<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 11:45:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 11:45:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملازمہ کو کم تنخواہ دینے پر سابق بھارتی ہائی کمشنر پر جرمانہ عائد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30377182/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آسٹریلیا میں سابق بھارت ہائی کمشنر نودیپ سوری سنگھ کو گھریلو ملازمہ سیما شیر گِل کو کم اجرت دینے پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلوی عدالت نے فیئر ورک ایکٹ کے تحت فیصلہ سنایا جس میں کہا گیا کہ سیما شیر گِل نے اپریل 2015 سے مئی 2016 کے درمیان 13 ماہ کے عرصے میں ہفتے میں سات دن 17.5 گھنٹے کام کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے کام کے لیے تقریباً سیما گِل کو 3 ہزار 400 ڈالر  کی ادائیگی کی گئی تھی، جس میں گھر کی صفائی، کھانا تیار کرنا، باغ کی دیکھ بھال اور بھارت ہائی کمشنر نودیپ سوری سنگھ کے کتے کو چہل قدمی کرنا شامل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کے مطابق یہ رقم ایک ہندوستانی بینک اکاؤنٹ میں ادا کی گئی، جس کا استعمال  ملازمہ آسٹریلیا میں رہتے ہوئے نہیں کر سکیں تھی کیونکہ ان کی رسائی اس اکاؤنٹ تک نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سٹریلوی عدالت نے بتایا کہ سابق بھارتی ہائی کمشنر نے یومیہ صرف 10 ڈالر ادا کئے جو کہ فیئر ورک ایکٹ کی سرا سر خلاف ورزی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس کے بعد جسٹس الزبتھ نے بھارت ہائی کمشنر نودیپ سوری سنگھ کو حکم  دیا کہ وہ 60 دنوں کے اندر  سیما شیر گِل کو 60 دنوں کے اندر 97,200 ڈالر کا جرمانہ ادا کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس الزبتھ کا مز ید کہنا تھا کہ سیما گِل کو غلاموں کی طرح رکھا گیا ان کی زندگی آسان نہیں تھی، سوری سنگھ نے کہیں بھی اپنی ملازمہ سے ساتھ رحم دلی کا کوئی عمل نہیں دیکھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملازمہ کے وکیل نے عدالت سے مطالبہ کیا  کہ سفارتی رہائش گاہوں پر موجود کام کرنے والے ملازموں کے لئے آسٹریلوی قانون میں تبدیلیاں کی جائیں تاکہ کسی بھی ملازم کے ساتھ نہ انصافی نہ ہوسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب بھارتی حکومت نے آسٹریلوی عدالت کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملازمہ شیرگِل ہائی کمیشن کے لیے نہیں بلکہ ذاتی طور  پر سابق ہائی کمشنر کے لے کام کر رہی تھیں۔ یہ سب کچھ انھوں نے آسٹریلیا میں رہنے کے لئے کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس پر ملازمہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ  عدالتی فیصلے نے ایک اہم مثال قائم کی ہے۔ سفارت کار اور ہائی کمشنر اور سفیر  سفارتی استثنیٰ کے پیچھے نہیں چھپ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آسٹریلیا میں سابق بھارت ہائی کمشنر نودیپ سوری سنگھ کو گھریلو ملازمہ سیما شیر گِل کو کم اجرت دینے پر بھاری جرمانہ عائد کر دیا گیا۔</strong></p>
<p>آسٹریلوی عدالت نے فیئر ورک ایکٹ کے تحت فیصلہ سنایا جس میں کہا گیا کہ سیما شیر گِل نے اپریل 2015 سے مئی 2016 کے درمیان 13 ماہ کے عرصے میں ہفتے میں سات دن 17.5 گھنٹے کام کیا۔</p>
<p>اس کے کام کے لیے تقریباً سیما گِل کو 3 ہزار 400 ڈالر  کی ادائیگی کی گئی تھی، جس میں گھر کی صفائی، کھانا تیار کرنا، باغ کی دیکھ بھال اور بھارت ہائی کمشنر نودیپ سوری سنگھ کے کتے کو چہل قدمی کرنا شامل تھا۔</p>
<p>عدالت کے مطابق یہ رقم ایک ہندوستانی بینک اکاؤنٹ میں ادا کی گئی، جس کا استعمال  ملازمہ آسٹریلیا میں رہتے ہوئے نہیں کر سکیں تھی کیونکہ ان کی رسائی اس اکاؤنٹ تک نہیں تھی۔</p>
<p>سٹریلوی عدالت نے بتایا کہ سابق بھارتی ہائی کمشنر نے یومیہ صرف 10 ڈالر ادا کئے جو کہ فیئر ورک ایکٹ کی سرا سر خلاف ورزی تھی۔</p>
<p>جس کے بعد جسٹس الزبتھ نے بھارت ہائی کمشنر نودیپ سوری سنگھ کو حکم  دیا کہ وہ 60 دنوں کے اندر  سیما شیر گِل کو 60 دنوں کے اندر 97,200 ڈالر کا جرمانہ ادا کریں گے۔</p>
<p>جسٹس الزبتھ کا مز ید کہنا تھا کہ سیما گِل کو غلاموں کی طرح رکھا گیا ان کی زندگی آسان نہیں تھی، سوری سنگھ نے کہیں بھی اپنی ملازمہ سے ساتھ رحم دلی کا کوئی عمل نہیں دیکھایا۔</p>
<p>ملازمہ کے وکیل نے عدالت سے مطالبہ کیا  کہ سفارتی رہائش گاہوں پر موجود کام کرنے والے ملازموں کے لئے آسٹریلوی قانون میں تبدیلیاں کی جائیں تاکہ کسی بھی ملازم کے ساتھ نہ انصافی نہ ہوسکے۔</p>
<p>دوسری جانب بھارتی حکومت نے آسٹریلوی عدالت کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملازمہ شیرگِل ہائی کمیشن کے لیے نہیں بلکہ ذاتی طور  پر سابق ہائی کمشنر کے لے کام کر رہی تھیں۔ یہ سب کچھ انھوں نے آسٹریلیا میں رہنے کے لئے کیا ہے۔</p>
<p>جس پر ملازمہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ  عدالتی فیصلے نے ایک اہم مثال قائم کی ہے۔ سفارت کار اور ہائی کمشنر اور سفیر  سفارتی استثنیٰ کے پیچھے نہیں چھپ سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30377182</guid>
      <pubDate>Thu, 21 Mar 2024 22:50:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/03/212245060d2e9d7.jpg?r=224654" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/03/212245060d2e9d7.jpg?r=224654"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
