<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 02:51:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 02:51:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اذان میں تبدیلی سے متعلق شارجہ انتظامیہ نے وضاحت کر دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30378237/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شارجہ شہر کی انتظامیہ نے اذان کی تبدیلی سے متلق تبدیلیوں کی خبروں پر ردعمل دے دیا ہے، اتنطامیہ نے ان تمام خبروں کی تردید کرتے ہوئے فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف سخت ایکشن کا عندیہ دے دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے شارجہ کے حکومتی میڈیا آفس کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے، جس میں شہریوں سے کسی بھی خبر کو شئیر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرنے پر زور دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیونٹی ممبران خبر کی تصدیق کے لیے اس کے ذرائع کو ویرافائی کریں اور افواہوں کو شئیر کرنے سے گریز کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتھارٹی کا مزید کہنا تھا کہ شارجہ میں حال ہی میں اذان کی تبدیلی سے متعلق خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے، جبکہ یہ امارات کے مذہبی ویلیوز کے بھی منافی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30367498"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے متحدہ عرب میں امارات میں فیک نیوز پھیلانے کے حوالے سے سخت قانون موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرٹیکل 52، فیڈرل ڈیکری قانون نمبر 34، 2021 کے مطابق کوئی بھی شخص، فیک نیوز، افواہ، مس لیڈنگ انفارمیشن کو انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے شئیر کرے گا، تو اسے کم از کم ایک سال قید کی سزا کے ساتھ ساتھ 1 لاکھ درہم جرمانہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب کرائسز، ڈیزاسٹرر یا پینڈیمک کی صورتحال میں ریاست کے خلاف فیک نیوز یا پھر ریاست مخالف پبلک آپینئین پر مجرم کو کم از کم 2 سال قید اور 2 لاکھ درہم جرمانہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شارجہ شہر کی انتظامیہ نے اذان کی تبدیلی سے متلق تبدیلیوں کی خبروں پر ردعمل دے دیا ہے، اتنطامیہ نے ان تمام خبروں کی تردید کرتے ہوئے فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف سخت ایکشن کا عندیہ دے دیا۔</strong></p>
<p>اس حوالے سے شارجہ کے حکومتی میڈیا آفس کی جانب سے بیان جاری کیا گیا ہے، جس میں شہریوں سے کسی بھی خبر کو شئیر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرنے پر زور دیا گیا ہے۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا ہے کہ کمیونٹی ممبران خبر کی تصدیق کے لیے اس کے ذرائع کو ویرافائی کریں اور افواہوں کو شئیر کرنے سے گریز کریں۔</p>
<p>اتھارٹی کا مزید کہنا تھا کہ شارجہ میں حال ہی میں اذان کی تبدیلی سے متعلق خبر میں کوئی صداقت نہیں ہے، جبکہ یہ امارات کے مذہبی ویلیوز کے بھی منافی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30367498"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واضح رہے متحدہ عرب میں امارات میں فیک نیوز پھیلانے کے حوالے سے سخت قانون موجود ہے۔</p>
<p>آرٹیکل 52، فیڈرل ڈیکری قانون نمبر 34، 2021 کے مطابق کوئی بھی شخص، فیک نیوز، افواہ، مس لیڈنگ انفارمیشن کو انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہوئے شئیر کرے گا، تو اسے کم از کم ایک سال قید کی سزا کے ساتھ ساتھ 1 لاکھ درہم جرمانہ ہوگا۔</p>
<p>دوسری جانب کرائسز، ڈیزاسٹرر یا پینڈیمک کی صورتحال میں ریاست کے خلاف فیک نیوز یا پھر ریاست مخالف پبلک آپینئین پر مجرم کو کم از کم 2 سال قید اور 2 لاکھ درہم جرمانہ ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30378237</guid>
      <pubDate>Thu, 28 Mar 2024 17:41:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/03/281335472a69c74.png?r=133732" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/03/281335472a69c74.png?r=133732"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
