<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 04:05:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 04:05:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مظاہر نقوی کے ساتھ جج نہ لکھنے کا حکم، فیصلے کا متن سامنے آگیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30374894/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سپریم کورٹ کے سابق جج مظاہر علی اکبر نقوی کےخلاف جوڈیشل کونسل کی رائے کے مزید مندرجات سامنےآگئے۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے گزشتہ روز مظاہر نقوی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیا تھا، اور ان کے استعفے کے باوجود برطرفی کی سفارش صدر کو بھجوا دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جوڈیشل کونسل کی رائے کے مزید مندرجات جو سامنے آئے، اس کے مطابق مظاہرعلی اکبر نقوی پر مجموعی طور پر 5 الزامات ثابت ہوئے۔ جسٹس نقوی کی جانب سے کوڈ آف کنڈکٹ کی متعدد خلاف ورزیوں سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہوئی،  جسٹس نقوی سنجیدہ مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے، ’کونسل
مس کنڈکٹ کے مرتکب ہونے کے باعث مظاہرعلی نقوی کے ساتھ جج کا لفظ نہ استعمال کیا جائے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کونسل نے رائے دی کہ مظاہرعلی اکبر میں لالچ نہ ہونے کا نہیں کہا جا سکتا، اپنےعہدے کی مدت کےدوران مظاہرعلی نقوی قابل رسائی بھی تھے۔ جسٹس نقوی عہدے کے دوران اپنے دفتری اور ذاتی امور میں بھی غیر مناسب رہے جو کہ کنڈکٹ کوڈ 3 کی خلاف ورزی یے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30374770"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے کونسل نے مزید رائے دی کہ  جسٹس نقوی کے اقدامات ذاتی مفاد کی طرف مائل کر رہے تھے،  چوہدری شہباز کیس میں جسٹس نقوی نے ذاتی مفاد اور جانتے بوجھتے ہوئے کم عمر بچوں کو قیمتی جائیداد سے محروم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کونسل نے یہ رائے بھی دی کہ  جسٹس نقوی نے اپنے عہدے کے دوران قیمتی تحائف وصول کئے جن کی وضاحت نہیں،  جسٹس نقوی کی جانب سے وصول کئے گئے قیمتی تحائف میں پچاس لاکھ ، بیٹوں کی جانب سے دو کمرشل، رہائشی پلاٹس معمولی قیمت پر حاصل کرنا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سپریم کورٹ کے سابق جج مظاہر علی اکبر نقوی کےخلاف جوڈیشل کونسل کی رائے کے مزید مندرجات سامنےآگئے۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے گزشتہ روز مظاہر نقوی کو عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی۔</strong></p>
<p>جمعرات کو سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس مظاہر نقوی کو مس کنڈکٹ کا مرتکب قرار دیا تھا، اور ان کے استعفے کے باوجود برطرفی کی سفارش صدر کو بھجوا دی تھی۔</p>
<p>جوڈیشل کونسل کی رائے کے مزید مندرجات جو سامنے آئے، اس کے مطابق مظاہرعلی اکبر نقوی پر مجموعی طور پر 5 الزامات ثابت ہوئے۔ جسٹس نقوی کی جانب سے کوڈ آف کنڈکٹ کی متعدد خلاف ورزیوں سے عدلیہ کی ساکھ متاثر ہوئی،  جسٹس نقوی سنجیدہ مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے، ’کونسل
مس کنڈکٹ کے مرتکب ہونے کے باعث مظاہرعلی نقوی کے ساتھ جج کا لفظ نہ استعمال کیا جائے‘۔</p>
<p>کونسل نے رائے دی کہ مظاہرعلی اکبر میں لالچ نہ ہونے کا نہیں کہا جا سکتا، اپنےعہدے کی مدت کےدوران مظاہرعلی نقوی قابل رسائی بھی تھے۔ جسٹس نقوی عہدے کے دوران اپنے دفتری اور ذاتی امور میں بھی غیر مناسب رہے جو کہ کنڈکٹ کوڈ 3 کی خلاف ورزی یے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30374770"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس حوالے سے کونسل نے مزید رائے دی کہ  جسٹس نقوی کے اقدامات ذاتی مفاد کی طرف مائل کر رہے تھے،  چوہدری شہباز کیس میں جسٹس نقوی نے ذاتی مفاد اور جانتے بوجھتے ہوئے کم عمر بچوں کو قیمتی جائیداد سے محروم کیا۔</p>
<p>کونسل نے یہ رائے بھی دی کہ  جسٹس نقوی نے اپنے عہدے کے دوران قیمتی تحائف وصول کئے جن کی وضاحت نہیں،  جسٹس نقوی کی جانب سے وصول کئے گئے قیمتی تحائف میں پچاس لاکھ ، بیٹوں کی جانب سے دو کمرشل، رہائشی پلاٹس معمولی قیمت پر حاصل کرنا شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30374894</guid>
      <pubDate>Fri, 08 Mar 2024 16:20:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/03/08160400700fbb8.png?r=161242" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/03/08160400700fbb8.png?r=161242"/>
        <media:title>فوٹو ۔۔ فائل
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
