<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 03:24:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 03:24:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف نے نئے پروگرام کے لیے 5 شرائط پاکستان کو بتا دیں</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30376891/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا موجودہ تین ارب ڈالر کا اسٹینڈ بائی معاہدہ 1.1 ارب ڈالر کی اخری قسط کے اجرا کے ساتھ ختم ہو جائے گا۔ تمام پاکستان کی معاشی ضروریات اس سے کہیں زیادہ ہیں لہذا پاکستان کو فوری طور پر ائی ایم ایف کے ساتھ ایک نیا طویل المدتی معاہدہ بھی کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ائی ایم ایف نے بدھ کو جاری اپنے اعلامیہ میں اس نئے معاہدے کے لیے شرائط پاکستان پر واضح کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعلامیہ میں مستقبل قریب میں پاکستان کی معاشی صورتحال کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ائی ایم ایف نے کہا ہے کہ پچھلے سال جون میں پہلے اقتصادی جائزے کے بعد سے پاکستان کی معاشی صورتحال بہتر ہوئی ہے جس کا سبب پالیسی اصلاحات اور پاکستان کے دوست ممالک کی جانب سے رقوم کی فراہمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم آئی ایم ایف نے کہا کہ رواں برس پاکستان کی شرح نمو زیادہ نہیں ہوگی جبکہ مہنگائی ہدف سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ پروگرام کے حوالے سے آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام بجلی اور گیس کی قیمتوں کو بڑھانے کے لیے تیار ہیں جبکہ سٹیٹ بینک بھی مہنگائی کو روکنے کیلئے شرح سود زیادہ رکھنے اور ایکس چینج ریٹ کی شفافیت برقرار رکھنے پر امادہ ہے، اس کے علاوہ پاکستانی حکام نے 400 ارب روپے کا سرپلس رکھنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h2&gt;&lt;a id="نیا-پروگرام" href="#نیا-پروگرام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;نیا پروگرام&lt;/h2&gt;
&lt;p&gt;اعلامیے میں آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستانی حکام نے اپنے ملک کے معاشی مسائل کے مستقل حل،  کے لیے معاشی بحالی اور ترقی کی بنیاد رکھنے ایک نئے درمیانی مدت کے پروگرام میں دلچسپی ظاہر کی ہے جو موجودہ پروگرام کے بعد شروع ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30376825"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ائی ایم ایف نے کہا کہ اس نئے پروگرام پر مذاکرات ائندہ مہینوں میں شروع ہوں گے لیکن کچھ اہداف کے لیے پاکستان کو کام کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد ائی ایم ایف نے ان  پانچ اہداف یا شرائط کی تفصیل بتائی جو نئے پروگرام کے لیے پاکستان کو پورے کرنے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی مالیاتی فنڈ نے کہا کہ پاکستان کو اپنے خزانے کو مضبوط کرنا ہوگا جس کے لیے ٹیکس وصولی کے نظام مہیں بہتری لانا ہوگی اور ٹیکس بیس بڑھانا ہوگی یعنی زیادہ لوگوں سے ٹیکس لینا ہوگا۔ تاکہ زیادہ اہمیت والے ترقیاتی کاموں اور غریبوں کو تحفظ دینے پر رقم خرچ کرنے کی گنجائش پیدا ہوسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30376731"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف نے دوسرا ہدف توانائی کے شعبے کی اصلاحات کا رکھا ہے۔ اس حوالے سے ائی ایم ایف کے چار مطالبات ہیں اول یہ کہ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کا نظام بہتر بنایا جائے، دوم کیپٹو پاور یعنی نجی بجلی گھروں کی طلب کو قومی گرڈ پر منتقل کیا جائے، سوم بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں اصلاحات لائی جائیں اور بجلی کی چوری کا خاتمہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کا تیسرا ہدف مہنگائی اور ایکسچینج ریٹ کے حوالے سے ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے مہنگائی کو واپس ہدف پر لانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایکسچینج ریٹ کو شفاف طریقے سے برقرار رکھا جائے اور زر مبادلہ میں اضافہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نئے پروگرام کے لیے آئی ایم ایف نے جو پانچواں ہدف رکھا ہے وہ نجی کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ اور سرکاری ملکیت کے اداروں کی نچکاری ہے۔ آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ بعض کاروباری اداروں کو دیے گئے تحفظ کا خاتمہ کیا جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کا موجودہ تین ارب ڈالر کا اسٹینڈ بائی معاہدہ 1.1 ارب ڈالر کی اخری قسط کے اجرا کے ساتھ ختم ہو جائے گا۔ تمام پاکستان کی معاشی ضروریات اس سے کہیں زیادہ ہیں لہذا پاکستان کو فوری طور پر ائی ایم ایف کے ساتھ ایک نیا طویل المدتی معاہدہ بھی کرنا ہے۔</strong></p>
