<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 18:09:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 18:09:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان نے پہلی بار اپنے پھل زمینی راستے سے روس پہنچا دیے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30375180/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;علاقائی تجارت کا سنگ میل عبور کرلیا گیا، پاکستان کے باغات سے زمینی راستے کے ذریعے روس تک پھلوں کی ترسیل شروع کردی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ایل سی کی گاڑیوں کا قافلہ کینو کی کھیپ لے کر روس پہنچ گیا، مجموعی طور پر 16 گاڑیاں کینو لے کر سرگودھا سے روانہ ہوئیں، گاڑیوں نے مجموعی طور پر 6 ہزار کلومیٹر فاصلہ طے کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;14 گاڑیاں روس کے شہر دربنت اور 2 گروزنی پہنچیں، این ایل سی کی گاڑیاں 3 ممالک سے ہوتی ہوئی روس میں داخل ہوئیں، این ایل سی ریفر سروس کا اجراء زرعی شعبے کے لئے اہم پیش رفت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کولڈ چین کی عدم دستیابی کی وجہ سے 40 فیصد تازہ زرعی پیداوار خراب ہوجاتی ہیں، ریفر سروس کی بدولت پھلوں کی دوران ترسیل تازگی برقرار رہتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PashtunWali79/status/1766523695453897212"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی ٹرکوں کے دربنت پہنچنے پر استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، تقریب میں بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ یونین کے نمائندگان،روس کے کسٹمز حکام، پاکستانی سفارت خانے کے افسران اور تاجر برادری نے شرکت کی۔
&lt;img src="https://www.aaj.tv/news/30375247/" alt=".   " /&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی حکام کی جانب سے این ایل سی کی اس کاوش کا خیرمقدم کیا گیا، این ایل سی کے اس قدم سے پاکستان اور روس کی باہمی تجارت کو فروغ ملے گا، این ایل سی ماضی میں بھی کیلے، گوشت اور سی فوڈ قازقستان ازبکستان کرغستان اور چین پہنچا چکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>علاقائی تجارت کا سنگ میل عبور کرلیا گیا، پاکستان کے باغات سے زمینی راستے کے ذریعے روس تک پھلوں کی ترسیل شروع کردی گئی۔</strong></p>
<p>این ایل سی کی گاڑیوں کا قافلہ کینو کی کھیپ لے کر روس پہنچ گیا، مجموعی طور پر 16 گاڑیاں کینو لے کر سرگودھا سے روانہ ہوئیں، گاڑیوں نے مجموعی طور پر 6 ہزار کلومیٹر فاصلہ طے کیا۔</p>
<p>14 گاڑیاں روس کے شہر دربنت اور 2 گروزنی پہنچیں، این ایل سی کی گاڑیاں 3 ممالک سے ہوتی ہوئی روس میں داخل ہوئیں، این ایل سی ریفر سروس کا اجراء زرعی شعبے کے لئے اہم پیش رفت ہے۔</p>
<p>کولڈ چین کی عدم دستیابی کی وجہ سے 40 فیصد تازہ زرعی پیداوار خراب ہوجاتی ہیں، ریفر سروس کی بدولت پھلوں کی دوران ترسیل تازگی برقرار رہتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PashtunWali79/status/1766523695453897212"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>پاکستانی ٹرکوں کے دربنت پہنچنے پر استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا، تقریب میں بین الاقوامی روڈ ٹرانسپورٹ یونین کے نمائندگان،روس کے کسٹمز حکام، پاکستانی سفارت خانے کے افسران اور تاجر برادری نے شرکت کی۔
<img src="https://www.aaj.tv/news/30375247/" alt=".   " /></p>
<p>روسی حکام کی جانب سے این ایل سی کی اس کاوش کا خیرمقدم کیا گیا، این ایل سی کے اس قدم سے پاکستان اور روس کی باہمی تجارت کو فروغ ملے گا، این ایل سی ماضی میں بھی کیلے، گوشت اور سی فوڈ قازقستان ازبکستان کرغستان اور چین پہنچا چکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30375180</guid>
      <pubDate>Mon, 11 Mar 2024 10:09:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/03/100928010cd109f.jpg?r=092809" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/03/100928010cd109f.jpg?r=092809"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
