<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 17:02:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 17:02:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت نے کابل حکومت سے رابطے بڑھانا شروع کردیئے، وفد کا دورہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30375060/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مودی سرکار نے کابل حکومت سے رابطے بڑھانا شروع کردیا ہے۔ بھارت کے ایک وفد نے افغانستان کے دارالحکومت کابل کا دورہ کرکے وزیر خارجہ اور سابق صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روزنامہ انڈین ایکسپریس نے بتایا ہے کہ بھارتی وفد نے کابل میں افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے معاون مشن کے نمائندوں کے علاوہ کاروباری برادری کی نمایاں شخصیات سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وفد کی قیادت امورِ خارجہ کی وزارت میں پاکستان، افغانستان اور ایران سے متعلق معاملات کے جوائنٹ سیکریٹری نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جائسوال نے بتایا کہ بھارت نے کابل میں ٹیکنیکل مشن جون 2012 میں کھولا تھا۔ تب سے یہ مشن افغان باشندوں کی امداد کے حوالے سے کام کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30374599"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی وفد نے افغان تاجروں کے لیے ایران کی چابہار بندر گاہ کے استعمال کے بارے میں بھی گفت و شنید کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے بتایا کہ بھارتی وفد نے افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے بھی بات چیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبدالقہار بلخی نے مزید بتایا کہ بھارت کی حکومت سیاسی اور معاشی معاملات میں افغانستان سے زیادہ گہرے تعلقات چاہتی ہے اور چابہار کی بندرگاہ کے ذریعے افغانستان کی مدد کرنے کی خواہش مند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ ایران کی چابہار بندرگاہ کی تعمیر میں بھارت نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مودی سرکار نے کابل حکومت سے رابطے بڑھانا شروع کردیا ہے۔ بھارت کے ایک وفد نے افغانستان کے دارالحکومت کابل کا دورہ کرکے وزیر خارجہ اور سابق صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی ہے۔</strong></p>
<p>روزنامہ انڈین ایکسپریس نے بتایا ہے کہ بھارتی وفد نے کابل میں افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کے معاون مشن کے نمائندوں کے علاوہ کاروباری برادری کی نمایاں شخصیات سے بھی ملاقاتیں کی ہیں۔</p>
<p>بھارتی وفد کی قیادت امورِ خارجہ کی وزارت میں پاکستان، افغانستان اور ایران سے متعلق معاملات کے جوائنٹ سیکریٹری نے کی۔</p>
<p>بھارت وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جائسوال نے بتایا کہ بھارت نے کابل میں ٹیکنیکل مشن جون 2012 میں کھولا تھا۔ تب سے یہ مشن افغان باشندوں کی امداد کے حوالے سے کام کر رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30374599"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارتی وفد نے افغان تاجروں کے لیے ایران کی چابہار بندر گاہ کے استعمال کے بارے میں بھی گفت و شنید کی۔</p>
<p>افغانستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے بتایا کہ بھارتی وفد نے افغانستان کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے بھی بات چیت کی۔</p>
<p>عبدالقہار بلخی نے مزید بتایا کہ بھارت کی حکومت سیاسی اور معاشی معاملات میں افغانستان سے زیادہ گہرے تعلقات چاہتی ہے اور چابہار کی بندرگاہ کے ذریعے افغانستان کی مدد کرنے کی خواہش مند ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ ایران کی چابہار بندرگاہ کی تعمیر میں بھارت نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30375060</guid>
      <pubDate>Sat, 09 Mar 2024 13:29:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/03/091326262c51b0b.webp?r=132859" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/03/091326262c51b0b.webp?r=132859"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/03/09132612a7587c9.webp?r=132933" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/03/09132612a7587c9.webp?r=132933"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
