<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 20:29:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 20:29:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا اور اتحادیوں نے حوثیوں کے درجنوں ڈرون مار گرائے</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30375268/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکا اور اس کے اتحادیوں کی افواج نے یمن کی ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے درجنوں ڈرون مار گرائے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثی ملیشیا نے امریکا کے جنگی جہازوں اور ایک مال بردار جہاز ’پروپیل فورچیون‘ کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ اس مقصد کے لیے کم و بیش 37 ڈرون اڑائے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحیرہ احمر میں حوثی ملیشیا کے ڈرون گرانے کے عمل میں امریکا اور برطانیہ کے ساتھ فرانس کی فوج نے بھی حصہ لیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;7 اکتوبر کے بعد سے یمن کی حوثی ملیشیا غزہ پر اسرائیلی فوج کے حملوں کے جواب میں بحیرہ احمر اور خلیجِ عدن میں تجارتی جہاز رانی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اسرائیل سے کسی بھی قسم کا تعلق رکھنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30368977"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حوثی ملیشیا کے ترجمان یحیٰ سریعہ نے ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حوثی ملیشیا نے بحیرہ احمر میں امریکا کے ایک مال بردار جہاز اور کئی جنگی جہازوں کو 37 ڈرونز کی مدد سے نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ امریکا، برطانیہ اور فرانس نے مل کر بحیرہ احمر میں لانچ کیے جانے والے حوثی ملیشیا کے 28 ڈرون مار گرائے ہیں۔ ایک بیان میں سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ حوثیوں کے داغے ہوئے ڈرونز سے کسی بھی مال بردار جہاز یا امریکی جنگی جہاز کو نقصان نہیں پہنچا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکا اور اس کے اتحادیوں کی افواج نے یمن کی ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے درجنوں ڈرون مار گرائے ہیں۔</strong></p>
<p>حوثی ملیشیا نے امریکا کے جنگی جہازوں اور ایک مال بردار جہاز ’پروپیل فورچیون‘ کو نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ اس مقصد کے لیے کم و بیش 37 ڈرون اڑائے گئے۔</p>
<p>بحیرہ احمر میں حوثی ملیشیا کے ڈرون گرانے کے عمل میں امریکا اور برطانیہ کے ساتھ فرانس کی فوج نے بھی حصہ لیا۔</p>
<p>7 اکتوبر کے بعد سے یمن کی حوثی ملیشیا غزہ پر اسرائیلی فوج کے حملوں کے جواب میں بحیرہ احمر اور خلیجِ عدن میں تجارتی جہاز رانی کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اسرائیل سے کسی بھی قسم کا تعلق رکھنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30368977"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حوثی ملیشیا کے ترجمان یحیٰ سریعہ نے ٹیلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حوثی ملیشیا نے بحیرہ احمر میں امریکا کے ایک مال بردار جہاز اور کئی جنگی جہازوں کو 37 ڈرونز کی مدد سے نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی۔</p>
<p>امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے بتایا کہ امریکا، برطانیہ اور فرانس نے مل کر بحیرہ احمر میں لانچ کیے جانے والے حوثی ملیشیا کے 28 ڈرون مار گرائے ہیں۔ ایک بیان میں سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ حوثیوں کے داغے ہوئے ڈرونز سے کسی بھی مال بردار جہاز یا امریکی جنگی جہاز کو نقصان نہیں پہنچا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30375268</guid>
      <pubDate>Sun, 10 Mar 2024 17:09:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/03/10170019338fca5.webp?r=170034" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/03/10170019338fca5.webp?r=170034"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
