<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 18 May 2026 16:57:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 18 May 2026 16:57:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لونگی کو پچھاڑ کر سن گرو سولر سیکٹر کی ورلڈ لیڈر بن گئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30378217/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سن گرو پاور سپلائی کمپنی نے لونگی گرین انرجی ٹیکنالوجی کمپنی کو پیچھے چھوڑ کر اب سولر انرجی میں دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہونے کا اعزاز پالیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سن گرو پاور سپلائی کمپنی کو یہ اعزاز ایسے وقت ملا ہے جب دنیا بھر میں ایکوپمنٹ کی قیمتیں سکڑنے سے سولر پینلز کے اجزا بنانے والوں کو منافع میں کمی کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین میں بیٹری اسٹوریج کا شعبہ تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ گزشتہ سال اس کی کارکردگی میں 400 فیصد اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں سن گرو کو بھی پنپنے کا موقع ملا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سیگمنٹ کی آمدنی میں اس کا شیئر 2022 میں ایک چوتھائی رہا۔ سن گروپ نے جنوری میں  کہا تھا کہ اسے 2023 کی آمدنی میں 187 فیصد اضافے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30344070"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سٹی گروپ نے ایک بیان میں بتایا کہ چین کے علاقے ہیفی میں قائم سن گرو شمسی توانائی کو آلٹرنیٹ کرنٹ میں تبدیل کرنے والے انورٹرز کی فروخت سے سے سب سے زیادہ حصہ مل رہا ہے۔ یہ سسٹم دنیا بھر کے گرڈز میں مستعمل ہے۔ سن گرو کے پروڈکٹ مکس میں ہائی ویلیو گروتھ اور نسبتاً منافع شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لونگی کا شمار سولر ماڈیولز، سیلز اور ویفرز کی پیداوار کے حوالے سے بڑے عالمی اداروں مٰں ہوتا ہے۔ 2021 میں یہ کمپنی سولر پینلز کی تیاری اور فروخت کے حوالے نقطہ عروج پر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تب سے اب تک اس اس کے مارکیٹ شیئر میں 70 فیصد کمی واقع ہوچکی ہے اور اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ دنیا بھر میں سولر پینلز کے مینوفیکچررز بڑھے ہیں اور رسد نے طلب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسابقت بہت بڑھ چکی ہے۔ ایسے میں دوسرے بہت سے اداروں کی طرح لونگی کے لیے بھی سولر انرجی سیکٹر میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنا انتہائی دشوار ہوچکا ہے۔ کمپنی نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ وہ ہزاروں ملازمین کو فارغ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین میں بیٹری اسٹوریج کا شعبہ تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ گزشتہ سال اس کی کارکردگی میں 400 فیصد اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں سن گرو کو بھی پنپنے کا موقع ملا ہے۔ اس سیگمنٹ کی آمدنی میں اس کا شیئر 2022 میں ایک چوتھائی رہا۔ سن گروپ نے جنوری میں  کہا تھا کہ اسے 2023 کی آمدنی میں 187 فیصد اضافے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30364049"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو لونگی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن گر کر 21 ارب ڈالر کی سطح پر آگئی جس کے نتیجے میں سن گرو اس سے آگے نکل گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوم برگ نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ 2018 سے اب تک لونگی سولر انڈسٹری کی 13 بڑی کمپنیوں میں رہی ہے۔ دونوں ادارے اپنی مجموعی قدر کے لحاط سے چین میں قائدانہ حٰثیت کی حامل (تیل اور گیس پیدا کرنے والی) انرجی فرم پیٹرو چائنا کمپنی سے ذرا ہی پیچھے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو سن گرو نے چین کے شینزین اسٹاک ایکچینج میں 1.1 فیصد بڑھوتری دکھائی جبکہ شنگھائی میں لونگی کے شیئرز کی ویلیو میں 0.9 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سن گرو پاور سپلائی کمپنی نے لونگی گرین انرجی ٹیکنالوجی کمپنی کو پیچھے چھوڑ کر اب سولر انرجی میں دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہونے کا اعزاز پالیا ہے۔</strong></p>
