<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 21:14:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 21:14:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی بینک نےتوانائی کے شعبے میں خطرے کی گھنٹی بجادی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30379443/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی بینک نے توانائی کے شعبے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی، ادارے نے توانائی شعبے کے نقصانات معیشت کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی بینک کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ توانائی اصلاحات نہ ہوئیں بجلی مزید مہنگی کرناپڑے گی، بجلی کے بڑھتے ریٹ سے غریب طبقے کو بچانا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ ادارے کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ  بجلی کا قرضہ جی ڈی پی کا 2.4 فیصد  تک پہنچ چکا ہے، جنوری 2024 تک پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2635 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ادارے نے توانائی شعبے کے نقصانات معیشت کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ رپورٹ میں گیس سے متعلق بتایا گیا ہے کہ گیس کے شعبے میں سرکلرڈیٹ  2866 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، گیس کے شعبے کا قرضہ معیشت کا  2.7 فیصد  پہنچ چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30379089"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات معیشت کا  0.2 فیصد سے بڑھ کر 0.5 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔ مالی سال2021 میں بجلی کے نقصانات معیشت کا  0.2 فیصد تھے،   مالی سال 2022 میں   ڈسکوز کے نقصانات معیشت کا  0.5 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کے شعبے میں ترسیلی نقصانات کم کرنے کے لیے عالمی بینک معاون ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کے شعبے کی بروقت وصولیاں حکومت پاکستان کوبہتر کرنا ہوں گی، توانائی، انفراسٹرکچر اور مواصلات میں سرکاری نقصانات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کے شعبے میں نقصانات بنیادی طور پر چوری، ترسیل اور تقسیم کی وجہ سے ہوئے  ہیں، پرانا انفراسٹرکچر،صارفین کے ٹیرف پرنظرثانی کرنے میں تاخیر سے نقصانات میں اضافہ ہوا، رواں مالی سال میں بجلی کی قیمت اضافے سے نقصانات کو محدود کرنے میں مدد  ملی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی بینک نے توانائی کے شعبے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی، ادارے نے توانائی شعبے کے نقصانات معیشت کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔</strong></p>
<p>عالمی بینک کا اپنی رپورٹ میں کہنا تھا کہ توانائی اصلاحات نہ ہوئیں بجلی مزید مہنگی کرناپڑے گی، بجلی کے بڑھتے ریٹ سے غریب طبقے کو بچانا ہوگا۔</p>
<p>جبکہ ادارے کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا کہ  بجلی کا قرضہ جی ڈی پی کا 2.4 فیصد  تک پہنچ چکا ہے، جنوری 2024 تک پاور سیکٹر کا گردشی قرضہ 2635 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے۔</p>
<p>تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ادارے نے توانائی شعبے کے نقصانات معیشت کے لیے خطرہ قرار دے دیا ہے۔</p>
<p>جبکہ رپورٹ میں گیس سے متعلق بتایا گیا ہے کہ گیس کے شعبے میں سرکلرڈیٹ  2866 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، گیس کے شعبے کا قرضہ معیشت کا  2.7 فیصد  پہنچ چکا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30379089"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصانات معیشت کا  0.2 فیصد سے بڑھ کر 0.5 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔ مالی سال2021 میں بجلی کے نقصانات معیشت کا  0.2 فیصد تھے،   مالی سال 2022 میں   ڈسکوز کے نقصانات معیشت کا  0.5 فیصد تک پہنچ گئے ہیں۔</p>
<p>توانائی کے شعبے میں ترسیلی نقصانات کم کرنے کے لیے عالمی بینک معاون ہے۔</p>
<p>توانائی کے شعبے کی بروقت وصولیاں حکومت پاکستان کوبہتر کرنا ہوں گی، توانائی، انفراسٹرکچر اور مواصلات میں سرکاری نقصانات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>بجلی کے شعبے میں نقصانات بنیادی طور پر چوری، ترسیل اور تقسیم کی وجہ سے ہوئے  ہیں، پرانا انفراسٹرکچر،صارفین کے ٹیرف پرنظرثانی کرنے میں تاخیر سے نقصانات میں اضافہ ہوا، رواں مالی سال میں بجلی کی قیمت اضافے سے نقصانات کو محدود کرنے میں مدد  ملی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30379443</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Apr 2024 14:25:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (یاسر نذر)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/04/04142442dec5d67.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/04/04142442dec5d67.png"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