<p>ائی ایم ایف نے بدھ کو جاری اپنے اعلامیہ میں اس نئے معاہدے کے لیے شرائط پاکستان پر واضح کر دی ہیں۔</p>
<p>اعلامیہ میں مستقبل قریب میں پاکستان کی معاشی صورتحال کی پیش گوئی بھی کی گئی ہے۔</p>
<p>ائی ایم ایف نے کہا ہے کہ پچھلے سال جون میں پہلے اقتصادی جائزے کے بعد سے پاکستان کی معاشی صورتحال بہتر ہوئی ہے جس کا سبب پالیسی اصلاحات اور پاکستان کے دوست ممالک کی جانب سے رقوم کی فراہمی ہے۔</p>
<p>تاہم آئی ایم ایف نے کہا کہ رواں برس پاکستان کی شرح نمو زیادہ نہیں ہوگی جبکہ مہنگائی ہدف سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>موجودہ پروگرام کے حوالے سے آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ پاکستانی حکام بجلی اور گیس کی قیمتوں کو بڑھانے کے لیے تیار ہیں جبکہ سٹیٹ بینک بھی مہنگائی کو روکنے کیلئے شرح سود زیادہ رکھنے اور ایکس چینج ریٹ کی شفافیت برقرار رکھنے پر امادہ ہے، اس کے علاوہ پاکستانی حکام نے 400 ارب روپے کا سرپلس رکھنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔</p>
<h2><a id="نیا-پروگرام" href="#نیا-پروگرام" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>نیا پروگرام</h2>
<p>اعلامیے میں آئی ایم ایف نے کہا کہ پاکستانی حکام نے اپنے ملک کے معاشی مسائل کے مستقل حل،  کے لیے معاشی بحالی اور ترقی کی بنیاد رکھنے ایک نئے درمیانی مدت کے پروگرام میں دلچسپی ظاہر کی ہے جو موجودہ پروگرام کے بعد شروع ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30376825"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ائی ایم ایف نے کہا کہ اس نئے پروگرام پر مذاکرات ائندہ مہینوں میں شروع ہوں گے لیکن کچھ اہداف کے لیے پاکستان کو کام کرنا ہوگا۔</p>
<p>اس کے بعد ائی ایم ایف نے ان  پانچ اہداف یا شرائط کی تفصیل بتائی جو نئے پروگرام کے لیے پاکستان کو پورے کرنے ہیں۔</p>
<p>عالمی مالیاتی فنڈ نے کہا کہ پاکستان کو اپنے خزانے کو مضبوط کرنا ہوگا جس کے لیے ٹیکس وصولی کے نظام مہیں بہتری لانا ہوگی اور ٹیکس بیس بڑھانا ہوگی یعنی زیادہ لوگوں سے ٹیکس لینا ہوگا۔ تاکہ زیادہ اہمیت والے ترقیاتی کاموں اور غریبوں کو تحفظ دینے پر رقم خرچ کرنے کی گنجائش پیدا ہوسکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30376731"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>آئی ایم ایف نے دوسرا ہدف توانائی کے شعبے کی اصلاحات کا رکھا ہے۔ اس حوالے سے ائی ایم ایف کے چار مطالبات ہیں اول یہ کہ بجلی کی ترسیل اور تقسیم کا نظام بہتر بنایا جائے، دوم کیپٹو پاور یعنی نجی بجلی گھروں کی طلب کو قومی گرڈ پر منتقل کیا جائے، سوم بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں اصلاحات لائی جائیں اور بجلی کی چوری کا خاتمہ کیا جائے۔</p>
<p>آئی ایم ایف کا تیسرا ہدف مہنگائی اور ایکسچینج ریٹ کے حوالے سے ہے۔ عالمی مالیاتی فنڈ نے مہنگائی کو واپس ہدف پر لانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایکسچینج ریٹ کو شفاف طریقے سے برقرار رکھا جائے اور زر مبادلہ میں اضافہ کیا جائے۔</p>
<p>نئے پروگرام کے لیے آئی ایم ایف نے جو پانچواں ہدف رکھا ہے وہ نجی کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ اور سرکاری ملکیت کے اداروں کی نچکاری ہے۔ آئی ایم ایف نے زور دیا ہے کہ بعض کاروباری اداروں کو دیے گئے تحفظ کا خاتمہ کیا جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30376891</guid>
      <pubDate>Thu, 21 Mar 2024 09:55:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/03/20111712e9310fb.jpg?r=111716" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/03/20111712e9310fb.jpg?r=111716"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
