<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 21:08:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 21:08:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسپیس ایکس نے بڑا اسٹارشپ کامیابی سے لانچ کردیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30376048/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ٹیسلا کے مالک ایلون مسک کے قائم کردہ ادارے اسپیس ایکس نے ایک بڑا اسٹارشپ راکٹ کامیابی سے لانچ کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس اسپیس ایکس نے جو دو مشن لانچ کیے تھے ان سے تازہ ترین تجربہ زیادہ کامیاب دکھائی دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیس ایکس نے بڑا اسٹارشپ راکٹ امریکی ریاست ٹیکساس میں واقع اپنے مرکز سے لانچ کیا۔ دو مراحل پر مشتمل راکٹ مقررہ فاصلے تک پہنچنے کے بعد کامیابی سے الگ ہوا اور خلا میں داخل ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیس ایکس نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ جب یہ راکٹ دوبارہ زمین کے مدار میں داخل ہوا تو اس سے رابطہ منقطع ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال ہے کہ یہ راکٹ بحرِ ہند میں کسی مقام پر آ گرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30356228"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیس ایکس مصنوعی سیارے زمین کے مدار میں بھیجنے والے بڑے پلیٹ فارمز میں سے ہے۔ ایلون مسک نے اس پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی کاروباری سلطنت کو نمایاں حد تک مضبوط بنایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیس ایکس اُن چند اداروں میں سے ہے جو کاروباری اور سیاحتی نقطہ نظر سے راکٹ لانچنگ میں نمایاں حد تک مسابقت پذیر ہیں۔ خلائی سیاحت کے بڑھتے ہوئے امکانات کے ساتھ ساتھ چاند کے لیے مشن بھیجنے کی بھی دوڑ سی شروع ہوچکی ہے۔ بہت سے ممالک جلد از جلد چاند کی سطح پر اپنا خلائی جہاز اتارنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ٹیسلا کے مالک ایلون مسک کے قائم کردہ ادارے اسپیس ایکس نے ایک بڑا اسٹارشپ راکٹ کامیابی سے لانچ کیا ہے۔</strong></p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس اسپیس ایکس نے جو دو مشن لانچ کیے تھے ان سے تازہ ترین تجربہ زیادہ کامیاب دکھائی دے رہا ہے۔</p>
<p>اسپیس ایکس نے بڑا اسٹارشپ راکٹ امریکی ریاست ٹیکساس میں واقع اپنے مرکز سے لانچ کیا۔ دو مراحل پر مشتمل راکٹ مقررہ فاصلے تک پہنچنے کے بعد کامیابی سے الگ ہوا اور خلا میں داخل ہوا۔</p>
<p>اسپیس ایکس نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ جب یہ راکٹ دوبارہ زمین کے مدار میں داخل ہوا تو اس سے رابطہ منقطع ہوگیا۔</p>
<p>خیال ہے کہ یہ راکٹ بحرِ ہند میں کسی مقام پر آ گرے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30356228"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اسپیس ایکس مصنوعی سیارے زمین کے مدار میں بھیجنے والے بڑے پلیٹ فارمز میں سے ہے۔ ایلون مسک نے اس پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی کاروباری سلطنت کو نمایاں حد تک مضبوط بنایا ہے۔</p>
<p>اسپیس ایکس اُن چند اداروں میں سے ہے جو کاروباری اور سیاحتی نقطہ نظر سے راکٹ لانچنگ میں نمایاں حد تک مسابقت پذیر ہیں۔ خلائی سیاحت کے بڑھتے ہوئے امکانات کے ساتھ ساتھ چاند کے لیے مشن بھیجنے کی بھی دوڑ سی شروع ہوچکی ہے۔ بہت سے ممالک جلد از جلد چاند کی سطح پر اپنا خلائی جہاز اتارنا چاہتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30376048</guid>
      <pubDate>Fri, 15 Mar 2024 08:54:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/03/15085328d89b038.webp?r=085450" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/03/15085328d89b038.webp?r=085450"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
