<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 19:11:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 19:11:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنارس کی 400 سال پرانی مسجد کا ہندو رکھوالا</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30379758/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور بھارت میں ایسے کئی لوگ موجود ہیں، جو کہ مذہب سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کرتے دکھائی دیتے ہیں، پاکستان میں مسلمان برادری جہاں اقلیتی برادری کے شانہ بشانہ کھڑی دکھائی دیتی ہے، بھارت میں ایسا بہت کم دکھائی دیتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;البتہ بھارت سے تعلق رکھنے والے بیچن بابا بٹوارے سے قبل کی محبت کو آج بھی قائم رکھے ہوئے ہیں اور عام بھارتی انتہا پسندوں سے کہی گناہ بہتر ثابت ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی ریاست وراناسی میں موجود مقامی مسجد اناروالی مسجد جہاں ہندو اور مسلمان ایک ساتھ عبادت کرتے ہیں، اس مسجد کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ایک ہندو شخص کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;72 سالہ ہندو کئیر ٹیکر بیچن بابا مسجد کی دیکھ بھال میں اپنا پورا دن بھی لگا دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں کہ میں یہاں گزشتہ 45 سال سے مسجد کی دیکھ بھال کر رہا ہوں۔ ہندو اور مسلم  دونوں یہاں آتے ہیں اور عبادت کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2024/04/061211226ad8cdd.png'  alt=' ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
تصویر بذریعہ: جیوتی ٹھاکر&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ میرے والد یہاں ہوتے تھے اور ان کے بعد اب میں یہ ذمہ داری نبھا رہا ہوں۔میں یہاں بچپن سے موجود ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30367046"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انار والی مسجد کی حفاظت کا معاملہ ہو یا پھر صاف صفائی ہو، بیچن بابا کسی دوسرے پر انحصار کرنے کے بجائے کام خود سرانجام دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا ہندو مسلم تنازعات سے متعلق کہنا تھا کہ کیا ہوا اگر میں ہندو ہوں! میں مسجد کے لیے کام کرتا رہوں گا، اس کے علاوہ میں کیا کر سکتا ہوں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیچن بابا کی خواہش ہے کہ ان کی آخری سانس بھی اسی مسجد میں نکلے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30344908"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں کہ میں گھر نہیں جاتتا ہوں، میرے بچے صبح کھانا لے آتے ہیں۔ میں پورا دن یہی گزارتا ہوں، مجھے یہاں سکون ملتا ہے۔ میرے بچے گھر پر ہی رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نمازیوں سے متعلق بیچن کا کہنا تھا کہ اس مسجد میں 5 وقت کی نماز پڑھائی جاتی ہے، میرے والد کے وقت میں یہاں نمازیوں کی تعداد کم تھی، تاہم اب کئی گھر بن چکے ہیں اور نمازیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور بھارت میں ایسے کئی لوگ موجود ہیں، جو کہ مذہب سے بالاتر ہو کر انسانیت کی خدمت کرتے دکھائی دیتے ہیں، پاکستان میں مسلمان برادری جہاں اقلیتی برادری کے شانہ بشانہ کھڑی دکھائی دیتی ہے، بھارت میں ایسا بہت کم دکھائی دیتا ہے۔</strong></p>
<p>البتہ بھارت سے تعلق رکھنے والے بیچن بابا بٹوارے سے قبل کی محبت کو آج بھی قائم رکھے ہوئے ہیں اور عام بھارتی انتہا پسندوں سے کہی گناہ بہتر ثابت ہو رہے ہیں۔</p>
<p>بھارتی ریاست وراناسی میں موجود مقامی مسجد اناروالی مسجد جہاں ہندو اور مسلمان ایک ساتھ عبادت کرتے ہیں، اس مسجد کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ایک ہندو شخص کر رہا ہے۔</p>
<p>72 سالہ ہندو کئیر ٹیکر بیچن بابا مسجد کی دیکھ بھال میں اپنا پورا دن بھی لگا دیتے ہیں۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں کہ میں یہاں گزشتہ 45 سال سے مسجد کی دیکھ بھال کر رہا ہوں۔ ہندو اور مسلم  دونوں یہاں آتے ہیں اور عبادت کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2024/04/061211226ad8cdd.png'  alt=' ' /></picture></div>
        
    </figure>
تصویر بذریعہ: جیوتی ٹھاکر</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ میرے والد یہاں ہوتے تھے اور ان کے بعد اب میں یہ ذمہ داری نبھا رہا ہوں۔میں یہاں بچپن سے موجود ہوں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30367046"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انار والی مسجد کی حفاظت کا معاملہ ہو یا پھر صاف صفائی ہو، بیچن بابا کسی دوسرے پر انحصار کرنے کے بجائے کام خود سرانجام دیتے ہیں۔</p>
<p>ان کا ہندو مسلم تنازعات سے متعلق کہنا تھا کہ کیا ہوا اگر میں ہندو ہوں! میں مسجد کے لیے کام کرتا رہوں گا، اس کے علاوہ میں کیا کر سکتا ہوں؟</p>
<p>جبکہ غیر ملکی میڈیا کے مطابق بیچن بابا کی خواہش ہے کہ ان کی آخری سانس بھی اسی مسجد میں نکلے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30344908"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وہ کہتے ہیں کہ میں گھر نہیں جاتتا ہوں، میرے بچے صبح کھانا لے آتے ہیں۔ میں پورا دن یہی گزارتا ہوں، مجھے یہاں سکون ملتا ہے۔ میرے بچے گھر پر ہی رہتے ہیں۔</p>
<p>نمازیوں سے متعلق بیچن کا کہنا تھا کہ اس مسجد میں 5 وقت کی نماز پڑھائی جاتی ہے، میرے والد کے وقت میں یہاں نمازیوں کی تعداد کم تھی، تاہم اب کئی گھر بن چکے ہیں اور نمازیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30379758</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Apr 2024 12:16:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/04/061210453c58b43.png?r=121152" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/04/061210453c58b43.png?r=121152"/>
        <media:title>تصویر بذریعہ: جیوتی ٹھاکر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
