<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 23:54:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 23:54:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی سطح پر تیل کی طلب میں اندازوں سے بڑھ کر اضافہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30376059/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا بھر میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر دی انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے تیل کی طلب میں اضافے سے متعلق اپنی پیش گوئی اپ گریڈ کردی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کے بین الاقوامی ادارے نے اپنے پچھلے تخمینے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اب کہا ہے کہ 2024 کے دوران دنیا بھر میں تیل کی طلب میں مجموعی طور پر یومیہ 13 لاکھ بیرل کا اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ای اے نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ رواں سال دنیا بھر میں تیل کی مجموعی طلب میں یومیہ 11 لاکھ 90 ہزار بیرل کا اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2023 میں آئی ای اے نے تیل کی مجموعی طلب میں یومیہ 23 لاکھ بیرل اضافے کا تخمینہ ظاہر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) کی طرف سے پیداوار میں کمی کیے جانے کے بعد آئی ای اے نے تیل کی رسد سے متعلق اپنی پیش گوئی کا گراف بھی نیچے کردیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30365569"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوپیک کے ارکان نے عالمی منڈی میں تیل کے نرخ بڑھوانے کے لیے پیداوار میں کمی کی پالیسی اپنائی ہے۔ یوکرین کی جنگ اور اس کے بعد اب غزہ کی صورتِ حال نے بھی دنیا بھر میں تیل کی طلب بڑھائی ہے۔ مالدار ممالک اضافی تیل بھی خرید رہے ہیں تاکہ کسی ہنگامی صورتِ حال میں اتنا تیل ملک میں رہے جس سے معیشت کو چلتا رکھا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ پر اسرائیلی حملوں کے ردِعمل کے طور پر بحیرہ احمر میں اسرائیل اور اس کے حامیوں کے جہازوں پر یمن کی حوثی ملیشیا کے حملوں کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں تیل کی ترسیلات تاخیر کی نذر ہوئی ہیں اور کئی ممالک میں بحرانی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا بھر میں خام تیل کی بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر دی انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے تیل کی طلب میں اضافے سے متعلق اپنی پیش گوئی اپ گریڈ کردی ہے۔</strong></p>
<p>توانائی کے بین الاقوامی ادارے نے اپنے پچھلے تخمینے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اب کہا ہے کہ 2024 کے دوران دنیا بھر میں تیل کی طلب میں مجموعی طور پر یومیہ 13 لاکھ بیرل کا اضافہ ہوگا۔</p>
<p>آئی ای اے نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ رواں سال دنیا بھر میں تیل کی مجموعی طلب میں یومیہ 11 لاکھ 90 ہزار بیرل کا اضافہ ہوگا۔</p>
<p>2023 میں آئی ای اے نے تیل کی مجموعی طلب میں یومیہ 23 لاکھ بیرل اضافے کا تخمینہ ظاہر کیا تھا۔</p>
<p>تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) کی طرف سے پیداوار میں کمی کیے جانے کے بعد آئی ای اے نے تیل کی رسد سے متعلق اپنی پیش گوئی کا گراف بھی نیچے کردیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30365569"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اوپیک کے ارکان نے عالمی منڈی میں تیل کے نرخ بڑھوانے کے لیے پیداوار میں کمی کی پالیسی اپنائی ہے۔ یوکرین کی جنگ اور اس کے بعد اب غزہ کی صورتِ حال نے بھی دنیا بھر میں تیل کی طلب بڑھائی ہے۔ مالدار ممالک اضافی تیل بھی خرید رہے ہیں تاکہ کسی ہنگامی صورتِ حال میں اتنا تیل ملک میں رہے جس سے معیشت کو چلتا رکھا جاسکے۔</p>
<p>غزہ پر اسرائیلی حملوں کے ردِعمل کے طور پر بحیرہ احمر میں اسرائیل اور اس کے حامیوں کے جہازوں پر یمن کی حوثی ملیشیا کے حملوں کے باعث تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں دنیا بھر میں تیل کی ترسیلات تاخیر کی نذر ہوئی ہیں اور کئی ممالک میں بحرانی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30376059</guid>
      <pubDate>Fri, 15 Mar 2024 10:08:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/03/15100337fbc56fe.webp?r=100839" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/03/15100337fbc56fe.webp?r=100839"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