<p>سن گرو پاور سپلائی کمپنی کو یہ اعزاز ایسے وقت ملا ہے جب دنیا بھر میں ایکوپمنٹ کی قیمتیں سکڑنے سے سولر پینلز کے اجزا بنانے والوں کو منافع میں کمی کا سامنا ہے۔</p>
<p>چین میں بیٹری اسٹوریج کا شعبہ تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ گزشتہ سال اس کی کارکردگی میں 400 فیصد اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں سن گرو کو بھی پنپنے کا موقع ملا ہے۔</p>
<p>اس سیگمنٹ کی آمدنی میں اس کا شیئر 2022 میں ایک چوتھائی رہا۔ سن گروپ نے جنوری میں  کہا تھا کہ اسے 2023 کی آمدنی میں 187 فیصد اضافے کی توقع ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30344070"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سٹی گروپ نے ایک بیان میں بتایا کہ چین کے علاقے ہیفی میں قائم سن گرو شمسی توانائی کو آلٹرنیٹ کرنٹ میں تبدیل کرنے والے انورٹرز کی فروخت سے سے سب سے زیادہ حصہ مل رہا ہے۔ یہ سسٹم دنیا بھر کے گرڈز میں مستعمل ہے۔ سن گرو کے پروڈکٹ مکس میں ہائی ویلیو گروتھ اور نسبتاً منافع شامل ہیں۔</p>
<p>لونگی کا شمار سولر ماڈیولز، سیلز اور ویفرز کی پیداوار کے حوالے سے بڑے عالمی اداروں مٰں ہوتا ہے۔ 2021 میں یہ کمپنی سولر پینلز کی تیاری اور فروخت کے حوالے نقطہ عروج پر تھی۔</p>
<p>تب سے اب تک اس اس کے مارکیٹ شیئر میں 70 فیصد کمی واقع ہوچکی ہے اور اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ دنیا بھر میں سولر پینلز کے مینوفیکچررز بڑھے ہیں اور رسد نے طلب کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔</p>
<p>مسابقت بہت بڑھ چکی ہے۔ ایسے میں دوسرے بہت سے اداروں کی طرح لونگی کے لیے بھی سولر انرجی سیکٹر میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنا انتہائی دشوار ہوچکا ہے۔ کمپنی نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ وہ ہزاروں ملازمین کو فارغ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔</p>
<p>چین میں بیٹری اسٹوریج کا شعبہ تیزی سے فروغ پارہا ہے۔ گزشتہ سال اس کی کارکردگی میں 400 فیصد اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں سن گرو کو بھی پنپنے کا موقع ملا ہے۔ اس سیگمنٹ کی آمدنی میں اس کا شیئر 2022 میں ایک چوتھائی رہا۔ سن گروپ نے جنوری میں  کہا تھا کہ اسے 2023 کی آمدنی میں 187 فیصد اضافے کی توقع ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30364049"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>جمعہ کو لونگی کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن گر کر 21 ارب ڈالر کی سطح پر آگئی جس کے نتیجے میں سن گرو اس سے آگے نکل گئی ہے۔</p>
<p>بلوم برگ نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ 2018 سے اب تک لونگی سولر انڈسٹری کی 13 بڑی کمپنیوں میں رہی ہے۔ دونوں ادارے اپنی مجموعی قدر کے لحاط سے چین میں قائدانہ حٰثیت کی حامل (تیل اور گیس پیدا کرنے والی) انرجی فرم پیٹرو چائنا کمپنی سے ذرا ہی پیچھے ہیں۔</p>
<p>منگل کو سن گرو نے چین کے شینزین اسٹاک ایکچینج میں 1.1 فیصد بڑھوتری دکھائی جبکہ شنگھائی میں لونگی کے شیئرز کی ویلیو میں 0.9 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30378217</guid>
      <pubDate>Thu, 28 Mar 2024 12:34:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/03/281223016fe6300.webp" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/03/281223016fe6300.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
