<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - World</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 13:50:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 13:50:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قرآن کی تعلیم دینے پر خلیجی ریاست میں جرمانہ عائد</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30380788/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;متحدہ عرب امارات میں جہاں رمضان کے موقع پر علمائے کرام کو عیدی سمیت الاؤنس دیے گئے وہیں نجی طور پر چلنے والے مدرسے اور قرآن پڑھانے والے اساتذہ سے متعلق واضح وارننگ دے دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عرب میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات نے پرائیوٹ قرآن کی کلاسز سے متعلق سخت قوانین کے ساتھ ساتھ اب جرمانہ بھی عائد کرنا شروع کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق پرائیوٹ قرآن کی کلاسز کے دوران قوانین کی خلاف ورزی پر 50 ہزار درہم جرمانے سمیت قید کی سزا بھی دینے کا عندیہ دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے اماراتی حکومت کی جانب سے مخصوص پالیسیز کے تحت پروائیوٹ سینٹرز کو کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30378237"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل 2017 میں فیڈرل نیشنل کاؤنسل کی جانب سے قانون پاس کیا گیا تھا، جس کے تحت بنا لائسنس یا بنا اجازت کے چلنے والے قرآن حفظ کرنے کے اداروں کو بند کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ اس کے بعد ایک اور قانون سب کی توجہ حاصل کر گیا تھا، جس میں لائسنس کے بنا مساجد میں حفظ قرآن، مذہبی تعلیمات، مذہبی کتابوں تقسیم، سمیت زکوٰۃ جمع کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس سب میں حکومت کی جانب سے حفظ قرآن کے پرائیوٹ سینٹرز کو اجازت بھی دی گئی ہے، لیکن اس حوالے سے واضح گائڈلائنز بھی دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گائڈلائنز کے مطابق پرائیوٹ سینٹرز چلانے کا اہل وہی شخص ہوگا جس کی عمر 21 سال سے کم نہ ہوئے، درخواستگزار متحدہ عرب امارات کا شہری ہو، جبکہ شہری کے پاس اچھا برتاؤ کا سرٹیفیکٹ ہونا لازمی ہے، جبکہ درخواستگزار  اس سے قبل کسی بھی طرح سے سزا کا مرتکب نہ ہوا ہو۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>متحدہ عرب امارات میں جہاں رمضان کے موقع پر علمائے کرام کو عیدی سمیت الاؤنس دیے گئے وہیں نجی طور پر چلنے والے مدرسے اور قرآن پڑھانے والے اساتذہ سے متعلق واضح وارننگ دے دی ہے۔</strong></p>
<p>عرب میڈیا کے مطابق متحدہ عرب امارات نے پرائیوٹ قرآن کی کلاسز سے متعلق سخت قوانین کے ساتھ ساتھ اب جرمانہ بھی عائد کرنا شروع کر دیا ہے۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق پرائیوٹ قرآن کی کلاسز کے دوران قوانین کی خلاف ورزی پر 50 ہزار درہم جرمانے سمیت قید کی سزا بھی دینے کا عندیہ دیا گیا ہے۔</p>
<p>واضح رہے اماراتی حکومت کی جانب سے مخصوص پالیسیز کے تحت پروائیوٹ سینٹرز کو کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30378237"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس سے قبل 2017 میں فیڈرل نیشنل کاؤنسل کی جانب سے قانون پاس کیا گیا تھا، جس کے تحت بنا لائسنس یا بنا اجازت کے چلنے والے قرآن حفظ کرنے کے اداروں کو بند کردیا جائے گا۔</p>
<p>جبکہ اس کے بعد ایک اور قانون سب کی توجہ حاصل کر گیا تھا، جس میں لائسنس کے بنا مساجد میں حفظ قرآن، مذہبی تعلیمات، مذہبی کتابوں تقسیم، سمیت زکوٰۃ جمع کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔</p>
<p>تاہم اس سب میں حکومت کی جانب سے حفظ قرآن کے پرائیوٹ سینٹرز کو اجازت بھی دی گئی ہے، لیکن اس حوالے سے واضح گائڈلائنز بھی دی گئی ہیں۔</p>
<p>گائڈلائنز کے مطابق پرائیوٹ سینٹرز چلانے کا اہل وہی شخص ہوگا جس کی عمر 21 سال سے کم نہ ہوئے، درخواستگزار متحدہ عرب امارات کا شہری ہو، جبکہ شہری کے پاس اچھا برتاؤ کا سرٹیفیکٹ ہونا لازمی ہے، جبکہ درخواستگزار  اس سے قبل کسی بھی طرح سے سزا کا مرتکب نہ ہوا ہو۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30380788</guid>
      <pubDate>Sat, 13 Apr 2024 17:42:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/04/13173831c20e416.png?r=174252" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/04/13173831c20e416.png?r=174252"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
