<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 04:18:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 04:18:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر نے ٹیکس آمدنی کا پلان آئی ایم ایف کو پیش کردیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30376131/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس آمدنی کا پلان عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو پیش کردیا، رواں مالی سال تقریبا 31 لاکھ ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے پلان بنایا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قلیل مدتی قرض پروگرام کے جائزہ مذاکرات جاری ہیں، ایف بی آر نے ٹیکس آمدنی کا پلان آئی ایم ایف کوپیش کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو ایف بی آر میں اصلاحات سے آگاہ کردیا، ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھا کر محصولات میں اضافہ کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے ذریعے ٹیکس نیٹ بڑھانے پر کام کیا جائے گا، تقریبا 31 لاکھ ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے پلان بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30376091"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کو رواں مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا، ایف بی آر میں ری اسٹرکچر اور اسٹرکچرل تبدیلیاں لائی جارہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال 9 ہزار 415 ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کی توقع ہے، جولائی تا دسمبر 2023 کے لیے آئی ایم ایف کی ٹیکس وصولی کی شرط پوری کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے لیے ایف بی آرکا ٹیکس ہدف 4 ہزار 425 ارب روپے تھا، جولائی تا دسمبر 2023 کے دوران 4 ہزار 468 ارب روپے ٹیکس جمع کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے مزید بتایا کہ رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ کا ٹیکس ہدف بھی حاصل کیا جاچکا ہے تاہم رواں مالی سال ایف بی آر نے کوئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم جاری نہیں کی، ایف بی آر نے رواں مالی سال کوئی نئی ٹیکس چھوٹ بھی نہیں دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کی تیسری قسط کے حوالے سے آئی پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں پاکستان کو ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30374937"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے پہلے پاکستان کو 2 اقساط میں مجموعی طور پر ایک ارب 90 کروڑ ڈالرز مل چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ سے جاری اعلامیہ میں بتایا گیا تھا کہ دوسرے جائزہ مذاکرات 18 مارچ تک جاری رہیں گے، جس کے لیے پاکستان نے تمام اہداف مکمل کر لیے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس آمدنی کا پلان عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو پیش کردیا، رواں مالی سال تقریبا 31 لاکھ ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے پلان بنایا گیا۔</strong></p>
<p>پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قلیل مدتی قرض پروگرام کے جائزہ مذاکرات جاری ہیں، ایف بی آر نے ٹیکس آمدنی کا پلان آئی ایم ایف کوپیش کر دیا۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کو ایف بی آر میں اصلاحات سے آگاہ کردیا، ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھا کر محصولات میں اضافہ کیا جارہا ہے۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے ذریعے ٹیکس نیٹ بڑھانے پر کام کیا جائے گا، تقریبا 31 لاکھ ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے پلان بنایا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30376091"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>آئی ایم ایف کو رواں مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا، ایف بی آر میں ری اسٹرکچر اور اسٹرکچرل تبدیلیاں لائی جارہی ہیں۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا تھا کہ رواں مالی سال 9 ہزار 415 ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کی توقع ہے، جولائی تا دسمبر 2023 کے لیے آئی ایم ایف کی ٹیکس وصولی کی شرط پوری کی گئی ہے۔</p>
<p>رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے لیے ایف بی آرکا ٹیکس ہدف 4 ہزار 425 ارب روپے تھا، جولائی تا دسمبر 2023 کے دوران 4 ہزار 468 ارب روپے ٹیکس جمع کیا۔</p>
<p>ذرائع نے مزید بتایا کہ رواں مالی سال کے پہلے 8 ماہ کا ٹیکس ہدف بھی حاصل کیا جاچکا ہے تاہم رواں مالی سال ایف بی آر نے کوئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم جاری نہیں کی، ایف بی آر نے رواں مالی سال کوئی نئی ٹیکس چھوٹ بھی نہیں دی۔</p>
<p>واضح رہے کہ 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کی تیسری قسط کے حوالے سے آئی پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، مذاکرات کی کامیابی کی صورت میں پاکستان کو ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کی جائے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30374937"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس سے پہلے پاکستان کو 2 اقساط میں مجموعی طور پر ایک ارب 90 کروڑ ڈالرز مل چکے ہیں۔</p>
<p>وزارت خزانہ سے جاری اعلامیہ میں بتایا گیا تھا کہ دوسرے جائزہ مذاکرات 18 مارچ تک جاری رہیں گے، جس کے لیے پاکستان نے تمام اہداف مکمل کر لیے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30376131</guid>
      <pubDate>Fri, 15 Mar 2024 15:56:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یاسر نذر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/03/151554073d1c07f.jpg?r=155416" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/03/151554073d1c07f.jpg?r=155416"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
