<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Business &amp; Economy</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 04:15:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 04:15:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اینگرو نے اپنا کوئلے سے توانائی کا کاروبار بیچ دیا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30379565/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے بزنس ٹائیکون حسین داؤد نے کوئلے سے بجلی تیار کرنے کا اپنا کاروبار بیچ دیا ہے۔ اینگرو انرجی نے کوئلے کی کان کنی اور کوئلے سے بجلی تیار کرنے کا جو سیٹ اپ بیچا ہے وہ پانچ سال سے قوم کو سستی بجلی کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینگرو نے اپنا تھرمل یونٹ لبرٹی پاور ہولڈنگ اور تین پارٹنر کمپنیون کے ایک کنسورشیم کو 34 ارب 75 کروڑ روپے (12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر) میں بیچا ہے۔ پاکستان کی حالیہ کاروباری تاریخ کے چند بڑے سودوں میں سے ایک بارے میں یہ اطلاع کراچی کے بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوم برگ ڈاٹ کام کے مطابق پاکستان میں کوئلے کے ذخائر کی دریافت میں حسین داؤد کا کردار نمایاں رہا ہے۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں لگنائٹ کوئلے کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ یہ ذخائر چینی صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشئیٹو کے تحت دریافت ہوئے ہیں جو 2013 میں لانچ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر برآمدات کے فروغ کے لیے بنیادی ڈھانچے بہتر بنانے کے چینی منصوبے میں پاکستان کو سرمایہ کاری کے حوالے سے بڑا حصہ ملا ہے۔ یہاں 25 ارب ڈالر مالیت کے بجلی گھر اور دیگر منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30358674"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینگرو کا شمار ملک کے بڑے کاروباری گروپس میں ہوتا ہے۔ یہ گروپ کھاد اور کیمکلز کی تیاری کے ساتھ ساتھ ٹیلی کام سیکٹر سے بھی منسلک ہے۔ حسین داؤد نے ذیلی کمپنی حب پاور کمپنی 2018 میں فروخت کی تھی جو 1200 میگاواٹ کا تیل سے چلنے والے بجلی گھر کا نظم و نسق سنبھالتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ تھرمل یعنی کوئلے سے متعلق اثاثے فروخت کرنے سے اینگرو کو سرمائے اور وسائل کے معاملات درست بنانے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیرنٹ کمپنی اینگرو کارپوریشن کے شیئرز ریکارڈ 0.83 فیصد کی سطح پر بند ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے بزنس ٹائیکون حسین داؤد نے کوئلے سے بجلی تیار کرنے کا اپنا کاروبار بیچ دیا ہے۔ اینگرو انرجی نے کوئلے کی کان کنی اور کوئلے سے بجلی تیار کرنے کا جو سیٹ اپ بیچا ہے وہ پانچ سال سے قوم کو سستی بجلی کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔</strong></p>
<p>اینگرو نے اپنا تھرمل یونٹ لبرٹی پاور ہولڈنگ اور تین پارٹنر کمپنیون کے ایک کنسورشیم کو 34 ارب 75 کروڑ روپے (12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر) میں بیچا ہے۔ پاکستان کی حالیہ کاروباری تاریخ کے چند بڑے سودوں میں سے ایک بارے میں یہ اطلاع کراچی کے بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے دی۔</p>
<p>بلوم برگ ڈاٹ کام کے مطابق پاکستان میں کوئلے کے ذخائر کی دریافت میں حسین داؤد کا کردار نمایاں رہا ہے۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں لگنائٹ کوئلے کے بڑے ذخائر موجود ہیں۔ یہ ذخائر چینی صدر شی جن پنگ کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشئیٹو کے تحت دریافت ہوئے ہیں جو 2013 میں لانچ کیا گیا تھا۔</p>
<p>عالمی سطح پر برآمدات کے فروغ کے لیے بنیادی ڈھانچے بہتر بنانے کے چینی منصوبے میں پاکستان کو سرمایہ کاری کے حوالے سے بڑا حصہ ملا ہے۔ یہاں 25 ارب ڈالر مالیت کے بجلی گھر اور دیگر منصوبے مکمل کیے گئے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30358674"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اینگرو کا شمار ملک کے بڑے کاروباری گروپس میں ہوتا ہے۔ یہ گروپ کھاد اور کیمکلز کی تیاری کے ساتھ ساتھ ٹیلی کام سیکٹر سے بھی منسلک ہے۔ حسین داؤد نے ذیلی کمپنی حب پاور کمپنی 2018 میں فروخت کی تھی جو 1200 میگاواٹ کا تیل سے چلنے والے بجلی گھر کا نظم و نسق سنبھالتی ہے۔</p>
<p>ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ تھرمل یعنی کوئلے سے متعلق اثاثے فروخت کرنے سے اینگرو کو سرمائے اور وسائل کے معاملات درست بنانے میں مدد ملے گی۔</p>
<p>پیرنٹ کمپنی اینگرو کارپوریشن کے شیئرز ریکارڈ 0.83 فیصد کی سطح پر بند ہوئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Economy</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30379565</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Apr 2024 11:16:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/04/051109062d90e47.webp?r=111611" type="image/webp" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/04/051109062d90e47.webp?r=111611"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
