<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - News</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 11:43:11 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 11:43:11 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ نے ویزے کیلئے کم از کم آمدن کی سطح بڑھا دی</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30380646/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;برطانیہ میں رہائش کا خواب دیکھنے والے افراد کے لیے بُری خبر آ گئی ہے، جہاں برطانیہ نے فیملی میمبرز کو سپانسر کرنے کے لیے کم از کم آمدنی کی شرط کو بڑھا دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ نے ملک میں امیگریشن سے متعلق پالیسی میں مزید سختی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فیملی ویزا پر فیملی اسپانسر کرنے کے لیے کم از کم آمدنی بڑھا کر 29 ہزار برطانوی پاؤنڈز کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو کہ پاکستانی تقریبا 1 کروڑ سے زائد کی رقم بنتی ہے، آمدنی کی رقم میں یکدم 55 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، اس سے قبل رقم 18 ہزار 600 پاؤنڈز تھی جو کہ 64 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد بنتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے برطانوی ہوم آفس کا کہنا تھا کہ درخواستگزار کے اسپانسرنگ فیملی ممبر اگر برطانیہ میں اجازت کے ساتھ کام کر رہے ہیں، انہیں اب ضروری ہے کہ وہ برطانیہ میں 29 ہزار برطانوی پاؤنڈک کماتے ہوں۔ یہ ریکوائرمنٹ کئی طرح سے ہو سکتی ہے، بشمول بچت خصوصی طور پر ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30359923"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ قدم وزیر اعظم سونک کی جانب سے قانونی طور پر برطانیہ میں امیگریشن کو کم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، جبکہ جو برطانیہ آ رہے ہیں، وہ ٹیکس پئیر پر بوجھ نہ بنیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوم سیکریٹری جیمز کلیورلی کہتے ہیں کہ بڑے پیماے پر امیگریشن کے ساتھ ہم ایک اہم پوائنٹ پر پہنچے ہیں۔یہ آسان فیصلہ نہیں ہے جو تعداد کو برطانیہ کے عوام کے لیے قابل قبول سطح تک کم کر دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے اس سے قبل 2022 میں حکومت کی جانب سے امیگریشن پالیسی سخت کر دی گئی تھی، پالیسی میں سختی جاری اعداد و شمار کے باعث کی گئی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ لیگل نیٹ امیگریشن 7 لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>برطانیہ میں رہائش کا خواب دیکھنے والے افراد کے لیے بُری خبر آ گئی ہے، جہاں برطانیہ نے فیملی میمبرز کو سپانسر کرنے کے لیے کم از کم آمدنی کی شرط کو بڑھا دیا ہے۔</strong></p>
<p>برطانیہ نے ملک میں امیگریشن سے متعلق پالیسی میں مزید سختی کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ فیملی ویزا پر فیملی اسپانسر کرنے کے لیے کم از کم آمدنی بڑھا کر 29 ہزار برطانوی پاؤنڈز کر دی ہے۔</p>
<p>جو کہ پاکستانی تقریبا 1 کروڑ سے زائد کی رقم بنتی ہے، آمدنی کی رقم میں یکدم 55 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، اس سے قبل رقم 18 ہزار 600 پاؤنڈز تھی جو کہ 64 لاکھ پاکستانی روپے سے زائد بنتے ہیں۔</p>
<p>اس حوالے سے برطانوی ہوم آفس کا کہنا تھا کہ درخواستگزار کے اسپانسرنگ فیملی ممبر اگر برطانیہ میں اجازت کے ساتھ کام کر رہے ہیں، انہیں اب ضروری ہے کہ وہ برطانیہ میں 29 ہزار برطانوی پاؤنڈک کماتے ہوں۔ یہ ریکوائرمنٹ کئی طرح سے ہو سکتی ہے، بشمول بچت خصوصی طور پر ۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30359923"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ قدم وزیر اعظم سونک کی جانب سے قانونی طور پر برطانیہ میں امیگریشن کو کم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے، جبکہ جو برطانیہ آ رہے ہیں، وہ ٹیکس پئیر پر بوجھ نہ بنیں۔</p>
<p>ہوم سیکریٹری جیمز کلیورلی کہتے ہیں کہ بڑے پیماے پر امیگریشن کے ساتھ ہم ایک اہم پوائنٹ پر پہنچے ہیں۔یہ آسان فیصلہ نہیں ہے جو تعداد کو برطانیہ کے عوام کے لیے قابل قبول سطح تک کم کر دے۔</p>
<p>واضح رہے اس سے قبل 2022 میں حکومت کی جانب سے امیگریشن پالیسی سخت کر دی گئی تھی، پالیسی میں سختی جاری اعداد و شمار کے باعث کی گئی تھی، جس میں بتایا گیا تھا کہ لیگل نیٹ امیگریشن 7 لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30380646</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Apr 2024 15:17:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/04/12151449ad07877.png?r=151718" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/04/12151449ad07877.png?r=151718"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
