<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Pakistan</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:04:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:04:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور میں پتنگ کی ڈور سے بچانے والا تار کی قیمت بڑھا دی گئی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30379444/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور میں پتنگ کی ڈور سے بچاؤ کے لیے موٹر سائیکل پر لگایا جانے والا حفاظتی تار بیچنے والوں کی چاندی ہوگئی۔ سو سے ڈیڑھ سو روپے والا تار پانچ سے ساڑھے پانچ سو روپے تک میں فروخت ہونے لگا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہریوں کا کہنا ہے کہ منافع خوروں نے کوئی چیز نہیں چھوڑی۔ پتنگ کی ڈور سے بچنے کے لیے استعمال کیا جانے والا تار بھی اب عام آدمی کی جیب پر بوجھ بنتا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی طرف سے پتنگ بازی کے خلاف سخت ایکشن کے بعد ابتدا میں پولیس، ٹریفک اور ضلعی حکومت  کی طرف سے موٹر سائیکل سواروں میں حفاظتی تار مفت تقسیم کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب دکان داروں نے پتنگ کی ڈور سے بچانے والے تار کو بھی منافع خوری کا ذریعہ بنالیا ہے۔ اس تار کی قیمت دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/OqRmzFMAF6A?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;…&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور میں موٹر سائیکل سوار جان بچانے کے لیے حفاظؓتی تار ہر صورت خریدنے پر مجبور ہیں۔ بہت سے شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ تار مفت تقسیم کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہریوں نے پتنگ بازی میں استعمال ہونے والی قاتل ڈور سے سے بچنے کے لیے موٹر سائیکلوں پر حفاظتی تار لگانا شروع کردیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی کے سدباب کے لیے معاشرے کو زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور میں پتنگ کی ڈور سے بچاؤ کے لیے موٹر سائیکل پر لگایا جانے والا حفاظتی تار بیچنے والوں کی چاندی ہوگئی۔ سو سے ڈیڑھ سو روپے والا تار پانچ سے ساڑھے پانچ سو روپے تک میں فروخت ہونے لگا۔</strong></p>
<p>شہریوں کا کہنا ہے کہ منافع خوروں نے کوئی چیز نہیں چھوڑی۔ پتنگ کی ڈور سے بچنے کے لیے استعمال کیا جانے والا تار بھی اب عام آدمی کی جیب پر بوجھ بنتا جارہا ہے۔</p>
<p>حکومت کی طرف سے پتنگ بازی کے خلاف سخت ایکشن کے بعد ابتدا میں پولیس، ٹریفک اور ضلعی حکومت  کی طرف سے موٹر سائیکل سواروں میں حفاظتی تار مفت تقسیم کیے گئے۔</p>
<p>اب دکان داروں نے پتنگ کی ڈور سے بچانے والے تار کو بھی منافع خوری کا ذریعہ بنالیا ہے۔ اس تار کی قیمت دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/OqRmzFMAF6A?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        <figcaption class='media__caption  '>…</figcaption>
    </figure></p>
<p>لاہور میں موٹر سائیکل سوار جان بچانے کے لیے حفاظؓتی تار ہر صورت خریدنے پر مجبور ہیں۔ بہت سے شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ تار مفت تقسیم کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>شہریوں نے پتنگ بازی میں استعمال ہونے والی قاتل ڈور سے سے بچنے کے لیے موٹر سائیکلوں پر حفاظتی تار لگانا شروع کردیا ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی کے سدباب کے لیے معاشرے کو زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30379444</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Apr 2024 14:36:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریاض احمد)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/04/04141840451cd1a.webp?r=142524" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/04/04141840451cd1a.webp?r=142524"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
