<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 23:42:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 23:42:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملٹی وٹامنز، نیچرل ہیلتھ پروڈکٹس پر 20 فیصد درآمدی ڈیوٹی نافذ</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30378248/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کسٹمز کلاسیفکیشن کمیٹی نے ملٹی وٹامنز، نیچرل ہیلتھ پروڈکٹس اور فوڈ سپلیمنٹس کی درآمد پر 20 فیصد ڈیوٹی نافذ کردی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے درآمد کنندگان کی طرف سے ان تمام پروڈکٹس پر درآمدی ڈیوٹی 11 فیصد تک رکھنے کی درخواست مسترد کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درآمد شدہ ملٹی وٹامنز، نیچرل ہیلتھ پروڈکٹس اور فوڈ سپلیمنٹس چاہے کسی بھی ہیڈنگ کے تحت ہوں، ان پر 20 فیصد درآمدی ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو آئٹمز پاکستان کسٹمز ٹیرف کی ہیڈنگ 3004.5090 کے تحت ہوں اُن پر 11 فیصد کسٹم ڈیوٹی لی جائے گی۔ پی سی ٹی ہیڈنگ 2106.9090 میں شامل اشیا پر 20 فیصد ڈیوٹی لی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے کلیکٹریٹ آف کسٹمز نے بتایا کہ میسر بیس سکس نے ایک کنسائنمنٹ درآمد کی۔ درآمدی تاجر نے تمام پروڈکٹس کو ایچ ایس کوڈ 3004.5090 کے تحت ظاہر کیا جبکہ انہیں ایچ ایس کوڈ 2106.9090 کے تحت ظاہر کیا جانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30371562"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپریزمنٹ گروپ کا کہنا ہے کہ درآمد شدہ ملٹی وٹامنز فوڈ سپلیمنٹس ہیں جنہیں پی سی ٹی ہیڈنگ 2106.9090 کے تحت سامنے لانا لازم تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کلیکٹریٹ کا موقف تھا کہ درآمد شدہ اشیا کی درجہ بندی غلط کی گئی ہے۔ کمیٹی کی رائے یہ ہے کہ تجزیے سے معلوم ہوا کہ درآمد شدہ اشیا علاج کے نقطہ نظر سے نہیں منگوائی گئیں بلکہ وہ عمومی صحت بہتر بنانے کے مقصد کے تحت منگوائی گئی ہیں۔ ان تمام پروڈکٹس کو پی سی ٹی ہیڈنگ 2106 کے تحت رکھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی کسٹمز کلاسیفکیشن کمیٹی نے ملٹی وٹامنز، نیچرل ہیلتھ پروڈکٹس اور فوڈ سپلیمنٹس کی درآمد پر 20 فیصد ڈیوٹی نافذ کردی ہے۔</strong></p>
<p>کمیٹی نے درآمد کنندگان کی طرف سے ان تمام پروڈکٹس پر درآمدی ڈیوٹی 11 فیصد تک رکھنے کی درخواست مسترد کردی۔</p>
<p>درآمد شدہ ملٹی وٹامنز، نیچرل ہیلتھ پروڈکٹس اور فوڈ سپلیمنٹس چاہے کسی بھی ہیڈنگ کے تحت ہوں، ان پر 20 فیصد درآمدی ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی۔</p>
<p>جو آئٹمز پاکستان کسٹمز ٹیرف کی ہیڈنگ 3004.5090 کے تحت ہوں اُن پر 11 فیصد کسٹم ڈیوٹی لی جائے گی۔ پی سی ٹی ہیڈنگ 2106.9090 میں شامل اشیا پر 20 فیصد ڈیوٹی لی جائے گی۔</p>
<p>لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے کلیکٹریٹ آف کسٹمز نے بتایا کہ میسر بیس سکس نے ایک کنسائنمنٹ درآمد کی۔ درآمدی تاجر نے تمام پروڈکٹس کو ایچ ایس کوڈ 3004.5090 کے تحت ظاہر کیا جبکہ انہیں ایچ ایس کوڈ 2106.9090 کے تحت ظاہر کیا جانا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30371562"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اپریزمنٹ گروپ کا کہنا ہے کہ درآمد شدہ ملٹی وٹامنز فوڈ سپلیمنٹس ہیں جنہیں پی سی ٹی ہیڈنگ 2106.9090 کے تحت سامنے لانا لازم تھا۔</p>
<p>کلیکٹریٹ کا موقف تھا کہ درآمد شدہ اشیا کی درجہ بندی غلط کی گئی ہے۔ کمیٹی کی رائے یہ ہے کہ تجزیے سے معلوم ہوا کہ درآمد شدہ اشیا علاج کے نقطہ نظر سے نہیں منگوائی گئیں بلکہ وہ عمومی صحت بہتر بنانے کے مقصد کے تحت منگوائی گئی ہیں۔ ان تمام پروڈکٹس کو پی سی ٹی ہیڈنگ 2106 کے تحت رکھا جانا چاہیے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30378248</guid>
      <pubDate>Thu, 28 Mar 2024 14:18:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/03/28141605bf8cc41.webp?r=141833" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/03/28141605bf8cc41.webp?r=141833"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
