹ کے مرتکب ٹھہرے۔ مذکورہ جج کے خلاف 6 شکایات موصول ہوئیں، جن میں سے پانچ پر معزز اراکین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں شوکاز نوٹس جاری کر کے 14 روز میں جواب جمع کرانے کی مہلت دی۔</p>
<p>سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے یہ بات آئی کہ مظاہر نقوی آئین کے آرٹیکل 209 (6) کے مرتکب ہوئے ہیں اور مجرم قرار دیے گئے لہذا صدر مملکت انہیں عہدے سے برطرف کریں۔</p>
<p>جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت زیرِسماعت تھی جس میں ان پر اثاثوں سے متعلق الزامات تھے، اس کے علاوہ ان کی ایک مبینہ آڈیو بھی سامنے آئی تھی۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے سپریم جوڈیشل کونسل نے <a href="https://www.aaj.tv/news/30373568">جسٹس (ر) مظاہر نقوی کے خلاف شکایت پر کارروائی مکمل</a> کی تھی۔</p>
<p>سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کونسل نے اپنے رول 5 میں ترمیم کی ہے، رول 5 میں ترمیم کے بعد الزامات پر وضاحت دینے کا حق ججز کو دے دیا گیا ہے۔</p>
<p>سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جاری اعلامیےکے مطابق سپریم کورٹ اور  ہائی کورٹ کے ججز  پر الزامات لگا کر  ان کی تشہیرکی گئی،کئی ججز نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات  پر تشویش کا اظہار کیا۔</p>
<p>اعلامیے کے مطابق ججز کا مؤقف ہے کہ بےبنیاد الزامات پر جواب سے ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 5 کی خلاف ورزی ہوگی، کونسل مشاورت کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ بےبنیاد الزامات کا جواب  دینے سے شق 5 کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، ججز کی تشویش کے باعث ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی شق 5 میں ترمیم کی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30374770</guid>
      <pubDate>Fri, 08 Mar 2024 01:16:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افضل جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/03/0719433132124ae.jpg?r=194412" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/03/0719433132124ae.jpg?r=194412"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
