<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 02:44:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 02:44:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت نے سولر پینل کی درآمد پر پابندی کا اعلان کردیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30378816/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت نے یکم اپریل سے سولر ماڈیولز (پینلز) کی درآمد پر پابندی کا اعلان کردیا ہے، جس کا مقصد مقامی طلب کو پورا کرنا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی حکومت کی جانب سے 31 مارچ 2024 سے شروع کیے جانے والے سولر پروجیکٹس کو ماڈلز اور مینوفیکچررز کی منظور شدہ فہرست سے سولر ماڈیولز حاصل کرنے کی لازمی شرط سے مستثنیٰ قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں بھارت نے ایک شرط عائد کی تھی جس کے مطابق سولر پروجیکٹ کے ڈویلپرز کو مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے منظور شدہ فہرست سے ماڈیول خریدنا لازمی بنا دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب مودی حکومت اس شرط کو واپس لا رہی ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہ مقامی انڈسٹری بڑھ رہی ہے اور حکومت کو اس کی حمایت کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30376216"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری میں، حکومت نے کہا تھا کہ منظور شدہ فہرست کی پابندی یکم اپریل سے دوبارہ شروع ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فہرست سے استثنا ان منصوبوں کو بھی فراہم کیا گیا تھا جو مکمل ہونے کے قریب تھے، جنہوں نے مارچ کے آخر سے پہلے کریڈٹ لائن کھول دی تھی یا درآمد کے لیے ماڈیولز کے آرڈر دیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اس حکم کو روک دیا گیا تھا اور پابندی کو دوبارہ نافذ کرنے کے تازہ ترین حکم میں ان میں سے کسی بھی چھوٹ کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30377908"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکوم انڈیا ریسرچ کے مطابق، دسمبر 2023 تک بھارت کی مجموعی سولر ماڈیول مینوفیکچرنگ کی صلاحیت 64.5 گیگا واٹ تک پہنچ گئی تھی اور سولر سیل مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کل 5.8 گیگا واٹ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقی فرم کے مطابق ماڈیول مینوفیکچرنگ کی صلاحیت 150 گیگاواٹ سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، اور سیل کی صلاحیت 2026 تک 75 گیگاواٹ تک پہنچنے کی امید ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت نے یکم اپریل سے سولر ماڈیولز (پینلز) کی درآمد پر پابندی کا اعلان کردیا ہے، جس کا مقصد مقامی طلب کو پورا کرنا ہے۔</strong></p>
<p>بھارتی حکومت کی جانب سے 31 مارچ 2024 سے شروع کیے جانے والے سولر پروجیکٹس کو ماڈلز اور مینوفیکچررز کی منظور شدہ فہرست سے سولر ماڈیولز حاصل کرنے کی لازمی شرط سے مستثنیٰ قرار دیا تھا۔</p>
<p>2021 میں بھارت نے ایک شرط عائد کی تھی جس کے مطابق سولر پروجیکٹ کے ڈویلپرز کو مقامی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لیے منظور شدہ فہرست سے ماڈیول خریدنا لازمی بنا دیا گیا تھا۔</p>
<p>اب مودی حکومت اس شرط کو واپس لا رہی ہے کیونکہ اس کا خیال ہے کہ مقامی انڈسٹری بڑھ رہی ہے اور حکومت کو اس کی حمایت کی ضرورت ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30376216"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فروری میں، حکومت نے کہا تھا کہ منظور شدہ فہرست کی پابندی یکم اپریل سے دوبارہ شروع ہو جائے گی۔</p>
<p>اس فہرست سے استثنا ان منصوبوں کو بھی فراہم کیا گیا تھا جو مکمل ہونے کے قریب تھے، جنہوں نے مارچ کے آخر سے پہلے کریڈٹ لائن کھول دی تھی یا درآمد کے لیے ماڈیولز کے آرڈر دیے تھے۔</p>
<p>تاہم، اس حکم کو روک دیا گیا تھا اور پابندی کو دوبارہ نافذ کرنے کے تازہ ترین حکم میں ان میں سے کسی بھی چھوٹ کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30377908"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مرکوم انڈیا ریسرچ کے مطابق، دسمبر 2023 تک بھارت کی مجموعی سولر ماڈیول مینوفیکچرنگ کی صلاحیت 64.5 گیگا واٹ تک پہنچ گئی تھی اور سولر سیل مینوفیکچرنگ کی صلاحیت کل 5.8 گیگا واٹ تھی۔</p>
<p>تحقیقی فرم کے مطابق ماڈیول مینوفیکچرنگ کی صلاحیت 150 گیگاواٹ سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، اور سیل کی صلاحیت 2026 تک 75 گیگاواٹ تک پہنچنے کی امید ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30378816</guid>
      <pubDate>Sun, 31 Mar 2024 20:14:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/03/31201228c632ff4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/03/31201228c632ff4.jpg"/>
        <media:title>تصویر: روئٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
