<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 00:37:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 00:37:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گوگل کمپنی میں ملازمت کیسے دیتا ہے؟ سابق ’ایچ آر ملازم‘ کا انکشاف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30377862/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گوگل میں ملازمت کا خواب تو دنیا بھر سے افراد دیکھتے ہیں، تاہم عالمی ٹیکنالوجی کے اس ادارے میں نوکری کا حصل آسان نہیں ہے، تاہم گوگل کے سابق ملازم نے ادارے میں نوکری کے خواہشمند افراد کو مشورہ دے دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں سیلری ڈیٹا کمپنی فیری کیمپ اور سابق گوگل میں ایچ آر کے ملازم نولان چرچ نے اُن وجوہات کی طرف اشارہ کیا ہے، جس کے باعث گوگل میں ملازمت کے خواہشمند کی درخواست کو رد کر دیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نولان کا کہنا تھا کہ جب ایک انٹرویو لینے والا آپ سے سوال کرتا ہے کہ کیا آپ کیا کام بہترین کر سکتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پر سابق ملازم نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کبھی بھی جواب دیتے ہوئے ایسے جملوں کا استعمال نہ کریں جس سے ایسا لگے کہ آپ کے پاس سیکھنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30375092"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ نولان ننے ایسے جملوں کی مثالیں دیتے بھی کہا کہ جیسے کہ میں بہت زیادہ کام کرتا ہوں، یا میں ایک پرفیکشنسٹ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ ملازمت کا خواہشمند اپنے کردار کی تعریف بیان کر رہاہوتا ہے، مگر انٹرویور اسے خامیوں کے طور پر دیکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا کہ ایسے جملے امیدوار کو غیر مستند کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ انٹرویور یہ سوچ سکتا ہے کہ شاید آپ سچے نہیں ہو اور آپ اپنی شخصیت کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہو، یا آپ کو خود اس بات کا احساس ہے کہ آپ بہتر کام نہیں کر سکتے ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق ایچ آر ملازم نے واضح کیا کہ میں تمہیں اس لیے ملازمت کا موقع نہیں دے رہا کہ تم پرفیکٹ بن جاؤ، بلکہ میں آپ کو ہائیر کر رہا ہوں تاکہ آپ ہمارے ساتھ گرو کرو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30345657"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ نولان نے یہ واضح کیا کہ امیدوار کی جانب سے اپنے سابق کولیگز اور مینیجر کے بارے میں انٹرویو کے دوران منفی تبصرے بھی ایک اچھا امریشن نہیں دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ ان لوگوں کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں جن کے پاس خود آگاہی ہے کہ وہ یہ جان سکیں کہ وہ کب غلط تھے اور اسے ٹھیک کرنے کے لیے اپنے ذہنی ماڈلز کو اپ ڈیٹ کرنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گوگل میں ملازمت کا خواب تو دنیا بھر سے افراد دیکھتے ہیں، تاہم عالمی ٹیکنالوجی کے اس ادارے میں نوکری کا حصل آسان نہیں ہے، تاہم گوگل کے سابق ملازم نے ادارے میں نوکری کے خواہشمند افراد کو مشورہ دے دیا ہے۔</strong></p>
<p>عالمی نشریاتی ادارے سے گفتگو میں سیلری ڈیٹا کمپنی فیری کیمپ اور سابق گوگل میں ایچ آر کے ملازم نولان چرچ نے اُن وجوہات کی طرف اشارہ کیا ہے، جس کے باعث گوگل میں ملازمت کے خواہشمند کی درخواست کو رد کر دیا جاتا ہے۔</p>
<p>نولان کا کہنا تھا کہ جب ایک انٹرویو لینے والا آپ سے سوال کرتا ہے کہ کیا آپ کیا کام بہترین کر سکتے ہیں؟</p>
<p>اس پر سابق ملازم نے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کبھی بھی جواب دیتے ہوئے ایسے جملوں کا استعمال نہ کریں جس سے ایسا لگے کہ آپ کے پاس سیکھنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30375092"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جبکہ نولان ننے ایسے جملوں کی مثالیں دیتے بھی کہا کہ جیسے کہ میں بہت زیادہ کام کرتا ہوں، یا میں ایک پرفیکشنسٹ ہوں۔</p>
<p>اگرچہ ملازمت کا خواہشمند اپنے کردار کی تعریف بیان کر رہاہوتا ہے، مگر انٹرویور اسے خامیوں کے طور پر دیکھتا ہے۔</p>
<p>مزید بتایا کہ ایسے جملے امیدوار کو غیر مستند کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ انٹرویور یہ سوچ سکتا ہے کہ شاید آپ سچے نہیں ہو اور آپ اپنی شخصیت کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہو، یا آپ کو خود اس بات کا احساس ہے کہ آپ بہتر کام نہیں کر سکتے ہو۔</p>
<p>سابق ایچ آر ملازم نے واضح کیا کہ میں تمہیں اس لیے ملازمت کا موقع نہیں دے رہا کہ تم پرفیکٹ بن جاؤ، بلکہ میں آپ کو ہائیر کر رہا ہوں تاکہ آپ ہمارے ساتھ گرو کرو۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30345657"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جبکہ نولان نے یہ واضح کیا کہ امیدوار کی جانب سے اپنے سابق کولیگز اور مینیجر کے بارے میں انٹرویو کے دوران منفی تبصرے بھی ایک اچھا امریشن نہیں دیتے ہیں۔</p>
<p>آپ ان لوگوں کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں جن کے پاس خود آگاہی ہے کہ وہ یہ جان سکیں کہ وہ کب غلط تھے اور اسے ٹھیک کرنے کے لیے اپنے ذہنی ماڈلز کو اپ ڈیٹ کرنا چاہتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30377862</guid>
      <pubDate>Tue, 26 Mar 2024 13:03:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/03/2613011078e7c58.png?r=130330" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/03/2613011078e7c58.png?r=130330"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
