<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:23:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:23:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایلون مسک کا ادارہ امریکا کیلئے جاسوس سیارچوں کا نظام بنائے گا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30376374/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایلون مسک کا ادارہ اسپیس ایکس امریکی خفیہ اداروں کے لیے جاسوس سیارچوں کا نیٹ ورک تیار کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی خبر رساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس سے ایلون مسک اور قومی سلامتی کے اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے تال میل کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایلون مسک کا اسپیس پلیٹ فارم امریکی خفیہ اداروں کے لیے جاسوس سیارچوں کا نیٹ ورک 2021 کے ایک معاہدے کے تحت قائم کرے گا۔ یہ معاہدہ ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کا ہے۔ معاہدہ نیشنل رینیزاں آفس سے ہوا تھا۔ امریکا کا یہ ادارہ جاسوس سیارچوں کے نیٹ ورک کو کنٹرول کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاسوس سیارچوں کے نیٹ ورک کے قیام کا بنیادی مقصد بری فوج کی کی کارروائیوں کا معیار بلند کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30356228"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ایلون مسک کے ادارے نے یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل کرلیا تو امریکی فوج کو دنیا میں کہیں بھی فوری کارروائی کی اہلیت حاصل ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایلون مسک اور امریکی حکومت میں یہ تال میل اس لیے بھی اہم ہے کہ ایلون مسک اسٹار لنک سیٹیلائٹ کنیکٹیویوٹی کے حوالے بائیڈن انتظامیہ سے ٹکراچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ سب سے پہلے وال اسٹریٹ جرنل نے فروری میں امریکی حکومت اور ایلون مسک کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی خبر دی تھی۔ تب اس معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آئی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایلون مسک کا ادارہ اسپیس ایکس امریکی خفیہ اداروں کے لیے جاسوس سیارچوں کا نیٹ ورک تیار کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>برطانوی خبر رساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس سے ایلون مسک اور قومی سلامتی کے اداروں کے درمیان بڑھتے ہوئے تال میل کا بھی اندازہ ہوتا ہے۔</p>
<p>ایلون مسک کا اسپیس پلیٹ فارم امریکی خفیہ اداروں کے لیے جاسوس سیارچوں کا نیٹ ورک 2021 کے ایک معاہدے کے تحت قائم کرے گا۔ یہ معاہدہ ایک ارب 80 کروڑ ڈالر کا ہے۔ معاہدہ نیشنل رینیزاں آفس سے ہوا تھا۔ امریکا کا یہ ادارہ جاسوس سیارچوں کے نیٹ ورک کو کنٹرول کرتا ہے۔</p>
<p>جاسوس سیارچوں کے نیٹ ورک کے قیام کا بنیادی مقصد بری فوج کی کی کارروائیوں کا معیار بلند کرنا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30356228"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اگر ایلون مسک کے ادارے نے یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل کرلیا تو امریکی فوج کو دنیا میں کہیں بھی فوری کارروائی کی اہلیت حاصل ہوجائے گی۔</p>
<p>ایلون مسک اور امریکی حکومت میں یہ تال میل اس لیے بھی اہم ہے کہ ایلون مسک اسٹار لنک سیٹیلائٹ کنیکٹیویوٹی کے حوالے بائیڈن انتظامیہ سے ٹکراچکے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ سب سے پہلے وال اسٹریٹ جرنل نے فروری میں امریکی حکومت اور ایلون مسک کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی خبر دی تھی۔ تب اس معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آئی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30376374</guid>
      <pubDate>Sun, 17 Mar 2024 12:03:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/03/1711552707ceb6f.webp?r=120310" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/03/1711552707ceb6f.webp?r=120310"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
