<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 05:18:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 05:18:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سانحہ ماڈل ٹاؤن سے شہرت پانے والے گلو بٹ انتقال کرگئے؟</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30377619/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سانحہ ماڈل ٹاؤن سے شہرت پانے والے گلو بٹ کے طویل علالت کے بعد انتقال کی خبریں زیر گردش ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلوبٹ پر ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے باہر گاڑیوں کے شیشے توڑنے اور منع کرنے پر پولیس پارٹی پر فائرنگ کرنے کا الزام تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیر لاہور کے نام سے مشہور گلو بٹ کو ٹی وی چینلز کی فوٹیج میں 17 جون 2014 کو لاہور کے ماڈل ٹاؤن علاقے میں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے دوران گاڑیوں کے شیشے توڑتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میڈیا پر یہ فوٹیج بار بار نشر ہونے کے بعد گلو بٹ کو گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30377496"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس آپریشن کے دوران پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہرالقادری کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 14 افراد مارے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 اکتوبر 2014 کو لاہور کی انسداد دہشت گردی نے منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے باہر پولیس آپریشن کے دوران گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کرنے کے جرم میں گلوبٹ کو 11 سال تین ماہ قید اور ایک لاکھ 11 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم فروری 2017 میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بینچ نے گلو بٹ کے مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرتے ہوئے اس کے تحت دی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم جاری کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت کا کہنا تھا کہ گلو بٹ دیگر دفعات کے تحت اپنی سزا پوری کرچکے ہیں۔ اور &lt;a href="https://www.aaj.tv/news/90322"&gt;مارچ 2017 میں انہیں جیل سے رہائی مل گئی&lt;/a&gt;۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30377568"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دنوں ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں انہیں انتہائی تشویشناک حالت میں دیکھا جاسکتا تھا اور بظاہر وہ انتہائی اذیت کا شکار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے خاندان کے مطابق گلو بٹ طویل عرصے سے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے، انہیں دو بار برین ہیمرج ہوچکا تھا جبکہ وہ شوگر کے بھی مریض تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گلو بٹ کے بھائی سے جب ان کے انتقال کی تصدیق کیلئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سانحہ ماڈل ٹاؤن سے شہرت پانے والے گلو بٹ کے طویل علالت کے بعد انتقال کی خبریں زیر گردش ہیں۔</strong></p>
<p>گلوبٹ پر ماڈل ٹاؤن میں منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے باہر گاڑیوں کے شیشے توڑنے اور منع کرنے پر پولیس پارٹی پر فائرنگ کرنے کا الزام تھا۔</p>
<p>شیر لاہور کے نام سے مشہور گلو بٹ کو ٹی وی چینلز کی فوٹیج میں 17 جون 2014 کو لاہور کے ماڈل ٹاؤن علاقے میں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے دوران گاڑیوں کے شیشے توڑتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔</p>
<p>میڈیا پر یہ فوٹیج بار بار نشر ہونے کے بعد گلو بٹ کو گرفتار کر لیا گیا تھا لیکن بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30377496"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس آپریشن کے دوران پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہرالقادری کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں 14 افراد مارے گئے تھے۔</p>
<p>30 اکتوبر 2014 کو لاہور کی انسداد دہشت گردی نے منہاج القرآن سیکریٹریٹ کے باہر پولیس آپریشن کے دوران گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کرنے کے جرم میں گلوبٹ کو 11 سال تین ماہ قید اور ایک لاکھ 11 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔</p>
<p>تاہم فروری 2017 میں لاہور ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بینچ نے گلو بٹ کے مقدمے سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرتے ہوئے اس کے تحت دی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم جاری کیا تھا۔</p>
<p>عدالت کا کہنا تھا کہ گلو بٹ دیگر دفعات کے تحت اپنی سزا پوری کرچکے ہیں۔ اور <a href="https://www.aaj.tv/news/90322">مارچ 2017 میں انہیں جیل سے رہائی مل گئی</a>۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30377568"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>گزشتہ دنوں ان کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں انہیں انتہائی تشویشناک حالت میں دیکھا جاسکتا تھا اور بظاہر وہ انتہائی اذیت کا شکار تھے۔</p>
<p>ان کے خاندان کے مطابق گلو بٹ طویل عرصے سے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھے، انہیں دو بار برین ہیمرج ہوچکا تھا جبکہ وہ شوگر کے بھی مریض تھے۔</p>
<p>گلو بٹ کے بھائی سے جب ان کے انتقال کی تصدیق کیلئے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30377619</guid>
      <pubDate>Mon, 25 Mar 2024 00:45:01 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حسن اعوان)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/03/242158250e59454.jpg?r=220753" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/03/242158250e59454.jpg?r=220753"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
