<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 22:47:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 22:47:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پشاور میں عید کی تیاریاں، خواتین میں کُھسّے زیادہ مقبول</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30379442/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملک کے دوسرے حصوں کی طرح پشاور میں بھی عید کی تیاریاں نقطہ عروج پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہیں۔ پشاور کے بازاروں میں زبردست گہماگہمی ہے۔ کیا مرد اور کیا خواتین، کیا بچے اور کیا بوڑھے سبھی عیدالفطر کی خوشیاں دوبالا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ رنگینی کا اہتمام کر رہے ہیں۔ ملبوسات پر تو زور ہے ہی، جوتوں، چوڑیوں اور زیورات بھی توجہ سے محروم نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پشاور میں خواتین روایت کو اپناتے ہوئے دیدہ زیب کُھسّے خرید رہی ہیں۔ کڑھائی والے اور کندن کُھسّے خواتین میں زیادہ پسند کیے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہر کاری گروں نے کُھسّوں کے اندر روایت اور جدت کے حسین ملاپ کو فیشن کا حصہ بنادیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خواتین کا کہنا ہے کہ شاندار اور جاذبِ نظر ڈیزائن کی بدولت سارے ہی کُھسّے دل کش دکھائی دیتے ہیں۔ جی چاہتا ہے کہ لباس سے میچنگ نہ ہو تب بھی خرید لیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/T9DZrbyr4DE?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;…&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کُھسّوں کے  کاروبار سے وابستہ دکان داروں کا کہنا ہے کہ سینڈلز، چپل اور جوتیوں کے مقابلے میں کُھسّوں کی قیمت کم ہے اس لیے یہ خواتین میں زیادہ مقبول ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عید ایک ایسا تہوار ہے جس میں خواتین فیشن ٹرینڈز کے ساتھ روایت کو بھی اپناتی ہیں۔ ایسے میں عید کے ملبوسات کے ساتھ کُھسّے پہننے کی روایت بھی مقبول ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملک کے دوسرے حصوں کی طرح پشاور میں بھی عید کی تیاریاں نقطہ عروج پر پہنچتی دکھائی دے رہی ہیں۔ پشاور کے بازاروں میں زبردست گہماگہمی ہے۔ کیا مرد اور کیا خواتین، کیا بچے اور کیا بوڑھے سبھی عیدالفطر کی خوشیاں دوبالا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ رنگینی کا اہتمام کر رہے ہیں۔ ملبوسات پر تو زور ہے ہی، جوتوں، چوڑیوں اور زیورات بھی توجہ سے محروم نہیں۔</strong></p>
<p>پشاور میں خواتین روایت کو اپناتے ہوئے دیدہ زیب کُھسّے خرید رہی ہیں۔ کڑھائی والے اور کندن کُھسّے خواتین میں زیادہ پسند کیے جارہے ہیں۔</p>
<p>ماہر کاری گروں نے کُھسّوں کے اندر روایت اور جدت کے حسین ملاپ کو فیشن کا حصہ بنادیا۔</p>
<p>خواتین کا کہنا ہے کہ شاندار اور جاذبِ نظر ڈیزائن کی بدولت سارے ہی کُھسّے دل کش دکھائی دیتے ہیں۔ جی چاہتا ہے کہ لباس سے میچنگ نہ ہو تب بھی خرید لیے جائیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/T9DZrbyr4DE?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>…</figcaption>
    </figure></p>
<p>کُھسّوں کے  کاروبار سے وابستہ دکان داروں کا کہنا ہے کہ سینڈلز، چپل اور جوتیوں کے مقابلے میں کُھسّوں کی قیمت کم ہے اس لیے یہ خواتین میں زیادہ مقبول ہیں۔</p>
<p>عید ایک ایسا تہوار ہے جس میں خواتین فیشن ٹرینڈز کے ساتھ روایت کو بھی اپناتی ہیں۔ ایسے میں عید کے ملبوسات کے ساتھ کُھسّے پہننے کی روایت بھی مقبول ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30379442</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Apr 2024 14:09:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/04/04140041d78f7f7.webp?r=140921" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/04/04140041d78f7f7.webp?r=140921"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
