<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV - Technology</title>
    <link>https://www.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 19:53:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 19:53:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سولر پینلز سے زہریلے مادے خارج ہونے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.aaj.tv/news/30381514/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ملک کے مختلف علاقوں خصوصاً بلوچستان میں بارشوں اور ژالہ باری کا سلسلہ جاری ہے، جس سے سولر پینلز کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور ان سے زہریلا مواد خارج ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ امریکا میں جب ژالہ باری کے باعث سولر پینلز کو نقصان پہنچا تو حکومت کی جانب سے متاثرہ پینلز سے کیڈمیم ٹیلرائڈ کے رسنے اور پانی کو زہریلا کرنے کے خطرے سے خبردار کیا گیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ میں نصب زیادہ تر سولر پینلز سلیکون سے بنے ہوتے ہیں جو کہ ایک ایسا مادہ جو ہر جگہ ریت اور کوارٹج میں پایا جاتا ہے، یہ شیشے کے برتن، کاؤنٹر ٹاپس، کھلونوں اور کمپیوٹر کے آلات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم امریکہ کی سولر انرجی انڈسٹریز ایسوسی ایشن (ایس ای آئی اے) نے سیلڈ شفاف پلاسٹک کی دو چادروں کے درمیان موجود، ٹمپرڈ شیشے میں ڈھکے ہوئے اور پشت پر پلاسٹک یا شیشے کی ایک اور تہہ کے ساتھ نصب پینلز سے زہریلے مواد کے رسنے کا امکان خارج کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30380411"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای آئی اے نے کہا کہ ’اگر شیشہ ٹوٹ جائے اور اسے چھوئے بغیر ری سائیکل کیا جائے تو بھی ٹوٹے ہوئے پینلز سے کسی بھی قسم کا مادہ نکالنے میں کئی دہائیاں لگ جائیں گی۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ملک کے مختلف علاقوں خصوصاً بلوچستان میں بارشوں اور ژالہ باری کا سلسلہ جاری ہے، جس سے سولر پینلز کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور ان سے زہریلا مواد خارج ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ امریکا میں جب ژالہ باری کے باعث سولر پینلز کو نقصان پہنچا تو حکومت کی جانب سے متاثرہ پینلز سے کیڈمیم ٹیلرائڈ کے رسنے اور پانی کو زہریلا کرنے کے خطرے سے خبردار کیا گیا تھا۔</strong></p>
<p>امریکہ میں نصب زیادہ تر سولر پینلز سلیکون سے بنے ہوتے ہیں جو کہ ایک ایسا مادہ جو ہر جگہ ریت اور کوارٹج میں پایا جاتا ہے، یہ شیشے کے برتن، کاؤنٹر ٹاپس، کھلونوں اور کمپیوٹر کے آلات میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔</p>
<p>تاہم امریکہ کی سولر انرجی انڈسٹریز ایسوسی ایشن (ایس ای آئی اے) نے سیلڈ شفاف پلاسٹک کی دو چادروں کے درمیان موجود، ٹمپرڈ شیشے میں ڈھکے ہوئے اور پشت پر پلاسٹک یا شیشے کی ایک اور تہہ کے ساتھ نصب پینلز سے زہریلے مواد کے رسنے کا امکان خارج کردیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.aaj.tv/news/card/30380411"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایس ای آئی اے نے کہا کہ ’اگر شیشہ ٹوٹ جائے اور اسے چھوئے بغیر ری سائیکل کیا جائے تو بھی ٹوٹے ہوئے پینلز سے کسی بھی قسم کا مادہ نکالنے میں کئی دہائیاں لگ جائیں گی۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category>Technology</category>
      <guid>https://www.aaj.tv/news/30381514</guid>
      <pubDate>Thu, 18 Apr 2024 09:34:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.aaj.tv/large/2024/04/180933175e4e0d8.jpg?r=093412" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.aaj.tv/thumbnail/2024/04/180933175e4e0d8.jpg?r=093412"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
