<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 02:04:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 02:04:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیس بک کی پیرنٹ کمپنی ’میٹا‘ سے لفظ ’شہید‘ پر پابندی ہٹانے کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30378102/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی پیرنٹ کمپنی ”میٹا“ کے نگران بورڈ نے کمپنی سے عربی لفظ  ”شہید“ اور انگریزی میں ”Martyr“ پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نگراں بورڈ نے کہا ہے کہ ایک سال کے طویل جائزے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ لفظ ”شہید“ پر موجودہ پابندی سے لاکھوں صارفین کے آزادی اظہار کو غیر ضروری طور پر دبایا جارہا ہے، میٹا کی موجودہ پالیسی غیر ضروری ہے اور کمپنی کو یہ پابندی ختم کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2020 میں، میٹا نے لفظ ”شہید“ کے حوالے سے پالیسی کا جائزہ لیا تھا، تاہم کمپنی اس فیصلے پر نہیں پہنچ سکی کہ آگے کیسے بڑھایا جائے، اس لیے اس نے گزشتہ سال بورڈ سے مداخلت کی درخواست کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈ نے میٹا کو مشورہ دیا کہ لفظ شہید پر مشتمل پوسٹ کو صرف اس صورت میں ہٹانا چاہیے جب وہ تشدد کی واضح علامات سے منسلک ہوں یا اگر وہ میٹا کے دیگر قوانین کو توڑتی ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30377809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل کمپنی نے لفظ شہید کو دہشت گردی کی تعریف کے لیے استعمال کئے جانے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈ نے کہا کہ میٹا کی موجودہ پالیسی غیر ضروری ہے اور کمپنی کو یہ پابندی ختم کرنی چاہیے۔
بورڈ نے کہا کہ چونکہ ’شہید‘ کا لفظ عام طور پر ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں استعمال کرتے ہیں اس لیے اس کے استعمال پر سے پابندی ہٹانے سے عالمی سطح پر پوسٹ کیے جانے والے مواد کو ہٹانے کا خطرہ کم ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈ کی شریک چیئرمین تھورنگ شمگرن نے اس حوالے سے کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ موجودہ پالیسی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی کمیونٹیز، جیسے کہ غزہ اور سوڈان میں رہنے والے لوگوں کو بھی سنسرشپ کا سامنا ہے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30377756"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’بورڈ کو خاص طور پر تشویش ہے کہ میٹا کا نقطہ نظر صحافت اور شہری گفتگو کو متاثر کرتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ میڈیا تنظیمیں اور تبصرہ نگار کچھ مخصوص اداروں یا موضوعات پر بات کرنے سے گریز کر سکتے ہیں کہ ان کے مواد کو میٹا ہٹا دے گا‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹا کے ترجمان نے بتایا کہ کمپنی بورڈ کی طرف سے فراہم کردہ فیڈ بیک کا جائزہ لے کر 60 دنوں کے اندر جواب جمع کرے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ کی پیرنٹ کمپنی ”میٹا“ کے نگران بورڈ نے کمپنی سے عربی لفظ  ”شہید“ اور انگریزی میں ”Martyr“ پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔</strong></p>
<p>نگراں بورڈ نے کہا ہے کہ ایک سال کے طویل جائزے کے بعد یہ معلوم ہوا کہ لفظ ”شہید“ پر موجودہ پابندی سے لاکھوں صارفین کے آزادی اظہار کو غیر ضروری طور پر دبایا جارہا ہے، میٹا کی موجودہ پالیسی غیر ضروری ہے اور کمپنی کو یہ پابندی ختم کرنی چاہیے۔</p>
<p>2020 میں، میٹا نے لفظ ”شہید“ کے حوالے سے پالیسی کا جائزہ لیا تھا، تاہم کمپنی اس فیصلے پر نہیں پہنچ سکی کہ آگے کیسے بڑھایا جائے، اس لیے اس نے گزشتہ سال بورڈ سے مداخلت کی درخواست کی تھی۔</p>
<p>بورڈ نے میٹا کو مشورہ دیا کہ لفظ شہید پر مشتمل پوسٹ کو صرف اس صورت میں ہٹانا چاہیے جب وہ تشدد کی واضح علامات سے منسلک ہوں یا اگر وہ میٹا کے دیگر قوانین کو توڑتی ہوں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30377809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس سے قبل کمپنی نے لفظ شہید کو دہشت گردی کی تعریف کے لیے استعمال کئے جانے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔</p>
<p>بورڈ نے کہا کہ میٹا کی موجودہ پالیسی غیر ضروری ہے اور کمپنی کو یہ پابندی ختم کرنی چاہیے۔
بورڈ نے کہا کہ چونکہ ’شہید‘ کا لفظ عام طور پر ایشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں مسلمان اور غیر مسلم دونوں استعمال کرتے ہیں اس لیے اس کے استعمال پر سے پابندی ہٹانے سے عالمی سطح پر پوسٹ کیے جانے والے مواد کو ہٹانے کا خطرہ کم ہو جائے گا۔</p>
<p>بورڈ کی شریک چیئرمین تھورنگ شمگرن نے اس حوالے سے کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ موجودہ پالیسی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی کمیونٹیز، جیسے کہ غزہ اور سوڈان میں رہنے والے لوگوں کو بھی سنسرشپ کا سامنا ہے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30377756"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ ’بورڈ کو خاص طور پر تشویش ہے کہ میٹا کا نقطہ نظر صحافت اور شہری گفتگو کو متاثر کرتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ میڈیا تنظیمیں اور تبصرہ نگار کچھ مخصوص اداروں یا موضوعات پر بات کرنے سے گریز کر سکتے ہیں کہ ان کے مواد کو میٹا ہٹا دے گا‘۔</p>
<p>میٹا کے ترجمان نے بتایا کہ کمپنی بورڈ کی طرف سے فراہم کردہ فیڈ بیک کا جائزہ لے کر 60 دنوں کے اندر جواب جمع کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30378102</guid>
      <pubDate>Wed, 27 Mar 2024 17:29:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/03/2717280113a7424.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/03/2717280113a7424.jpg"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
